Sunday, October 17, 2021  | 10 Rabiulawal, 1443

توشہ خانہ سے متعلق وزیراعظم کو جواب دینا ہوگا، مریم نواز

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 3 weeks ago

الیکٹرانک ووٹنگ دھاندلی کا ہی منصوبہ ہے

ن لیگی رہنما مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ملنے والے تحائف ذاتی ملکیت نہیں، انہیں توشہ خانہ سے متعلق قوم کو جواب دینا ہوگا۔ عمران خان دھاندلی کرنے والی سب سے بڑی شخصیت ہیں۔

اسلام آباد میں نیب کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ عمران خان کو قوم کے پیسے کا جواب دینا پڑے گا۔ لوگوں کو چور کہتے کہتے اپنی چوری نہیں چھپا سکتے۔ انہوں نے خود کہا تھا پیٹرول، آٹا، بجلی مہنگی ہو تو وزیراعظم چور ہوتا ہے۔ توشہ خانہ وزیراعظم کا ذاتی مسئلہ نہیں۔ انہیں ملنے والے تحائف ذاتی مال نہیں ہے۔ قوم کے سامنے قوم کے پیسے کا جواب دیں۔

الیکشن کمیشن

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکومت کی نالائقی کی نشاندہی کر رہا ہے، الٹا حکومت الیکشن کمیشن پر ہی الزام لگا رہی ہے، یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کےممبران کو ادارے کے سربراہ کیخلاف نوٹس لینے کا کہا گیا۔ انتخابی اصلاحات کو غیر موثر سمجھتی ہوں۔ اب الیکٹرانک ووٹنگ مشینز آر ٹی ایس جیسی دوسری کہانی گھڑی جارہی ہے۔ ای سی پی کی دھاندلی پول کھول رہی ہے تو یہ اس پر چڑھائی کر رہے ہیں۔ حکومت اپنے فائدے کیلئے انتخابی اصلاحات لا رہی ہے۔ انتخابی اصلاحات کو اس وقت غیر موثر سمجھتی ہوں۔ جب تک اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کے آگے دیوار نہھں بنائی جائے گی تب تک اصلاحات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ای سی پی پر حملے ان کی طرف سے ہیں جو ن لیگ کو اداروں کے احترام کا درس دیتے تھے۔ ہم نے ہمیشہ اداروں کا احترام کیا۔

افغانستان

افغان معاملے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ افغانستان کے سیاسی اور اندرونی معاملات سے پاکستان کو دور رہنا چاہیے۔ ہمسایہ ملک کے فیصلوں کا اختیار افغان عوام پر چھوڑ دیا جائے۔ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے، اس کے فیصلوں کا احترام کرنا چاہئے۔

مہنگائی

مہنگائی پر بات کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ کنٹینر پر عمران خان کے بھاشن سن سن کرعوام کے کان پک گئے، آج عوام کو بد ترین مہنگائی کا سامنا ہے، اپوزیشن کوعوام کے دکھ درد کی آواز اٹھانی چاہیئے۔ جاوید لطیف شوکاز نوٹس پر جواب دے دیں گے، اظہارآزادی رائے کا حق سب کو ہے لیکن پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

چیئرمین نیب

چیئرمین نیب کی تبدیلی پر مریم نواز نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کو توسیع دی گئی تو ردعمل دیں گے۔ معاملے پر مسلم لیگ ن خاموش نہیں ہے۔ اپوزیشن کو عوام کے ساتھ کھڑا ہوا نظر انا چاہیے۔

جعلی کرونا ویکسین سرٹیفیکیٹ

جعلی کرونا ڈیٹا اندراج پر جب صحافی نے سوال کیا تو مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے کرونا ویکسینیشن کی خبر صرف ایک مذاق ہے۔ اس سے حکومتی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ سنجیدہ سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس حکومت کی ویکسینیشن کا اندارج بھی جعلی ہے۔ عالمی ادارے بھی اس بات پر سوال اٹھائیں گے۔

قبل ازیں عدالت آمد پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ حکومت کو 4 سال بعد بھی دھاندلی کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جس حکومت کی بنیاد ہی دھاندلی ہے اس کا شفافیت سے کیا تعلق ہے؟۔ حکومت کا الیکٹرانک ووٹنگ کی بات کرنا دھاندلی کا ہی منصوبہ ہے۔ حکومتی پالیسی ہے کہ نیب سے اپوزیشن کا کردار نکال کر وزراء کے بھائیوں کو ڈال دیا جائے۔ مریم نواز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کی توسیع کا باقاعدہ اعلان ہوا تو اپنا ردعمل دیں گے۔ اس سے قبل ہونے والے نیب سے متعلق فیصلوں میں شریک نہیں تھی۔ جس پر صحافی نے سوال کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے تو ووٹ دیا تھا ؟،جواباً مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں اُس مسلم لیگ ( ن) میں نہیں تھی۔

توشہ خانہ معاملہ

واضح رہے کہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیرِ اعظم عمران خان کو بیرونِ ممالک سے ملنے والے تحائف کی تفصیل نہ دینے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی موجودہ حکمران جماعت ماضی میں جن کاموں پر حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے وہی کام اب خود کر رہی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کابینہ ڈویژن کا ان تحائف کی فہرست کو چھپانا ظاہر کرتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے کچھ غلط کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان میں وفاقی حکومت نے وزیرِ اعظم عمران خان کو بیرونِ ممالک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات عام شہری کی درخواست پر انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) میں دینے سے انکار کیا۔ جب کہ اس بارے میں انفارمیشن کمیشن کے اختیار کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحائف کی تفصیل جاری ہونے سے میڈیا ہائپ اور غیر ضروری خبریں پھیلیں گی۔ اس کے ساتھ مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر اور ملکی وقار مجروح ہو گا۔

شہباز گل

وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کو ملنے والے تحفے رکھنا مقصود ہو تو اس کی رقم جمع کرائی جاتی ہے۔

انہوں نے تحائف رکھے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں تحفے کے لیے 15 فی صد تک رقم جمع کرائی جاتی تھی۔ البتہ تحریک انصاف کی حکومت میں تحفے کی رقم 50 فی صد جمع کرائی جاتی ہے۔ ماضی کی طرح تحائف غائب نہیں ہوتے۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک جب ملکی سربراہ کو تحائف دیتے ہیں تو کوئی بھی ملک نشر نہیں کرنا چاہتا کہ ان کا تحفہ کتنے روپے کا ہے۔ ان کے تحفے کا دوسرے ممالک کے تحائف سے موازنہ بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو ملنے والے تمام تحائف ملکی قوانین کے تحت توشہ خانہ میں جمع کرائے جاتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube