Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

لاہور: خاتون سے بدسلوکی کے کیس میں 98ملزمان رہا

SAMAA | - Posted: Sep 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Sep 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago

Lahore woman harassment

لاہور میں خاتون سے دست درازی کے کیس میں سیشن کورٹ نے شناخت نہ ہونے والے 98 ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ نے کیس پر سماعت کی۔ عدالت کے روبرو 98 زیر حراست افراد کو جیل سے لا کر پیش کیا گیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کو گریٹر اقبال پارک میں خاتون سے دست درازی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، 104 افراد کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھجوایا گیا تھا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ ملزمان کو کس بنیاد پر گرفتار کیا گیا، ملزمان کو جیل بھجوانے سے پہلے کون سے ثبوت لیے گٸے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ 98 ملزمان کی شناخت پریڈ کے دوران شناخت نہیں ہو سکی، متاثرہ خاتون نے صرف چھ افراد کو شناخت کیا تھا، حراست میں لیے گئے ان افراد کو جیل میں رکھنے کا جواز نہیں ہے، عدالت رہا کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے حراست میں لیے گئے 98 افراد کو مقدمہ سے ڈسچارج اور رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

بدھ یکم ستمبر کو متاثرہ خاتون نے 104ملزمان میں سے 6افراد کو شناخت کیا تھا۔ شناخت پریڈ کے لیے 104 ملزمان کو 21اگست کو لاہور کی کیمپ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز متاثرہ خاتون نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ واقعے میں کل 12 سے 15 ملزمان شامل تھے۔

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں 14اگست کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر سے بدسلوکی کا واقعہ رونما ہوا جس پر پولیس نے 400 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا۔ تاہم وائرل ہونے والی ویڈیوز کے ذریعے تقریباً 100 سے زائد افراد کو شناخت کرکے گرفتار کیا گیا تھا۔

مینار پاکستان پر خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم کے ساتھ بدسلوکی کے واقعے کا سپریم کورٹ نے 23 اگست کو ازخود نوٹس لیا۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے انسانی حقوق سیل میں واقعے سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube