Sunday, October 24, 2021  | 17 Rabiulawal, 1443

کراچی: ساحل پر پھنسا بحری جہاز نکال لیا گیا

SAMAA | - Posted: Sep 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 7, 2021 | Last Updated: 2 months ago

جہازکوگڈانی سےلائےنئےاورزیادہ مضبوط رسوں سے باندھا گیا

کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنےکی تیسری کوشش کامیاب ہوگئی ہے۔

منگل کو بحری جہاز کو ساحل سے سمندر میں لے جانے کے آپریشن کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔ ابتدا میں بحری جہاز کو 600 ميٹر تک سمندر کے اندر کھينچ ليا گيا جس کے بعد دوپہر ساڑھے 12 بجے جہاز کو ساحل سے 1500 میٹر دور تک لے جایا گیا۔جہاز نے 850 میٹر کی دوری پر کرین بردار بارج کو عبور کرلیا جس کے بعد جہاز سے کرین بردار بارج کے رسے کو ہٹا دیا گیا ۔ جہاز کے دونوں انجن اسٹارٹ ہونے کے بعد  صرف ٹگ بوٹس کے ذریعے جہاز کو کھینچا جانے لگا اور جہاز کو پورٹ کی جانب لے جانے کی کوشش جاری ہے۔ کراچی کے ساحل پر پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ریت میں پھنسے والے کسی بحری جہاز کو توڑے بغیر دوبارہ سمندر میں لے جایا گیا۔

ایان شپ بریکر کمپنی کے سی ای او الطاف گھانچی نے بتایا کہ موسم اور اونچی لہروں کے باعث تیسری کوشش میں کامیابی ملی ہے۔ اس کے علاوہ ٹگ بوٹ اور جہاز کا فاصلہ 600 سے 800 میٹر کے درمیان رکھنے سے بھی جہاز کھینچنے کی کوشش کامیاب رہی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی محمود مولوی نے بتایا کہ ساحل سے جہاز نکالنے کا خرچہ جہاز کے مالک نے ادا کیا ہے اور دوپہر ڈیڑھ بجے تک جہاز گہرے پانی میں پہنچ گیا ہے۔

جہاز کو گڈانی سے لائے نئے اور زیادہ مضبوط رسوں سے باندھا گیا تھا۔ اس آپریشن میں2 ٹگ بوٹ،کرین برادر بارج، ہیوی مشینری،پائلٹ اور اسپیڈ بوٹ نے حصہ لیا۔ ترجمان کے پی ٹی کے مطابق سالویج کمپنی نے میرین مرکنٹائل ڈپارٹمنٹ کو نیا پلان جمع کرایا تھا اور اس وقت کے پی ٹی کے سابق ڈپٹی کنزرویٹر کیپٹن الطاف جہاز سے آپریشن کو لیڈ کررہے ہیں۔

دو ہفتے قبل کراچی کے ساحل پر پھنسے جہاز کو نکالنےمیں موسم بڑی رکاوٹ بن گیا تھا۔ ری فلوٹنگ آپریشن میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں سے مزاحمت کاسامنا کرنا پڑا۔20ناٹیکل مائل فی گھنٹہ رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعث مشکلات درپیش رہیں۔

اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟

 سی ویو پر پھنسے جہاز کو نکالنے کيلئے ٹگ بوٹ سے باندھا گيا رسہ ٹوٹ گيا تھا۔ سی میکس کمپنی کے نمائندے عارف شیخ نے بتایا تھا کہ جہاز کو نکالنے کا آپریشن مؤخر کیا گیا۔ ہارمنی ٹگ بوٹ کو رسےسے کھینچ کر جہاز کوگہرےسمندرمیں لےجانا تھا۔ عارف شیخ نے مزید بتایا کہ خراب موسم کے باعث جہاز واپس ساحل کی طرف آگیا ،جہاز جب تک2500 میٹر سمندر میں نہیں پہنچ جاتا آپریشن کامیاب نہیں کہا جاسکتا۔ ایان شپ بیکرز نے بتایا تھا کہ بحری جہاز کو  700 میٹر تک سمندر کے اندر کھینچا گیا تاہم  جہاز دوبارہ 150 میٹر پر واپس آگیا ۔

کراچی کے ساحل سے اتوار 22 اگست کو کرین بردار بارج کو نکال لیا گیا تھا۔ شپنگ ایجنٹ کیپٹن عاصم اقبال نے امید ظاہر کی تھی کہ پھنسے ہوئے بحری جہازکو جلد نکال لیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا۔

شپنگ ایجنٹ عاصم اقبال نے مزید بتایا تھا کہ کرین بردارکشتی کو مقامی ٹگ کے ذریعے نکالا گیا ۔ پیر 23 اگست کو گہرے سمندر میں کھڑی ٹگ بوٹ ہارمنی تک فولادی رسہ پاس ہوگیا تھا۔نمائندہ سی میکس عارف شیخ کے مطابق ساڑھے3 ہزار میٹر لمبا نیا فولادی رسہ ٹگ بوٹ تک پہنچنا اہم مرحلہ تھا۔

مزید پڑھیں:کراچی:ساحل پرپھنسا جہازدوبارہ ریت کی جانب آگیا

کراچی کے ساحل پر ڈیڑھ ماہ سے زائد پھنسے بحری جہاز کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن کیلئے دبئی سے آنے والی ہارمنی ٹگ بوٹ 3 ہفتے قبل خراب ہوگئی تھی۔سی میکس کمپنی کے نمائندے عارف شیخ نے بتایا تھا  کہ ہارمنی ٹگ بوٹ میں لیکج ہوئی تھی جو مرمت سے ٹھیک کرلی گئی۔

اس سے قبل جہاز کو کھینچنے کیلئے باندھا گیا فولادی رسہ ٹوٹ کر سمندر میں گم ہوگیا تھا۔ رسہ ٹوٹنے سے قبل جہاز کو نکالنے والی کرین بردار بارج خود پھنس گئی تھی۔یوم آزادی پرعوام کی بڑی تعداد کےجہاز تک پہنچ جانے سے بھی آپریشن تاخیر کا شکار ہوا تھا۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جہاز نکالنے کیلئے سمندر میں مطلوبہ اونچی لہریں 20 اگست کے بعد متوقع ہونگی تاہم اس میں بھی کامیابی نہ مل سکی۔

واضح رہے کہ ساحل پر پھنسے جہاز ہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے کے لیے ٹگس اور بارج مقامی کمپنی کو استعمال کیا گیا لیکن خراب موسم اور تکنیکی وجوہات کے باعث جہاز کو نکالنے کا آپریشن معطل کرنا پڑا تھا۔

مزید پڑھیں:ساحل پر پھنسے جہاز کو نکالنے کیلئے آپریشن روک دیا گیا

ایک ماہ قبل وزارت بحری امورنے جہاز کو قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جہاز سمندری سفر کیلئے ناموزوں ہوچکا تھا اور اس فیصلے سے کپتان کو تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ۔ جہاز کو سمندر میں جانے کے قابل نہ ہونے پر پاکستان مرچنٹ آرڈیننس 2001 کی شق 400 کے تحت قبضے میں لیا گیا۔

واضح رہے کہ کراچی کے ساحل پر ہینگ ٹونگ 77 بحری جہاز 21 جولائی کو ریت میں دھنسا تھا۔ اس کو نکالنے کے لیے پہلا آپریشن 10 اگست کو کیا تھا۔ پہلے آپریشن کو تیکنکی خرابی کی وجہ سے روک دیا گیا تھا لیکن جہاز کو 200 فٹ تک پانی کی جانب دھکیل دیا گیا تھا۔ 11 اگست کو ہونے والے آپریشن میں ٹگ بوٹ خراب ہوگئی تھی اور جہاز واپس ریت کی جانب آگیا تھا۔12 اگست کو جہاز کو 600 فٹ تک سمندر کی طرف کھینچ لیا گیا تھا جب کہ اونچی سمندری لہروں اور ہواؤں نے جہاز کا رخ 45 ڈگری سمندر کی طرف قدرتی طور پر موڑ دیا تھا۔ تاہم 13 اگست کو تیز ہواؤں اور سمندری لہروں نے پچھلی پوزیشن پر دوبارہ موڑ دیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
Ship,Rescue mission,Sea view,Karachi Port,Karachi Harbor,Heng Tong 77
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube