Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

پاکستان پرنئی افغان حکومت کوتسلیم کرنے کےلیےکوئی دباؤ نہیں،ترجمان دفترخارجہ

SAMAA | - Posted: Sep 16, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 16, 2021 | Last Updated: 1 month ago

دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان پر نئی افغان حکومت کو تسلیم کرنے کےلیے کوئی دباؤ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان اس معاملے پر کوئی دباؤ قبول کرے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان اپنے فیصلے خود اور آزاد انداز میں کرتا ہےاور اس حوالے سے کسی کا دباؤ قابل قبول نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا حالیہ بیان  پاکستان اور امریکا کے تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان نے افغان امن عمل، طالبان امریکا معاہدے، شہریوں کے انخلاء میں مدد کی اور امریکا سمیت پوری دنیا نے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو تسلیم کیا۔ انھوں نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے حالیہ بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی پیچیدہ صورتحال میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان نے القاعدہ کے خاتمے، افغانستان کے پرامن حل پر حقیقی کردار ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں تمام فریقین پر مشتمل جامع حکومت کے قیام کے لیے آج بھی کوشاں ہے۔

عاصم افتخار نے مزید بتایا کہ افغانستان کے ساتھ ماضی کی حکومت کے ساتھ موجود معاہدے ہی آگے چلیں گے۔ افعانستان کو آئندہ ہمسایہ ممالک کے اجلاس میں شامل کرنے پر مشاورت جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر اور بھارت سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے 12 ستمبر کو ڈوزیئر کا اجراء کر کے بھارتی مکروہ چہرے کو بے نقاب کیا اور ڈوزیئر کے اجراء کا مقصد عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کی بھارتی خلاف ورزیوں واضح کرنا ہے۔ پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر ڈوزیئر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بھی ذکر کیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام کے خلاف کیمیائی مواد کا استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان نے گزشتہ سال بھی ایک ڈوزیئر جاری کیا تھا جس میں بھارتی ریاستی دہشت گردی، اس کی مالی معاونت پر ناقابل تردید شواہد پرمشتمل تھا۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرکے نسل کشی کی جا رہی ہے۔ دنیا مسلسل مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی مواصلاتی انٹرنیٹ بندشوں، میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کررہا ہے۔ بھارتی قابض فورسز کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل، نسل کشی، عصمت دری، جنگی جرائم ملوث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں یورینیم سمیت تابکاری مواد کے پکڑے جانے پر شدید تشویش ہے۔ ہندوستان میں تابکاری مواد کی غیرقانونی سرگرمیوں سے خرید و فروخت سے جوہری پھیلاؤ کا خطرہ ہے۔ ہندوستان سے جوہری مواد کا غیرقانونی کاروبار پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت میں غیرقانونی جوہری کاروباری سے اس کی جوہری صلاحیت پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان بلاکس کی سیاست پر یقین نہیں رکھتا۔ پاکستان کے چین اور روس کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کے یورپین یونین اور دیگر کے ساتھ تعلقات بھی کلیدی ہیں۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس سے متعلق ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں وزیراعظم یا وزیر خارجہ کی شرکت کے بارے میں مشاورت جاری ہے۔ پاکستان کا اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں مرکزی نکتہ مسئلہ کشمیر ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube