Thursday, October 21, 2021  | 14 Rabiulawal, 1443

منی لانڈرنگ ریفرنس، مراد علی شاہ پر فردِ جرم کی تاریخ مقرر

SAMAA | - Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 21, 2021 | Last Updated: 1 month ago
CM Sindh Murad Ali Shah

فوٹو: آن لائن

احتساب عدالت نے نوری آباد پاور پلانٹ کی آڑ میں مبینہ منی لانڈرنگ کے ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پر فرد جرم کے لئے 7 اکتوبر کی تاریخ مقررکردی ہے۔

نوری آباد پاور پلانٹ کی آڑ میں مبینہ منی لانڈرنگ ریفرنس میں مراد علی شاہ سمیت تمام شریک ملزمان بھی 7 اکتوبر کو طلب کئے گئے ہیں۔عدالت نےملزمان کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔

نیب نے66 والیوم میں مشتمل یہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ مراد علی شاہ اور دیگر ملزمان نے اعتراضات دائر کئے تھے کہ کچھ دستاویز پڑھنے کے قابل نہیں ہیں۔

مرادعلی شاہ نےسندھ کابینہ کوغلط حقائق بتائے،نیب کادعویٰ

نیب نے مراد علی شاہ و دیگر ملزمان کے دستاویزات پر اعتراضات کل دور کردئے تھے۔ ملزمان کے اعتراضات کی وجہ سے عدالت نے فرد جرم کی کارروئی موخر کر رکھی تھی۔

یہ ریفرنس نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ ریفرنس میں درج ہے کہ بطور سابق وزیرخزانہ سندھ مراد علی شاہ نے غیر قانونی طور پر عبدالغنی مجید کا کالا دھن سفید کرنے کے منصوبے میں ان کی معاونت کی تھی۔ انھوں نے نوری آباد پاور پلانٹ لگانے کی آڑ میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی جاتی رہی۔

مرادعلی شاہ کیخلاف ریفرنس:نیب کے پاس وعدہ معاف گواہ بھی موجود

واضح رہے کہ نیب ریفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں اور درج ہے کہ کرپشن کی 12 میں سے 5 شقوں کے تحت مراد علی شاہ کو مجرم ٹہرایا گیا ہے۔مرادعلی شاہ سمیت تمام 17 ملزمان پر کرپشن کی سیکشن نائین اے ایک،چار، چھ،گیارہ اور بارہ کے تحت الزامات عائد ہیں۔

ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اومنی گروپ سے متعلق نوری آباد میں پاورپلانٹس لگانے کا منصوبہ بغیر فیزیبلٹی منظور کرایا گیا اور قومی خزانےکے8 ارب روپے جھونک دیئے گئے۔

مرادعلی شاہ نےکابینہ کے سامنے اس منصوبے کو عوامی فلاح کا قرار دیا تھا۔ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد علی شاہ نے بطور وزیر توانائی و خزانہ اختیارات کا غلط استعمال کیا اوراومنی گروپ کے ہی کنسلٹنٹ خورشید جمالی کے مشورے پر منصوبوں کا آغاز ہوا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی آڑ میں 8 ارب روپے کے علاوہ 2 کمپنیوں کو 3 ارب روپے کا قرض مراد علی شاہ نے جاری کروایا۔

ریفرنس میں نوری آباد پلانٹ کو کےالیکٹرک گرڈ سےملانےکیلئے ٹرانسمیشن لائن کا ٹھیکہ بھی غیرشفاف بولی سےدینے کاالزام عائد کیا گیا۔

واضح رہے کہ 2 ملزمان عارف علی اور آصف محمود اس کیس میں پہلے ہی 2.5 ارب روپے کی پلی بارگین کرچکے ہیں جبکہ خورشید جمالی نے پلی بارگین کی درخواست واپس لے لی تھی۔

نیب نے ریفرنس میں مراد علی شاہ کے علاوہ اومنی گروپ کے عبدالغنی مجید سمیت 17 ملزمان نامزد کرکےان کا ٹرائل کرنے اور سخت سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

سماءکوموصول دستاویزات کےمطابق پرائیویٹ کنٹریکٹرامجدحسین وعدہ معاف گواہ بن چکےہیں۔ انھوں نے نیب کو بتایا ہے کہ ٹیکنومین کائناٹکس نامی کمپنی کو بولی کے عمل میں ہیرا پھیری سے نوازا جاتا رہا۔ بولی کا عمل مکمل کرنے والی کمیٹی کے رکن اورممبر نیپرا محمود الحسن جانتے تھے کہ مراد علی شاہ سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نوری آباد پلانٹس کو صرف 7کلومیٹرکی لائن سے ہیسکو کیساتھ ملایا جا سکتا تھا لیکن 85 کلومیٹر کی لائن کا ٹھیکا دےکر کےالیکٹرک سے ملایا گیا۔
نیب کی جانب سے ٹیکنو مین کائناٹکس نامی کمپنی کو مرادعلی شاہ کی منظور نظر بتایا گیا ہے۔ جےآئی ٹی رپورٹ میں اسی کمپنی کیجانب سے33 ملین ڈالر منی لانڈرنگ سےدبئی بھیجنے کا انکشاف بھی موجود ہے۔فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے والے اسی کمپنی کے2 ڈائریکٹرزاعتراف جرم کے بعد 2.5 ارب روپےکی پلی بارگین کرچکے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube