Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

مہنگےداموں ڈیسک کی خریداری کیخلاف صوبائی حکومت کی کارروائی

SAMAA | and - Posted: Sep 25, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Sep 25, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

ورک آرڈر کو فوری منسوخ کرنےکا فیصلہ

سندھ کےسرکاری اسکولوں کےلیے ایک ڈیسک کی 29ہزار روپے میں خریداری کا معاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچا تو صوبائی تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور صوبائی وزيرتعليم نے ڈیسکوں کی خریداری کے ورک آرڈر کو فوری منسوخ کرنےکا فیصلہ کرلیا۔

کمیٹی نے ڈیسکوں کی خریداری سیپرا کے مروجہ قوانین کے تحت ڈویزنل سطح پر کرنے کی سفارش کردی ہے جبکہ معاملےکی تحقیقات صوبائی سطح پر مانیٹر کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ جس کےبعد ڈیسکوں کی خریداری قیمتوں کا ازسرنو جائزہ لینے کےبعد نیا ٹینڈر جاری کیا جائے گا۔

سابق صوبائی وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کے دورِ وزارت ميں ایک ڈیسک 29 ہزار میں خریدنےکا ٹھیکا دیا گیا تھا جبکہ مجموعی طور پر یہ رقم 3 ارب کے قریب بنتی تھی۔ گزشتہ ہفتے ڈیسکوں میں کرپشن کےمعاملے پر صوبائی وزیر تعلیم سردار شاہ ازسر نوڈیسک خریداری کااعلان کیا تھا۔

مہنگےداموں ڈیسک کی خریداری، سعیدغنی نے فیصلہ درست قراردیدیا

انہوں نے کہا تھا کہ وزير تعليم سندھ سردار شاہ نے کہا کہ مجھے اس پورے معاملے کا علم نہيں، دستاويزات ہمارے سامنے ہيں، بيٹھ کر ديکھيں گے اور پروکيورمنٹ کميٹی سےبھی مليں گے۔

اس سے قبل اپوزیشن رہنماء ساڑھے 5 ہزار اور ساڑھے 3 ہزار والی ڈیسکیں خرید کر سندھ اسمبلی لے آئے اور سندھ حکومت کو 29 ہزار روپے والی ڈیسک کے بجائے یہی ڈیسکیں خریدنےکی پیشکش کی تھی۔

اسکول ڈیسکوں کی خریداری کامعاملہ سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا

دوسری جانب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر بتایا کہ فرنیچر کی خریداری میں 3 ارب کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ 29 ہزار میں ایک ڈیسک کی خریداری سے3 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

یاد رہے کہ سما نے 8 ستمبر کو محکمہ تعلیم سندھ کا 7 ہزار روپے والی ڈيسک 29 ہزار روپے ميں خريدنے کا اسکينڈل بےنقاب کیا تھا۔

محکمہ تعلیم سندھ ایک ڈیسک 29ہزار میں خریدےگا

واضح رہے کہ 16ستمبر کو سندھ ہائیکورٹ میں ڈیسکوں کی کم بولی دینےکے باوجود ٹھیکہ حاصل نہ کرنے والی کمپنی نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں نظر انداز کرکے 29 ہزارروپے فی ڈيسک کی بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکا دے دیا گیا۔

حلیم عادل شیخ ساڑھے 5ہزار کی اسکول ڈیسک اسمبلی لے آئے

 درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ورک آرڈر کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور کم بولی والی دینےوالی کمپنی کو ٹھیکا فراہم کیا جائے۔ درخواست گزار کمپنی کے وکیل عبدالرحمان ایڈووکیٹ کےمطابق ٹھیکہ غیر قانونی طور پر من پسند کمپنی کو جاری کیا گیا ہے، درخواست پرعدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube