Friday, October 22, 2021  | 15 Rabiulawal, 1443

نئے ٹیکس نہیں، کراچی کوبقایاجات اداکرنیکی ضرورت ہے، وسیم اختر

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

ایم کیوایم پاکستان کے ڈپٹی کنوینر اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے پیپلزپارٹی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو نئے ٹیکس کی ضرورت نہیں، صرف سندھ حکومت شہر قائد کا آمدن میں حصہ وقت پر ادا کرے۔

بہادر آباد میں ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر وسیم اختر اور رہنماء محمد حسین نے پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے کے الیکٹرک کو متنبہ کیا کہ وہ بجلی کے بلوں میں شہریوں سے ایم یو سی ٹی چارجز وصول کرنے کے عوام دشمن فیصلے کا ساتھ نہ دے، کراچی کے عوام سندھ حکومت کے اس فیصلے کیخلاف احتجاج کریں گے، کب تک کراچی کو لوٹتے رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک پہلے ہی کے ایم سی کی نادہندہ ہے، اسے لاکھوں روپے چارجز کے ایم سی کو ادا کرنے ہیں، کے الیکٹرک پر کے ایم سی کی واجب الادا رقم کی تفصیلات اپنی میئر شپ کے دوران سپریم کورٹ میں جمع کراچکا ہوں۔

سابق میئر کراچی نے کہا کہ سندھ حکومت آکٹرائے اینڈ ضلع ٹیکس کی رقم کے ایم سی کو ادا نہیں کررہی، یہ شیئر کارپوریشن کا قانونی حق ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کے علاوہ سندھ کے باقی اضلاع سے ٹیکس وصولیابی کا بھی کیا یہی طریقہ کار ہے؟، کے ایم سی کے ٹیکس سے صوبائی حکومت کے اخراجات اٹھائے جارہے ہیں۔

وسیم اختر نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ کراچی کے شہریوں پر میونسپل یوٹیلٹی چارجز اینڈ ٹیکسز لاگو کرنے میں سندھ حکومت کا ساتھ نہ دے۔

ایم کیو ایم رہنماء محمد حسین کا کہنا تھا کہ کراچی سالانہ ڈھائی ہزار ارب روپے کا ریونیو سندھ کیلئے جمع کرتا ہے، بدلے میں اسے کیا ملتا ہے، وفاقی حکومت کو بھی خطیر رقم شہر قائد سے ملتی ہے، کراچی آج بھی بنیادی بلدیاتی سہولیات سے محروم ہے، کراچی کے لوگ مزید ٹیکس نہیں دینگے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube