Sunday, October 17, 2021  | 10 Rabiulawal, 1443

کیا لال مسجد انتظامیہ نیا تنازع کھڑا کرنے والی ہے؟

SAMAA | - Posted: Sep 18, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago
Posted: Sep 18, 2021 | Last Updated: 4 weeks ago

لال مسجد انتظامیہ نے ایک بار پھر پاکستان میں نظامِ شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے جامعہ سیدہ حفصہ پر امارت اسلامی افغانستان کے جھنڈے لہرادیئے، تاہم انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد ایک بار پھر جھنڈے پُرامن طریقے سے ہٹا دیئے گئے۔ گزشتہ ماہ بھی لال مسجد انتظامیہ نے جامعہ سیدہ حفصہ پر جھنڈے لہرائے تھے۔

بروز ہفتہ 18 ستمبر کو منظر عام پر آنیوالی کچھ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مدرسے کی چھت کی بیرون دیوار پر امارت اسلامی کے سفید جھنڈے آویزاں تھے۔ مدرسے پر دوبارہ جھنڈے لگنے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری انہیں اتروانے جامعہ حفصہ کے باہر پہنچی۔

ترجمان جامعہ سیدہ حفصہ شکیل غازی نے خطیب لال مسجد و مہتمم جامعہ حفصہ مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مولانا

عبدالعزیز کا حکم تھا کہ اب یہ جھنڈے نہیں اُتریں گے، ہم نے بارہا پاکستانی حکومت سے ملک میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا مگر ہر بار ہمیں ٹالا گیا، حکومتی عہدیداروں کے بیانات صرف لفظی یقین دہانی تک ہی محدود رہے ہیں۔

سماء ڈیجیٹل نے جب معاملے پر وزارت داخلہ کا مؤقف جاننا چاہا تو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ پولیس کی نفری وہاں موجود ہے، معاملے پر بات چیت کرکے مؤقف واضح کیا جائے گا۔

دوسری جانب اس حوالے سے صورتحال جاننے کیلئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور کمشنر عامر احمد علی سے رابطہ کیا گیا تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہ ہوسکا۔

ایس پی رانا وہاب کے مطابق فی الحال گرفتاری یا پولیس ایکشن سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے، مولانا عبدالعزیز یا مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

مولانا عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ حکومتی عہدیدار ہمارے ساتھ دھوکا کرتے ہیں، ہر بار آکر ہمیں یہ ہی کہا جاتا ہے کہ آپ لوگ جھنڈے اتار دیں، ہم اسلامی نظام کیلئے آگے پیشقدمی کریں گے اور افسران سے بات کرینگے تاہم یہ لوگ صرف جھنڈے اُتروا کر غائب ہوجاتے ہیں مگر اس بار ہم نے تہیہ کیا ہے کہ جب تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جاتے جامعہ حفصہ پر جھنڈے لگے رہیں گے۔

آڈیو پیغام اور ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد ایک بار پھر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لال مسجد انتظامیہ اور مولانا عبدالعزیز سے مذاکرات کئے گئے۔ جس پر مدرسہ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ جھنڈے فی الحال کچھ روز کیلئے اُتار دیئے گئے ہیں، ہم سے ایک بار پھر اپنے مطالبات کو اعلیٰ سطح پر لے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہمارے مطالبات پر پیشرفت ہوگی تاہم اگر بات چیت آگے نہ چلی تو یہ جھنڈے دوبارہ لگا دیئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ ماہ 19 اگست کو لال مسجد انتظامیہ کی جانب سے جامعہ سیدہ حفصہ پر افغان طالبان کے جھنڈوں کو بینرز کے ہمراہ آویزاں کیا گیا تھا، تاہم پولیس مداخلت پر انہیں فوری ہٹایا گیا، اس معاملے پر کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

جھنڈے لگانے پر مسئلہ کیوں؟

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ ایسے جھنڈے لگانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی لہٰذا یہ جھنڈے اُتارے جائیں گے اور انہیں لگانے والوں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ماضی میں اسلام آباد کی لال مسجد میں مشتبہ افراد کی موجودگی پر پاکستان فوج کے آپریشن کے دوران آرمی کے افسر سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

لال مسجد کہاں ہے؟

اسلام آباد کی لال مسجد سیکٹر جی 6 میں آب پارہ مارکیٹ کے قریب واقع ہے، گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے اس مسجد سے منسلک سڑک کو سیکیورٹی وجوہات کے باعث خاردار تاریں اور کنکریٹ کے بلاکس سے بند کردیا گیا ہے۔

لال مسجد میں 5 وقت نماز ادا کرنے کی اجازت ہے لیکن اس کے علاوہ کسی بھی طرح کے اجتماع کی سختی سے ممانعت ہے۔

جامعہ حفصہ کی تعمیر

جامعہ حفصہ، لال مسجد آپریشن سے پہلے مسجد کے ساتھ ہی منسلک تھی تاہم بعد ازاں حکام کے مطابق سرکاری زمین پر بغیر اجازت اس کی تعمیر کی گئی تھی، جس کے باعث اسے منہدم کردیا گیا تھا۔ اس صورتحال میں مدرسے میں مقیم خواتین کیلئے عارضی طور پر سیکٹر جی 7 تھری فور میں ایک مسجد سے منسلک خالی زمین پر انتظام کیا گیا، لیکن اب وہاں غیرقانونی طور پر کئی منزلہ عمارت بن چکی ہے، اس وقت بھی جامعہ حفصہ میں سیکڑوں طالبات مقیم ہیں۔

جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی طرف جانیوالے راستوں پر سیکیورٹی تعینات رہتی ہے، جامعہ حفصہ جس جگہ قائم کی گئی ہے وہاں سرکاری ملازمین کے کوارٹرز بنے ہوئے ہیں، ان گھروں کو جانے والی گلیوں میں پولیس کے جوان 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہتے ہیں، کسی کو آنے جانے سے روکا نہیں جاتا لیکن اگر کسی مقام پر جلوس جانے کا خدشہ ہو تو خاردار تاریں لگا کر راستوں کو بند کردیا جاتا ہے۔

مولانا عبدالعزیز

لال مسجد آپریشن کے بعد سپریم کورٹ میں ہونیوالی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے مولانا عبدالعزیز کو خطیب لگانے کا کہا تھا اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر وہ خود کو خطیب برقرار رکھنے کا کہتے ہیں لیکن اسلام آباد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اوقاف کی مسجد ہے اور یہاں کا خطیب سرکاری ملازم تصور ہوتا ہے، جسے باقاعدہ تنخواہ دی جاتی ہے لیکن سرکاری ملازم کیلئے عمر کی حد 60 سال ہے جبکہ مولانا عبدالعزیز کی عمر اس حد سے تجاوز کرچکی ہے۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کہتے ہیں کہ خطیب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مقرر کیا جائے گا اور اس معاملے پر ابھی بات چیت کی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مولانا عبدالعزیز 60 سال سے زائد عمر کے ہیں اور اب اگر کوئی عدالتی حکم انہیں خطیب مقرر کرنے کا تھا تو وہ اب لاگو نہیں ہو سکتا۔

مولانا عبدالعزیز 1998ء سے 2004ء تک لال مسجد کے خطیب رہے، انہیں لال مسجد آپریشن کے دوران 2007ء میں گرفتار کرلیا گیا تھا، جس کے بعد مولانا عبدالغفار کو خطیب اور عامر صدیق کو عارضی بنیادوں پر نائب خطیب تعینات کیا گیا تھا، مولانا غفار نے 2009ء میں مولانا عبدالعزیز کی رہائی کے بعد مسجد چھوڑ دی تھی۔

مقدمات کا اندراج

مولانا عبدالعزیز اور ان کی اہلیہ ام حسان کیخلاف ماضی میں دہشت گردی کے مقدمات سمیت درجنوں مقدمات درج ہوئے، ایک وقت میں ان کے خلاف 27 مقدمات ریکارڈ پر موجود تھے لیکن بیشتر مقدمات کمزور پیروی اور حکومت و پولیس کی عدم دلچسپی کے باعث ختم کردیئے گئے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube