Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

نوازشریف کے نام پرجعلی ویکسینیشن کی انٹری،رپورٹ وزیرِاعلیٰ کو پیش

SAMAA | - Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 24, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
NAWAZ-SHARIF-3-1

فائل فوٹو

نواز شریف کے شناختی کارڈ پر جعلی کرونا ویکسینیشن کی انٹری کے معاملے کی تحقیقاتی رپورٹ وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو پیش کر دی گئی۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ کرونا ویکسینشن کی جعلی انٹریاں چوکیدار اور وارڈ بوائے کرتے رہے۔ نادرا پورٹل کو چوکيدار اور وارڈ بوائے اپڈيٹ کرتے رہے۔ اسپتال کے ایم ایس کے سیکریٹری کے دوست نے نواز شریف کا شناختی کارڈ رجسٹر کروایا۔ نوید نے چوکیدار ابوالحسن سے بھی تعلقات بنائے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابوالحسن نے چوکیدار سے کہا کہ اس کے والد کا ریکارڈر جسٹرڈ کرنا ہے۔ نوید نے نواز شریف کا شناختی کارڈ نمبر اور تفصیل بھیجی۔ چوکیدار نے وارڈ بوائے عادل کو واٹس ایپ پر ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے کا کہا۔ اسپتال میں 4 ملازمین نے تسلیم کیا کہ انہوں نے نواز شریف کا ڈیٹا رجسٹر کیا۔

دوسری جانب ویکسین سينٹر میں کوئی سینیر عملہ تعینات نہ تھا۔ ڈیٹا رجسٹرڈ کرنے کا کام وارڈ سرونٹ اور چوکیدار کو دیا ہوا تھا۔ اسپتال کے 7 ملازمين کی غلطی کی وجہ سے واقعہ پيش آيا۔

قبل ازیں نواز شریف کے شناختی کارڈ پر جعلی کرونا ویکسین ڈیٹا انٹری کے معاملے پر کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے سینیر ڈاکٹرز کو معطل کردیا گیا تھا۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاہور کے کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے ایم ایس اور اسپتال کے سینیر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر منیر احمد کو معطل کیا گیا ۔

محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ ایم ایس اور سینیر میڈیکل افیسر کو غفلت پر معطل کیا گیا۔ دونوں افسران کی معطلی کا نوٹی فیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جب کہ اسپتال کے پرنسپل میڈیکل آفیسر میاں منشی کو ایم ایس کا اضافی چارج دیدیا گیا۔

واضح رہے کہ جمعرات 23 ستمبر کو بیرون ملک مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کے شناختی کارڈ پر لاہور میں جعلی ویکسینیشین کے اندراج کا انکشاف ہوا۔ نواز شريف کے شناختی کارڈ پر جعلی اندراج نادرا کے پورٹل پر بھی اپلوڈ کیا گیا۔ سابق وزیراعظم کے شناختی کارڈ پر یہ اندراج 22 ستمبر کو شام 4 بج کر 4 منٹ پر کیا گیا۔

واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد اسپتال کے ایم ایس نے کرونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ڈیٹا انٹری کرنے والے 2 آپریٹرز کو معطل کردیا تھا۔

واقعہ کی تحقیقات کیلئے 3 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube