Sunday, October 24, 2021  | 17 Rabiulawal, 1443

پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو کیسے بیوقوف بنایا؟

SAMAA | - Posted: Sep 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 8, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Karachi-police-1-2

فوٹو: آن لائن

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے امن و امان کی صورتحال پر اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں صوبائی پولیس آفیسر (پی پی او) مشتاق احمد مہر، کراچی پولیس کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (ایڈیشنل آئی جی پی) عمران یعقوب منہاس اور کراچی رینج کے تینوں زونل ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی) نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اجلاس کے اہم نکات شئیر کیے۔ ترجمان کے مطابق ملاقات میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سندھ پی پی او مشتاق احمد مہر نے اسمگلروں اور منشیات فروشوں کیخلاف پولیس کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔

اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی پولیس نے 79 کیسز کو حل کئے، جن میں 11 ہائی پروفائل کیسز بھی شامل ہیں جبکہ کیسز حل کرنے میں کلوز سرکٹ کیمروں (سی سی ٹی وی) کی مدد بھی حاصل کی گئی۔

کراچی پولیس کے مطابق تین بڑے مقدمات حل کئے گئے ہیں جن میں ڈاکو کی فائرنگ کے دوران ایک شخص کا قتل، بلدیہ ٹاؤن کی ایک مسجد سے چندا باکس کی چوری اور ماڈل کالونی سے 2 اسٹریٹ کرمنلز کی گرفتاری شامل ہیں۔

دوسری جانب صوبے کے چیف ایگزیکٹو نے صوبہ بالخصوص کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں سندھ پولیس کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) نے 8 ماہ کے جرائم کے اعدادوشمار جاری کئے ہیں جو کراچی میں جرائم میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

کراچی میں رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں قتل و غارت کی واردتوں میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سی پی ایل سی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری 2021ء سے 30 جولائی 2021ء کے دوران شہر میں 335 افراد قتل ہوئے۔ جبکہ سال 2017ء کے پہلے 8 مہینوں میں 247 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

سی پی ایل سی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ شہر میں قتل کے ساتھ ساتھ اسٹریٹ کرائمز کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں 16 ہزار 591 افراد اپنے موبائل فون سے محروم ہوئے۔ تقابلی تجزیہ کے مطابق 2020ء کے اسی عرصے کے دوران 13ہزار 322 موبائل فون چھینے گئے تھے، یعنی رواں سال ایسی وارداتوں میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

اسی طرح گاڑی چوری کی وارداتیں بھی بڑھ گئیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یکم جنوری سے 31 اگست 2021ء کے دوران شہر میں گن پوائنٹ پر 150 گاڑیاں چھینی گئیں جس میں اب 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

موٹرسائیکل چھیننے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے، رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں شہر میں 2ہزار 903 موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں۔ 2020 میں اسی عرصے کے دوران کراچی میں ایک ہزار 482 افراد اپنی موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے تھے یعنی کہ موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں بھی 95 فیصد اضافہ ہوگیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube