Wednesday, December 1, 2021  | 25 Rabiulakhir, 1443

حلیم عادل شیخ ساڑھے 5ہزار کی اسکول ڈیسک اسمبلی لے آئے

SAMAA | and - Posted: Sep 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA | and
Posted: Sep 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا

سندھ حکومت نے ايک ڈیسک 29 ہزار میں خریدی تاہم اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ لکڑی اور لوہے سے تيار شدہ ڈيسک ساڑھے 5ہزار روپے میں خرید کر سندھ اسمبلی لےآئے۔

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط لکھ کر بتایا کہ فرنیچر کی خریداری میں 3 ارب کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ 29 ہزار میں ایک ڈیسک کی خریداری سے3 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔

اپوزیشن  لیڈر حلیم عادل شیخ ڈیسکوں کے قیمت پوچھنے فرنیچر مارکیٹ پہنچ گئے، جہاں ایک ڈیسک 2 ہزار 100 روپے سے  ساڑھے 7 ہزار روپے کے درمیان مل رہی تھی۔

اپوزیشن رہنماء ساڑھے 5 ہزار اور ساڑھے 3 ہزار والی ڈیسکیں خرید کر سندھ اسمبلی لے آئے اور سندھ حکومت کو 29 ہزار روپے والی ڈیسک کے بجائے یہی ڈیسکیں خریدنےکی پیشکش کردی۔

محکمہ تعلیم سندھ ایک ڈیسک 29ہزار میں خریدےگا

ساڑھے 6 ہزار روپے میں ڈیسک کی بولی ملنے کے باوجود سندھ حکومت ایک  اہم شخصیت کو نوازنے کیلئے 320 فیصد مہنگی ڈیسک خرید رہی ہے۔ کباڑ کے 19 ٹکڑوں سے بننے والی ڈیسک کی خریداری کا سودا سابق وزیر تعلیم سعید غنی کے دور میں کیا گیا تھا۔

اس سے قبل سندھ میں سرکاری اسکولوں کے طلباء کیلئے محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے خریدی جارہی ایک ڈیسک 29 ہزار روپے میں خریدی جارہی تھی جس میں کباڑ کے 19 ٹکڑوں کو 23 جوڑ لگا کر بنایا جارہا تھا۔

پیپلزپارٹی کے رہنماء تیمور تالپور کا کہنا ہے کہ 29 ہزار میں ڈیسک کی خریداری کےفیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ سما نے8 ستمبر کو محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سےکباڑ بنی ڈیسک 29 ہزار روپے میں ڈيسک خریداری کا معاملہ اٹھایا تھا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube