Thursday, October 28, 2021  | 21 Rabiulawal, 1443

بیوی پر تیزاب سے حملہ، ملزم میں ہمت کیسے پیداہوئی؟

SAMAA | - Posted: Aug 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago

MANDI BAHAUDDIN, ACID ATTACK,

ذیشان صبح 7 بجے سے ہی میرے گھر کے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ میرا بھائی جب نوکری پر جانے کیلئے گھر سے نکلا تو اس نے ذیشان کو دیکھ لیا تھا۔ بھائی نے مجھے ساڑھے 7 بجے کال کی اور بتایا کہ ذیشان گھر کے باہر بیٹھا ہوا ہے تو میں نے بھائی سے کہا کہ چھوڑ دو، پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے، طلاق کی بات ہوچکی ہے اور اس کے گھر خلع کا نوٹس بھی جاچکا ہے۔ بھائی سے بات کرنے کے بعد میں بھی دفتر جانے کیلئے گھر سے نکلی اور جیسے ہی دروازے کو تالا لگا کر آگے بڑھی تو حسب معمول ذیشان پیچھے آگیا اور تیزاب نکال لیا۔ میں سمجھی شاید یہ پانی کی بوتل ہے۔ ذیشان نے کہا کہ میں نے تمہیں کہا تھا ناں کہ تم میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں ہوسکتیں۔ میں نے سوچا کہ شاید ایسے ہی بول رہا ہے لیکن میرے دل میں خوف آیا اور میں اپنے گھر واپس جانے کیلئے پلٹ گئی، دروازے پر تو میں تالا لگا چکی تھی۔ صبح صبح کا وقت تھا اور گلی میں کوئی بھی نہیں تھا، ذیشان میرے پیچھے پیچھے آرہا تھا۔ میں نے پڑوسی کا دروازہ کھلا دیکھا اور ان کے گھر جانے لگی تو ذیشان نے میرا برقعہ کھینچا اور مجھ پر تیزاب پھینک دیا۔

یہ واقعہ ہفتے کے دن سعید آباد کے علاقے کباڑی چوک میں شوہر کے ہاتھوں تیزاب گردی کا نشانہ بننے والی رمشا نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے سنایا۔

رمشا، جو کہ سول اسپتال کراچی کے برنس وارڈ میں زیر علاج ہے، نے بتایا کہ ذیشان 4 ماہ پہلے ہی دھمکی دے چکا تھا کہ اگر وہ اس کے پاس نہیں آئے گی تو وہ اسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دے گا۔

متاثرہ خاتون کے مطابق اس نے ذیشان کی مار پیٹ سے تنگ آکر 4 ماہ قبل ہی خلع کیلئے کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی تھی۔ خلع حاصل کرنے کے بعد رمشا کے والدین اس کی شادی اس کے کزن سے کروانا چاہتے تھے اور ذیشان کو اس کا بخوبی علم تھا۔ ادھر ذیشان کے والدین نے بھی اس کی منگنی اس کی کزن سے کردی تھی۔

رمشا کے مطابق ذیشان روز اس کے گھر کے باہر آجاتا اور اسے واپس گھر آنے کیلئے دباؤ ڈالتا۔ جب رمشا نے ذیشان کو بتایا کہ اس کے والدین نے اس کی منگنی اس کی ایک کزن سے کردی ہے اور اس کے تمام ثبوت اس کے پاس موجود ہیں تو اس نے کہا کہ وہ اپنی منگنی بھی توڑ دے گا اگر وہ واپس اس کے پاس آجائے۔

رمشا نے بتایا کہ اس نے ذیشان کی پیشکش یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ وہ اسے مارتا ہے، اس سے بدتمیزی کرتا ہے اور کوئی کام بھی نہیں کرتا۔

متاثرہ خاتون کے مطابق ذیشان اسے کہتا تھا کہ اس کے باپ کے پاس بہت پیسہ ہے اور وہ پیسہ اس کیلئے ہی تو ہے۔

رمشا نے بتایا کہ اس نے ذیشان کے ساتھ بھاگ کر عدالت میں شادی کی تھی۔ بھاگ کر شادی کی وجوہات بتاتے ہوئے رمشا نے کہا کہ ذیشان کے گھر والے اس شادی کیلئے راضی نہیں تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ سید ہیں اور وہ اس کی شادی کسی سید سے ہی کروائیں گے اور دوسری طرف اس کے والدین بھی اسی وجہ سے اس شادی کیلئے راضی نہیں تھے۔

رمشا نے بتایا کہ اس نے شادی سے پہلے ذیشان کو کئی بار بولا کہ وہ شادی تو کرلیں گے لیکن ان کے گھر والے انہیں قبول نہیں کریں گے اور پھر وہ اس کی زندگی اجیرن کر دیگا لیکن اس نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

متاثرہ خاتون کے مطابق وہ شادی کے 4 ماہ تک اپنے والدین سے نہیں ملی لیکن پھر ایک دن ذیشان رات کو 3 بجے گھر آیا اور اسے اتنا مارا کہ اس کو لہولہان کردیا، جس پر وہ ناراض ہوکر اپنے گھر گئی۔ رمشا کے والدین اسے لیکر سعیدآباد تھانے چلے گئے اور ذیشان کے خلاف مارپیٹ کرنے پر شکایت درج کروا دی لیکن دو تین ماہ ہی گزرے تھے کہ ذیشان اسے راضی کرکے اپنے ساتھ واپس لے گیا۔

رمشا نے بتایا کہ اس سال فروری میں اس نے آئے روز مار پیٹ سے تنگ آکر ذیشان سے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا اور وہ اپنے ماں باپ کے گھر واپس آگئی لیکن ذیشان روز اس کے گھر کے باہر آکر کھڑا ہوجاتا اور جب وہ گھر سے باہر نکلتی تو وہ اسے تنگ کرتا۔ متاثرہ خاتون روز روز ہراساں ہونے سے تنگ آکر ایک بار پھر سعید آباد تھانے ذیشان کے خلاف شکایت درج کروانے گئی جس پر پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پہلے ذیشان سے خلع لے پھر وہ اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائے گی۔

رمشا کے مطابق اس نے ذیشان سے خلع کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی اور عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ذیشان کو نوٹسز جاری کئے اور وہ درخواست اور نوٹسز کی کاپی لیکر ایک بار پھر سعید آباد تھانے گئی اور پولیس سے درخواست کی کہ ذیشان کیخلاف کارروائی کرے، کیونکہ وہ روز اسے دفتر آتے جاتے تنگ کرتا ہے جس پر پولیس نے جواب دیا کہ ذیشان کے والد نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ اسے آئندہ تنگ نہیں کرے گا لیکن ایک ماہ بعد ہی اس نے رمشا پر تیزاب پھینک دیا۔

دوران انٹرویو رمشا نے بتایا کہ اس سال ذیشان نے نئے سال کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کیم جس کے نتیجے میں قریبی کھڑا ایک شخص جاں بحق جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوگیا۔ متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ذیشان نے قریبی کھڑے شخص کو انجانے میں نہیں بلکہ جان بوجھ کر گولی ماری، ذیشان کی اس سے پرانی دوستی تھی۔

اس واقعے کے بعد ذیشان اسے لیکر راتوں رات ایبٹ آباد فرار ہوگیا۔ دو روز کے بعد جب وہ ایبٹ آباد سے واپس آئے تو سعیدآباد پولیس کی ٹیم نے گھر پر چھاپہ مارا اور اس کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن ذیشان کے والد نے پولیس کو ڈیڑھ لاکھ روپے دیکر اسے گرفتار ہونے سے بچالیا۔

ذیشان کی مجرمانہ سرگرمیوں کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے جب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بلدیہ ٹاؤن فیضان علی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ذیشان کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے۔

ایس پی بلدیہ نے تصدیق کی کہ سال نو کی خوشی میں بلدیہ ٹاؤن میں ہوائی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا اور اس واقعے کا مقدمہ سعید آباد تھانے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 337 کے تحت درج کیا گیا جس میں کچھ افراد کو نامزد کیا گیا ان میں ذیشان بھی شامل ہے۔

تاہم ایس پی نے اس سارے معاملے کی مکمل تفصیل بتانے سے معذرت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور اس وقت مکمل تفصیلات فراہم کرنا مناسب نہیں۔

ایس پی نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ متاثرہ خاتون کئی بار ملزم کے مظالم سے تنگ آکر سعید آباد شکایت درج کروانے گئی اور آخری بار پولیس نے دونوں خاندانوں کو بلاکر صلح بھی کروائی۔ ایس پی کے مطابق ذیشان کے والد نے پولیس کو تحریری صورت میں یقین دہانی بھی کروائی کہ ان کا بیٹا آئندہ رمشا کو تنگ نہیں کرے گا۔

سول اسپتال برنس وارڈ حکام کے مطابق اس واقعے میں رمشا کے جسم کا 36 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube