Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

برتن قلعی کرالو کی صدا زمانے کی بھیڑمیں کھوگئی

SAMAA | - Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

قلعی گری کاہنر آخری سانسیں لےرہا ہے

ماضی میں برتن قلعی کرنے والے گلی گلی پھیری لگاتے تھے لیکن وقت بدلا تو تانبے کے برتنوں کے ساتھ ساتھ قلعی گر بھی نایاب ہوگئے۔

برتن قلعی کرنے کا رواج تقریباً ختم ہوگيا تاہم لاہور کے رنگ محل کے کسیرا بازار میں بیٹھنے والے عابد حسین اب اس بازار کے آخری قلعی گر بچے ہیں جو تانبے کے برتنوں کو قلعی کرکے نیا جیسا بنادیتے ہیں۔

ایک دور تھا جب بھانڈَے قلعی کرالو اور برتن نوے کرا لو کی صدائیں  گلی محلوں میں گونجا کرتی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ آواز اور قلعی گر نئے زمانے کی بھیڑ میں کہیں گم ہوگئے۔

ایسے قلعی گر کوئلے سلگاتے، مختلف دھاتوں کا پاوڈر بنا کر انہیں برتنوں  پر لگاتے اور  برتن کو آگ پر جلاکر اسے پانی میں ڈال کر ٹھنڈا کرتے جس کے بعد ایسے برسوں پرانے برتنوں کو بھی گویا ایک نئی زندگی مل جایا کرتی۔

عابد حسین کا کہنا ہے کہ یہ کام بہت محنت طلب ہے لیکن اس کا معاوضہ کم ہے اس لیے اب قلعی گروں کے بچے بھی ا س ہنر کو نہیں سیکھنا چاہتے۔

ماضی کا حصہ بننے والا یہ ہنر اور اس سے وابستہ لوگ آج بھی اپنی مخصوص صداؤں کی صورت میں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی کسیرا بازار سے گزرتے ہیں تو کانوں میں وہی آواز گونجتی ہے۔

تانبے کے برتنوں کا کاروبار کرنے والے افراد کہتے ہیں کہ لوگ پرانے برتن انہیں بیچ جاتے ہیں جن کو مرمت اور قلعی کروا کے نیا جیسا بنا دیا جاتا ہے۔

تانبے کے برتنوں کا استعمال کم ہوا تو اس کے ساتھ یہ ہنر بھی دم توڑ گیا مگر عابد حسین اپنے بڑے بزرگوں سے سیکھے گئے اس فن کو آج بھی  زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube