Monday, October 18, 2021  | 11 Rabiulawal, 1443

اورنگی،گجرنالےمتاثرین کوادائیگیاں کریں،سپریم کورٹ کاوزیراعلیٰ کوحکم

SAMAA | - Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
SAMAA |
Posted: Sep 23, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

سپریم کورٹ رجسٹری نے اورنگی اورگجرنالہ کیس کاتحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔عدالت نےریمارکس دئیے کہ وزیراعلیٰ سندھ متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں اور ان اقدامات سے متعلق 2 ہفتے میں ابتدائی رپورٹ پیش کریں۔

بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری ميں چیف جسٹس کی سربراہی ميں 3 رکنی بينچ نے انسداد تجاوزات سے متعلق کيس کی سماعت کی۔ کیس کے تحریری حکم نامے میں عدالت نے بتایا ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل نےمتاثرین کی بحالی میں فنڈز کی کمی کا دعویٰ کیا۔ فنڈز کی کمی سے متعلق سندھ حکومت کا موقف قابلِ قبول نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ متاثرین کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں اور متاثرین کو تمام سہولیات کے ساتھ 1 سال میں بسایا جائے جبکہ وزیراعلی سندھ اقدامات سے متعلق 2 ہفتے میں ابتدائی رپورٹ پیش کریں۔

 بدھ کو سماعت کے دوران چيف جسٹس نے کراچی کی حالت زار پر ايڈووکيٹ جنرل کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ شيم آن سندھ گورنمنٹ،اس طرح سے شہر چلاتے ہیں،حکمرانی کرنے والے جانتے ہی نہیں کہ شہر کو کیسے چلایاجاتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ شہر میں گٹرابل رہے ہیں،تھوڑی سی بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے۔ یہاں کی سڑکیں، فٹ پاتھ تباہ ہیں اورغیرقانونی عمارتیں بن رہی ہيں۔جسٹس گلزار نے کہا کہ سندھ حکومت کے پاس کھربوں روپے کا بجٹ ہےاور وہ کہتے ہیں کہ پیسے نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ دنیا بھر سے لئے جانے والے قرض کا پیسہ کہاں جاتا ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نےعدالت کو بتایا کہ اگر بحریہ فنڈز سےرقم مل جائے تو کام شروع ہوگا۔اس پر چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ ہر کام کو بحريہ فنڈز سے کيوں مشروط کرتے ہيں۔آپ کے سارے کام ہورہے ہیں،تنخواہیں مراعات جاری ہیں مگرغریبوں کا گھر بنانے کیلئے رقم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام متاثرین کو گورنرہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس اور اسمبلی کی عمارت میں بسائیں اوروہاں ٹینٹ لگائیں۔

چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ اگر پیسےنہیں ہیں تو جیسے اور کاموں کے لیے مانگتے ہیں ویسے ہی جا کر کسی سے مانگیں۔گجراوراورنگی نالہ متاثرین کی بحالی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube