Friday, January 21, 2022  | 17 Jamadilakhir, 1443

نورمقدم کیس:والدین جانتےتھےظاہرنےلڑکی کویرغمال بنایاہے،فیصلہ

SAMAA | - Posted: Sep 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 29, 2021 | Last Updated: 4 months ago
noor-mukadam

فائل فوٹو

نور مقدم کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بادی النظر میں ظاہر جعفر کے والدین اعانت جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ والدین جانتے تھے کہ ملزم ظاہر جعفر نے لڑکی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آج بروز بدھ 29 ستمبر کو نور مقدم قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت پر رہائی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آج ہونے والی سماعت میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا گیا۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہیں۔ نور مقدم کیس کا ٹرائل 8 ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے، جب کہ پولیس اپنے شواہد جلد عدالت میں پیش کرے۔

بعد ازاں جاری تفصیلی فیصلے میں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرکزی ملزم کے والدین کے پاس معلومات ہونے کے باوجود انہوں نے پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ چوکیدار واضح کہہ چکا ہے کہ اس نے ذاکر جعفر کو اطلاع دی تھی۔ تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اعانت قتل بھی قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرم میں اعانت کیلئے ڈائریکٹ معاونت کے شواہد ہونا بطور اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہو سکتا۔ اعانت جرم اِن ڈائریکٹ بھی ہو سکتی ہے جس کیلئے واقعاتی شواہد کافی ہیں۔ بلیک لا ڈکشنری کے مطابق اپنا فرض ادا نہ کرنے بھی اعانت جرم ہے۔ ظاہر جعفر نے بیان میں کہا اس نے والد کو قتل سے پہلے آگاہ کیا تھا۔

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے مزید لکھا ہے کہ ظاہر جعفر کا بیان قابل قبول ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ نے کرنا ہے۔ چوکیدار کی اطلاع کے بعد زاکر جعفر نے تھیراپی ورکس کے مالک کو آگاہ کیا۔ تھیراپی ورکس کو اطلاع ملنے کے بعد بھی پولیس کو اطلاع دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ قابل ضمانت دفعات پر بھی بعض معاملات کے ہوتے ضمانت مسترد ہوسکتی ہے۔ ملزمان کے شواہد یا گواہان پر اثرانداز ہونے کا امکان ہو تو ضمانت مسترد ہو سکتی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ظاہر جعفر کے والدین نے شواہد چھپانے اور کرائم سین صاف کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد ذاکر جعفر اور عصمت جعفر کی درخواست ضمانت پر فیصلہ 23 ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔

اپنے ریمارکس میں جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ یہ کیس ہمارے ملک میں کرمنل کیسز کا مستقبل طے کرے گا، واقعاتی شواہد کو کیسے جوڑنا ہے اسے سب نے دیکھنا ہے۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں نور مقدم کے وکیل شاہ خاور نے کہا تھا کہ ہم نے کیس میں غیر ضروری گواہان کو شامل نہیں کیا۔18 گواہ ہیں جس میں پرائیویٹ گواہ 2 ہی ہیں۔ ہم انتہائی جلدی ٹرائل مکمل کر لیں گے ضمانت نہ دی جائے۔

شاہ خاور ایڈووکیٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شواہد کے مطابق والدین ملزم سے رابطے میں تھے، جرم سے ان کا تعلق ہے۔ ہم ٹرائل میں جو شواہد لائیں گے اس پر وہ جرح کر لیں گے۔ یہ انتہائی بہیمانہ قتل تھا اس میں ضمانت نہ دی جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube