Friday, December 3, 2021  | 27 Rabiulakhir, 1443

لاہور:مغل ملکہ نورجہاں کا مقبرہ تزئین وآرائش کےباوجود توجہ چاہتا ہے

SAMAA | - Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 20, 2021 | Last Updated: 2 months ago

شاہدرہ میں قائم نور جہاں کےمقبرے کی وجہ شہرت لال پتھر ہے

لاہور میں مغل ملکہ نور جہاں کا مقبرہ گزشتہ کئی سال سے تزئین وآرائش کے مراحل سے گزر رہا ہے۔

لاہورمغلیہ سلطنت کی مختلف یادگاروں کی وجہ سے مشہور ہے ۔شاہدرہ میں قائم نور جہاں کے مقبرے کی وجہ شہرت لال پتھر ہے۔ اس مقبرے میں مدفون نور جہاں مغل حکمران نورالدین جہانگیر کی چہیتی بیوی تھیں۔ مغل دور کی اس عظیم یادگار کو نورجہاں نے اپنی ہی زندگی میں 4 سال کے عرصے میں تعمیر کروایا۔

سکھ دور میں یہ مقبرہ اپنی اصل شناخت کھو بیٹھا اور دیواروں سے قیمتی پتھر اکھاڑدئیے گئے۔ مقبرے کی چھتیں بھی وقت کی سختیاں جھیلنے کی گواہی دے رہی ہیں۔گزشتہ 4 سال سے مقبرے کی بحالی کا کام توجاری ہے مگر فنڈز کی کمی کے باعث یہ کام تاخیر کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبرے کی اصل شکل اس کی موجودہ حالت سے تاحال مختلف ہے۔

منفرد طرز تعمیر کے باعث تاریخی اہمیت کے حامل اس مقبرے میں ایک سرنگ بھی موجود ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سرنگ کے احاطہ زنجیر میں ملکہ نورجہاں اوران کی بیٹی  کودفن کیا گیا جبکہ ظاہری طور پر تعویز مقبرے کے اوپر والےحصے میں موجود ہیں۔

مقبرے میں گزشتہ کئی سال سے ویرانیوں کے ڈیرے ہیں تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جلد اس کی بحالی کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ بحالی کے کام کے بعد امید کی جارہی ہے کہ یہاں آنےوالے سیاحوں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوگا بلکہ برسوں سے ماند پڑی رونق بھی واپس لوٹ آئےگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube