Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

کوئٹہ:انٹری ٹیسٹ میں بےضابطگیوں پراحتجاج، طالبہ کی موت

SAMAA | - Posted: Sep 26, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 26, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

کوئٹہ میں میڈیکل کالجز کےانٹری ٹیسٹ میں مبینہ بےضابطگیوں کےخلاف احتجاج میں شریک ایک طالبہ کی حالت بگڑنے کے بعد موت ہوگئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کررہی رپورٹس کے مطابق میڈیکل کالجز کےانٹری ٹیسٹ میں مبینہ بےضابطگیوں کےخلاف احتجاج کرنے والی لڑکی کی موت پولیس کے تشدد ہوئی تاہم اسسٹنٹ کمشنر سٹی محمد زوہیب الحق کا کہنا ہے کہ جس وقت طلبہ کو منتشر کرنے کےلیے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی اس وقت خواتین یا طالبات موجود نہیں تھیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماء اورہانی بلوچ کے کزن اورنگزیب بلوچ نے سماء ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی رشتہ دار طالبہ کی موت کسی تشدد سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں جس کی ہم تردید کرتے ہیں۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ظریف) کےرہنماء ظریف بلوچ نے بتایا کہ کوئٹہ کی رہائشی ہانی بلوچ سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں انگریزی لٹریچر کی طالبہ اور ان کی تنظیم کی متحرک کارکن تھی۔ وہ بلوچ  طلبہ کے حق میں احتجاج میں باقاعدگی سے شریک تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 23 ستمبر کو احتجاج کے دوران طالبہ کی طبیعت بگڑ گئی تھی جبکہ انہیں الٹیاں بھی آئیں جس پر انہیں زور دے کر گھر بھیجا گیا، جہاں اگلے روز گھر میں ان کی موت واقع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہانی بلوچ کی طبیعت پہلے ہی خراب تھی اس کے باوجود وہ احتجاج میں شریک ہوتی تھی۔

ظریف بلوچ مزید کہا کہ ہانی بلوچ کی موت طبعی طور پر ہوئی، ہم انہیں خراج تحسین پیش کرنے کےلئے شمعیں روشن کرینگے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، وزیرداخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے طالبہ کی موت سے متعلق بے بنیاد خبریں پھیلانے کی شدید مذمت کی ہے۔

ترجمان بلوچستان پولیس نے ہانی بلوچ کی موت پر محکمہ پولیس کا موقف دیتے ہوئےکہا کہ ہانی بلوچ کی موت قدرتی ہے پولیس لاٹھی چارج کا اس سے کوئی تعلق نہیں، پولیس نے دوپہر ایک بجے جب مظاہرین کو منشتر کیا تو اس وقت ہانی بلوچ احتجاج میں شریک نہیں تھیں۔ کچھ شرپسندوں کی پروپیگنڈا پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube