Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

فیکڑی آتشزدگی:دم گھٹنےسےمرنیوالے17مزدوروں کی موت کاذمہ دارکون

SAMAA | - Posted: Aug 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کراچی کے صنعتی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات معمول ہیں۔ یوں تو شہر کے مختلف علاقوں میں 24 فائر اسٹیشنز ہیں لیکن جب بھی صنعتی علاقوں میں کسی فیکٹری میں آگ لگتی ہے تو ایک شکوہ سامنے آتا ہے کہ آگ بجھانے والی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جس کی وجہ سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ صنعتی علاقوں کی بہتری کے لیے صوبائی و شہری حکومت نے ماضی میں کوئی بھی اجلاس بلایا تو انتظامیہ حکومت سے صنعتی علاقوں میں آگ بجھانے کے انتظامات کو بہتر کرنے پرزور دیتی رہیں۔

اگست 27 کو کورنگی صنعتی ایریا میں واقع کیمیکل فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور اس افسوسناک واقعے میں 17 مزدور دم گھٹنے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔ تاحال آگ لگنے کی وجوہات کا تعین نہیں ہوسکا لیکن موقع پر موجود فیکٹری ملازمین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی آگ بجھانے والی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں جس کی وجہ سے آگ نے شدت اختیار کرتے ہوئے پوری بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اپریل27  کو کورنگی کے علاقے مہران ٹاون میں واقع سوٹ کیس بنانے والی فیکٹری میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ فیکٹری میں کام کرنے والے ملازمین کے مطابق آگ صبح 8 بجے لگی۔ ملازمین نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی مگر ناکامی پر فائر بریگیڈ کو کال کر دی۔

محکمہ فائر بریگیڈ کے سینٹرل کنٹرول روم کے ریکارڈ کے مطابق آگ کی پہلی اطلاع صبح 10بج کر8 منٹ پر ملی جس پر 10 بج کر 10 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر نمبر 605 کورنگی فائر اسٹیشن سے روانہ ہوا۔ دوسرا فائر ٹینڈرلانڈھی فائر اسٹیشن سے 10 بج کر 24منٹ پر اور تیسرا فائر ٹینڈر شاہ فیصل فائر اسٹیشن سے10 بج کر 26 منٹ پر جائے وقوع کی طرف روانہ ہوا۔

کورنگی فائر اسٹیشن سے روانہ ہونے والا پہلا فائر ٹینڈر 10 بج کر 48 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا اور ڈرائیور مقصود خان نے کنٹرول روم کو صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر فوری طور پر اسنارکل روانہ کرنے کا پیغام دیا۔ ریکارڈ کے مطابق گارڈن فائر اسٹیشن سے اسنارکل 10 بج کر 50 منٹ پر روانہ کر دی گئی۔


کنٹرول روم ریکارڈ کے مطابق آگ کی اطلاع ایک موبائل نمبر سے دی گئی۔ اطلاع دینے والے نے جائے حادثہ کا پتا تو بتایا مگر اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ اطلاع دینے والے شخص سے سما ڈیجیٹل نے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کی اس کا نام ظفر ہے اور کہا کہ وہ بھی اسی فیکٹری میں کام کرتا ہے۔ ظفر کے مطابق وہ فیکٹری کے گراؤنڈ فلور پر کام کر رہا تھا جب پہلی منزل پر اچانک آگ بھڑک اٹھی۔


آگ پہلی منزل سے دوسری منزل کی طرف بڑھی جس کی وجہ سے گراؤنڈ فلور پر کام کرنے والے ورکرز تو محفوظ رہے لیکن پہلی اور دوسری منزل پر کام کرنے والے مزدور پھنس گئے۔ ظفر نے بتایا کہ ملازمین نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور پھر فائر بریگیڈ کو کال کر دی۔ ظفر نے دعویٰ کیا کہ فائر بریگیڈ کا عملہ 2 گھنٹے تاخیر سے پہنچا جس کی وجہ سے عمارت میں پھنسے ملازمین، جس میں اس کا بھتیجا بھی شامل ہے، دم گھٹنے کی وجہ سے انتقال کر گئے۔

ظفر سے جب سوال کیا کہ اس نے فائر بریگیڈ کو کس وقت اطلاع دی تو اس نے جواب دیا کہ اس کو صحیح وقت تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ اس وقت 10 بجے کا وقت ہوچکا تھا۔

ظفر کے بیان کے مطابق فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع 10 بجے کے بعد دی گئی جس سے کنٹرول روم ریکارڈ کی تصدیق ہوتی ہے لیکن دوسری طرف یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آگ کی اطلاع دس بجکر آٹھ منٹ پر دی گئی لیکن آگ بجھانے والی پہلی گاڑی چالیس منٹ کے بعد 10 بج کر 48 منٹ پر پہنچی۔ آگ بجھانے والی گاڑی تاخیر سے کیوں پہنچی؟ یہ جاننے کے لیے سما ڈیجیٹل نے کورنگی فائر اسٹیشن کا دورہ کیا اور گاڑی نمبر 605 کے ڈرائیور مقصود خان سے ملاقات کی۔

مقصود نے بتایا کہ وہ 10 بج کر 10 منٹ پر گاڑی فائر اسٹیشن سے لیکر نکل گیا تھا۔ مقصود کے مطابق کورنگی مہران ٹاون کو شان چورنگی اور بروکس چورنگی کی طرف سے راستہ جاتا ہے۔ ڈرائیور نے دعویٰ کیا کہ اس نے آگ کی اطلاع دینے والے شخص کو راستہ پوچھنے کے لیے کئی بار کال کی لیکن اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا جس پر اس نے مہران ٹاون جانے کے لیے شان چورنگی کا راستہ اختیار کیا۔

مقصود نے بتایا کہ جب وہ جائے حادثہ کی طرف جا رہا تھا تو اسے ایدھی فاونڈیشن کی ایک گاڑی دیکھائی دی اور اس نے جب ایمبولینس ڈرائیور سے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو تو اس نے بتایا کہ فیکٹری میں آگ لگی ہے وہ بھی وہیں جا رہا ہے۔ مقصود کا کہنا تھا کہ اس نے پوچھا کہ راستہ معلوم ہے تو ایمبولینس ڈرائیور نے بتایا کہ اسے کنٹرول روم سے کورنگی سیکٹر سیون اے میں واقع جناح میڈیکل کالج اسپتال پہنچنے کا کہا گیا ہے تو فائر بریگیڈ نے بھی اپنی گاڑی اس ایمبولینس کے پیچھے لگا دی لیکن راستے میں ہی کورنگی فائر اسٹیشن سے دوبارہ کال آئی اور بتایا گیا کہ وہ غلط سمت جا رہے ہیں جس پر گاڑی کو بتائے گئے راستے پر گامزن کر دیا گیا۔
مقصود سے جب سوال کیا گیا کہ وہ جائے حادثے پر تاخیر سے کیوں پہنچا تو اس نے بتایا کہ شان چورنگی سے جب مہران ٹاون میں داخل ہوا تو علاقے کی سب سڑکیں کھدی ہوئی ملیں لیکن زیادہ ٹائم جائے وقوعہ کے قریب پہنچ کرمتاثرہ فیکٹری کے قریب جانے میں لگا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ متاثرہ فیکٹری کے قریب پہنچ گئے تو وہاں پر پہلے سے ہی ایدھی اور چھیپا فاونڈیشن کی گاڑیاں بڑی تعداد میں کھڑی تھیں اور اس کو گاڑی لیکر جائے حادثہ پہنچنے میں بہت وقت لگ گیا۔

مقصود نے کہا کہ اس نے لاوڈ اسپیکر پر متعدد بار اعلانات کیے کہ ایمبولینسوں کو ہٹایا جائے مگر ایدھی اور چھیپا کے رضا کار گاڑیاں چھوڑ کر فیکٹری کے پاس چلے گئے تھے۔ ڈرائیورکے مطابق دونوں رفاعی ادارے کے اہلکار لاشیں اٹھانے کے لیے اتنے بے صبر تھے کہ جب دوسری منزل کی گرل توڑ کر اندر داخل ہونے کے لیے سیڑھی لگائی تو ایدھی کے رضاکار سیڑھی پر چڑھ دوڑے اور سیڑھی گر گئی جس میں وہ زخمی بھی ہوئے اور یہ منظر تمام ٹی وی چینلز پر بار بار دیکھایا بھی گیا۔

کنٹرول روم ریکارڈ کے مطابق مہران ٹاون میں آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کے 12 فائر ٹینڈرز، ایک اسنارکل اور ایک ریسکیو ٹرک نے حصہ لیا لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کورنگی صنعتی ایریا میں لگی آگ بجھانے کے لیے شہر بھر سے گاڑیاں بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جب کورنگی فائر اسٹیشن کا دورہ کیا تو دیکھا کہ فائر ٹینڈر نمبر 605 کے ساتھ ایک اور فائر ٹینڈر نمبر 606 بھی کھڑا ہے۔ اسٹیشن میں موجود اسٹاف سے جب پوچھا کہ فائر ٹینڈر نمبر 606 نے بھی آگ بجھانے کے عمل میں حصہ لیا تو جواب ملا نہیں۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو بتایا کہ کورنگی فائر اسٹیشن میں 2 فائر ٹینڈرز ہیں اور 2 ہی ڈرائیورز ہیں جو صبح اور رات کی شفٹ میں کام کرتے ہیں تو لہذا صبح اور رات کے اوقات میں ایک ہی گاڑی چلتی ہے۔

کیا اگر فائر بریگیڈ کا عملہ وقت پر پہنچ جاتا تو کئی قیمتی جانوں کا بچایا جا سکتا تھا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے جب تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ جائے حادثہ سے ایک کلومیٹر پر فائر بریگیڈ نے ڈیڑھ ماہ پہلے فائر اسٹیشن بنایا تھا اور وہاں 2 گاڑیاں بھی موجود تھیں مگر عملہ موجود نہ ہونے کی وجہ سے وہ گاڑیاں روانہ نہ کی جا سکیں۔

سما ڈیجیٹل نے بروکس چورنگی پر واقع کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کے اے ٹی آئی) کے دفترکے باہر واقع اس نئے فائر اسٹیشن کا دورہ کیا تو وہاں سنگ بنیاد کی تختی لگی دیکھی جس کی مطابق اس نئے اسٹیشن کا نام کے اے ٹی آئی فائر اسٹیشن رکھا گیا ہے اور اس کا افتتاح گورنر سندھ عمران اسماعیل نے رواں سال 8 جولائی کو کیا تھا۔ اس نئے فائر اسٹیشن کے باہر 2 نئے فائر ٹینڈرز کھڑے تھے جن پر کافی مقدار میں دھول مٹی پڑی ہوئی تھی مگر اس کے باوجود نئی گاڑیاں چم چما رہی تھیں۔

جب اس نئے فائر اسٹیشن کا بیک گراؤنڈ جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس سال فروری میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کو وفاقی حکومت نے 50 نئے فائر ٹینڈرز دیئے تھے اور کے اے ٹی آئی فائر اسٹیشن میں موجود 2 فائر ٹینڈرز بھی ان 50 میں شامل ہیں۔ چونکہ صنعتی علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات معممول ہیں تو اس وجہ کو سامنے رکھتے ہوئے شہر میں واقع تمام صنعتی علاقوں کو دو دو فائر ٹینڈرز دیئے گئے ہیں تا کہ اگر صنعتی علاقے میں واقع کسی فیکٹری میں آگ لگ جائے تو وہیں موجود آگ بجھانے والی گاڑیاں فورا وہاں پہنچ جائیں اور کے اے ٹی آئی فائر اسٹیشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

اگر کے اے ٹی آئی فائر اسٹیشن سے آگ بجھانے والی گاڑیاں متاثرہ فیکٹری پہنچ جاتیں تو انسانی جانیں بچائی جا سکتی تھیں؟ کے اے ٹی آئی فائر اسٹیشن سے متاثرہ فیکٹری کو 2 راستے جاتے ہیں اور دونوں راستوں کا جلنے والی فیکٹری سے درمیانی فاصلہ زیادہ سے زیادہ 1.8 کلومیٹر اور کم از کم 1.3 کلومیٹر ہے۔ کورنگی فائر اسٹیشن، جہاں سے پہلا فائر ٹینڈر روانہ ہوا، کا متاثرہ فیکٹری کا درمیانی فاصلہ 5.8 کلومیٹر ہے۔ آگ بجھانے کے لیے دوسری گاڑی لانڈھی فائر اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ لانڈھی فائر اسٹیشن سے متاثرہ فیکٹری کو بھی 2 راستے جاتے ہیں جن کا درمیانی فاصلہ 12.9 کلومیٹر اور 14 کلومیٹر ہے۔ اسی طرح تیسرا فائر ٹینڈر شاہ فیصل فائر اسٹیشن سے روانہ ہوا اور اس فائر اسٹیشن سے بھی آگ میں جلنے والی فیکٹری کو دو راستے جاتے ہیں جن کا درمیانی فاصلہ 10.8 کلومیٹر اور 13.4 کلومیٹر ہے۔

سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے چیف فائر آفیسر مبین احمد نے اس بات کی تصدیق کی کہ نئے آنے والے فائر ٹینڈرز میں سے کورنگی صنعتی ایریا کو بھی دو فائر ٹینڈرز دیئے گئے ہیں اور دونوں گاڑیاں بروکس چورنگی پر واقع کے اے ٹی آئی کے دفتر کے باہربنائے گئے نئے فائر اسٹیشن میں کھڑی ہیں لیکن مہران ٹاون میں واقع فیکٹری میں لگی آگ کو بجھانے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن میں ان فائر ٹینڈرز نے حصہ نہیں لیا۔

چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ نئے ملنے والے فائر ٹینڈرز مختلف محکموں کا بانٹ دئیے گئے ہیں۔ تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2 گاڑیاں سی پی ایل سی، 2 گاڑیاں رینجرز، 2 گاڑیاں کراچی پورٹ ٹرسٹ، 2 گاڑیاں کورنگی صنعتی ایریا، 2 گاڑیاں سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری،2 گاڑیاں نیو کراچی صنعتی ایریا، 2 گاڑیاں ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اور 2 گاڑیاں سائٹ سپر ہائی وی انڈسٹریل ایریا کو دے دی گئی ہیں لیکن ان گاڑیوں کو چلانے کے لیے تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں۔

مبین احمد کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس نئی آنے والی گاڑیوں میں سے 34 گاڑیاں ہیں جو مختلف فائر اسٹیشنز میں بانٹ دی گئی ہیں۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق ان گاڑیوں کو چلانے کے لیے عملے کی تعیناتی کے ایم سی کی ذمہ داری ہے لیکن کے ایم سی کے پاس فائر بریگیڈ ڈیپارٹمنٹ کی گاڑیاں چلانے کے لیے بھی درکار اسٹاف موجود نہیں ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ فائر بریگیڈ نے کے اے ٹی آئی کی انتظامیہ کو تجویز دی ہے کہ اگر کے ایم سی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے میں ناکام ہے تو وہ فائر بریگیڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کو کانٹریکٹ پر بھرتی کر کے ان کھڑی گاڑیوں کو سڑک پر لے آئے۔

مبین احمد کے مطابق محکمہ فائر بریگیڈ میں سال 2009 کے بعد سے کوئی بھرتی نہیں ہوئی۔ عملے کی کمی کی صورت حال بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سالوں میں محکمے کے کئی ملازمین یا تو انتقال کر گئے یا پھر مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔

چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ ارباب اختیار کو عملے کی فراہمی کے لیے کئی بار درخواست کر چکے ہیں لیکن تاحال محکمے میں کوئی نئی بھرتی نہیں سکی۔

جب مبین احمد سے سوال کیا گیا کہ ایک گاڑی کوچلانے کے لیے کتنا عملہ درکار ہوتا ہے تو جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے والی ایک گاڑی کو ایک شفٹ میں چلانے کے لیے 8 تربیت یافتہ عملہ جس میں 6 فائر مین، ایک ڈرائیور اور ایک ہیلپر کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر 2 شفٹ میں گاڑی چلائی جائے تو ایک گاڑی کے لیے 16 تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube