Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

پشتو ادب کی بانو قدسیہ، زیتون بانو سپرد خاک

SAMAA | - Posted: Sep 15, 2021 | Last Updated: 1 month ago
SAMAA |
Posted: Sep 15, 2021 | Last Updated: 1 month ago

معروف پشتو مصنفہ زیتون بانو کو سپرد خاک کردیا گیا وہ گزشتہ روز 83 سال کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔

زیتون بانو کی نماز جنازہ پشاور کے علاقے عاشق آباد میں ادا کی گئی، جس میں اہلخانہ سمیت سیاسی سماجی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔

 زیتون بانو کا تعلق پشاور کے نواحی علاق سفید ڈھیری سے تھا او اپنے آبائی علاقے کی پہلی اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں جو طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھیں۔

زیتون بانو پاکستان اور افغانستان کے پشتون حلقوں میں انتہائی مقبول تھیں، جس نے اپنی تحریروں کے ذریعے خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا، وہ اپنی ادبی خدمات پر 15 قومی ایوارڈز حاصل کرچکی ہیں، انہیں پشتو اور اردو ادب کی خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس بھی شامل ہے۔

زیتون بانو کی تحریریں پشتو ثقافت کی بھرپور عکاس ہیں اور انہیں پشتو ادب میں وہی مقام حاصل تھا جیسا کہ اردو افسانے میں بانو قدسیہ کو دیا گیا۔

زیتون بانو کے والد پیر سید سلطان محمود شاہ ایک روشن خیال ادیب تھے جنہوں نے زیتون بانو کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔

انہوں نے پی ٹی وی اور پشاور ریڈیو کیلئے خواتین کے حقوق سمیت متعدد سماجی مسائل پر فیچر ڈرامے بھی لکھے جبکہ مجموعی طور پر پشتو میں 8 جبکہ اردو میں 5 کتابیں تحریر کیں۔

زیتون بانو کو پشتو ادب کیلئے گراں قدر خدمات پر حکومت پاکستان نے 14 اگست 1996ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطاء کیا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube