Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

لاہور: توہین رسالتؐ کا جرم ثابت، خاتون کو سزائے موت

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

لاہور کی مقامی عدالت نے توہین رسالتﷺ کا جرم ثابت ہونے پر مقامی اسکول کی پرنسپل کو سزائے موت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

ایف آئی آر کے مطابق لاہور کے علاقے بہادر آباد کی مسجد انوار مدینہ کے کے امام قاری افتخار احمد رضا نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ عمر اسکول سسٹم کی پرنسپل سلمیٰ تنویر نے 2 ستمبر 2013ء کو ایک تحریر چھپوائی اور محلے میں تقسیم کی۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس تحریر میں اس نے حضرت محمدﷺ کے خاتم النبیینؐ ہونے سے انکار کیا اور نبی کریمؐ کی شان میں جان بوجھ کر گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔

قاری افتخار احمد رضا کا کہنا ہے کہ خاتون نے نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے خود کو رحمت اللعالمین بھی کہا تھا۔

لاہور کے تھانہ نشتر کالونی میں ستمبر 2013ء میں مقدمہ درج کرکے خاتون کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ایڈیشنل سیشن جج منصور قریشی نے توہین رسالت کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور کی خاتون کو مجرم قرار دیدیا، عدالت نے سلمیٰ تنویر کو سزائے موت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران پراسکیوشن نے 11 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا، جن کی بیانات کی روشنی میں ملزمہ کو مجرم قرار دیا گیا۔

ملزم کے وکیل کے دلائل

ملزم کے وکیل نے عدالت میں استدعا کہ سلمیٰ تنویر نے “اپنا ذہنی توازن کھو دیا ہے” اور اس کیخلاف مقدمہ نہیں چلنا چاہئے کیونکہ ملک کا قانون پاگل لوگوں کو مجرمانہ ذمہ داری سے آزاد کرتا ہے۔

عدالت کے علم میں آیا کہ مبینہ طور پر گستاخانہ فعل کے ایک ماہ بعد ملزم کی ذہنی صحت پر تکرار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزم اپنے اقدام کی نوعیت جاننے کے قابل نہیں ہے۔

خاتون کا پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (پی آئی ایم ایچ) لاہور کے میڈیکل بورڈ سے بھی معائنہ کرایا گیا۔

عدالت نے کہا کہ میڈیل بورڈ جس نے تشخیص کیا کہ خاتون ’’شیزوافیکٹو ڈس آرڈر‘‘ میں مبتلا ہے اور ’’فی الحال مقدمے کی سماعت کیلئے نااہل ہے، نے جرم کے “ایک سال سے زائد عرصے کے بعد” ملزم کی جانچ کی۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سلمیٰ تنویر کی ’’ایبنارملٹی … پاگل پن کے قانونی معیار سے کم ہے‘‘۔

آگے کیا ہوگا

سلمیٰ تنویر پہلے ہی عدالتی حراست میں تھیں، جنہیں عدالت نے سزا پر عملدرآمد کیلئے جیل حکام کے حوالے کردیا۔

تاہم، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں سزائے موت پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لاہور ہائیکورٹ اس کی توثیق نہ کردے۔

عدالت نے سلمیٰ تنویر کو آگاہ کیا ہے کہ وہ 7 دن کے اندر ہائیکورٹ کے سامنے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر سکتی ہے۔

پاکستان میں توہین رسالتؐ کا قانون

تعزیرات پاکستان میں ایک آئینی شق 295 اور 298 کو قانون توہین رسالتؐ کہا جاتا ہے، جن میں سےایک شق 295 (سی) کے تحت سنگین گستاخی کی سزا موت مقرر کی گئی ہے، 295 اے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کو جذباتی اذیت پہنچانے کی سزا کا تعین کرتا ہے جو دس سال تک ہوسکتی ہے۔ اسی طرح 295بی قرآن کریم کی بے حرمتی اور 295 سی رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کی سزا مقرر کرتی ہے، اس کے تحت “پیغمبر اسلام کے خلاف تضحیک آمیز جملے استعمال کرنا، خواہ الفاظ میں، خواہ بول کر، خواہ تحریری، خواہ ظاہری شباہت/پیشکش،یا ان کے بارے میں غیر ایماندارنہ براہ راست یا بالواسطہ بیان دینا، جس سے ان کے بارے میں بُرا، خود غرض یا سخت تاثر پیدا ہو یا انکو نقصان دینے والا تاثر ہو یا ان کے مقدس نام کے بارے میں شکوک و شبہات و تضحیک پیدا کرنا، ان سب کی سزا عمر قید یا موت اور ساتھ میں جرمانہ بھی ہوگا۔

البتہ توہین رسالتؐ کے قانون کے تحت تاحال کسی کو بھی پاکستان میں سزائے موت نہیں نہیں جاسکی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube