Sunday, October 24, 2021  | 17 Rabiulawal, 1443

کراچی: بلدیہ ٹاؤن میں سابق شوہرنے خاتون پرتیزاب پھینک دیا

SAMAA | and - Posted: Aug 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Aug 21, 2021 | Last Updated: 2 months ago
MANDI BAHAUDDIN, ACID ATTACK,

فائل فوٹو

سعید پولیس کا کہنا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی نوجوان نے مبینہ طور پر ٹک ٹاک پر ویڈیوز پوسٹ کرنے پر اپنی سابقہ بیوی پر تیزاب پھینک دیا۔

پولیس کے مطابق بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی نوجوان نے اپنی سابقہ بیوی رمشا پر کباڑی چوک سیکٹر 9 کے قریب تیزاب سے حملہ کیا۔

خاتون کو زخمی حالت میں پہلے قریبی نجی اسپتال لے جایا گیا جہاں سے اسے علاج کیلئے سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔

سول اسپتال کراچی کے برنس سینٹر کے سربراہ ڈاکٹر احمر العبران نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون کا اوپری دھڑ 36 فیصد جھلس گیا ہے۔

متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک لاء فرم سے منسلک اور سٹی کورٹ میں کام کرتی ہے جبکہ اپنے فارغ اوقات میں ٹک ٹاک پر ویڈیوز بھی پوسٹ کرتی ہے۔

سول اسپتال برنس سینٹر کے باہر میڈیا سے گفتگو میں متاثرہ خاندان نے تیزاب پھینکنے کے واقعے کا الزام رمشا کے سابق شوہر ذیشان پر لگایا۔

متاثرہ لڑکی کی والدہ نازیہ نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذیشان کو ان کے گھر کے سامنے موٹر سائیکل پر دیکھا تھا جب ہفتہ کی صبح رمشا کام کیلئے نکل رہی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے ہاتھ میں کسی محلول سے بھری ایک پلاسٹک کی بوتل بھی تھی، جو دیکھنے میں پیٹرول جیسی لگ رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ میں گھر سے نکلنے کے چالیس منٹ بعد میری بڑی بیٹی نے مجھے فون کرنا شروع کیا۔ مجھے دوسری طرف سے صرف چلانے اور افراتفری کی آوازیں آرہی تھیں۔ مجھے صرف اتنا سمجھ آیا کہ ’’رمشا پر کسی تیزاب پھینک دیا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ رمشا کو اسپتال پہنچانے میں تین گھنٹے لگے، میری بیٹی کی کمر، گردن اور دھڑ مکمل طور پر جھلس چکی ہے۔

نازیہ نے بتایا کہ رمشا اور ذیژان کی شادی 2019ء میں ہوئی تھی، وہ 18 سال کا بھی نہیں جب اس نے میری بیٹی سے شادی کی، شادی کے 4 ماہ کے دوران ذیشان نے رمشا کو مارنا پیٹنا شروع کردیا۔

رمشا کی والدہ کا کہنا ہے کہ مجھے یاد ہے جب وہ پہلی مرتبہ گھر آئی تو اس کی آنکھیں سوجی ہوئ تھیں جبکہ اس کی ناک سے خون بہ رہا تھا، اس کے جسم پر بھی زخموں کے کئی نشانات تھے۔

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو میں نازیہ نے کہا کہ تقریباً 6 ماہ بعد یہ سب دوبارہ ہوا، ذیشان نے سر عام اسے تھپڑ مارا اور رات کے 3 بجے ایک پارک کے باہر چھوڑ کر چلا گیا۔

گھریلو تشدد بڑھا تو متاثرہ خاندان ذیشان کیخلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے پولیس پاس گیا تاہم پولیس نے معاملہ اپنے طور پر سلجھانے کا کہا۔ اس کے بعد رمشا نے خلع کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا اور رواں سال فروری میں اس شادی کا خاتم ہوگیا۔ اس نے نوکری کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

نازیہ نے بتایا کہ ذیشان اس سے جلنے لگا اور جب اسے اندازہ ہوا کہ اب اسے (رمشا کو) اس کی ضرورت نہیں تو وہ خود کو مزید غیر محفوظ سمجھنے لگا، اس نے رمشا کا پیچھا کرنا شروع کیا اور اسے کام پر جانے سے روکنے لگا، ساتھ ذیشان اسے اپنے ساتھ گھر جانے کیلئے بھی مجبور کرنے لگا۔

خاتون کا دعویٰ ہے کہ ذیشان کا والد ایک طاقتور شخص ہے اور وہ لوگوں کو اپنے بیٹے کی حفاظت کیلئے رشوت دیتا رہتا ہے۔

نازیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر بہت زیادہ پر امید نہیں ہے، میری بیٹی اس معاملے کو ختم کرنا چاہتی ہے تاہم میں اسے لڑائی جاری رکھنے کا کہتی ہوں کیونکہ یہ ذیشان جیسے لوگوں سے بہترین انتقام ہے۔

ایس پی بلدیہ ٹاؤن فیضان علی کا کہنا ہے کہ اس جوڑے نے فروری میں اپنی راہیں جدا کرلی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ رمشا کے اہل خانہ نے ذیشان کی جانب سے زبردستی رمشا کو اپنے گھر لے جانے کی کوشش پر سعید آباد پولیس سے چند ماہ قبل رابطہ کیا گیا۔

پولیس نے دونوں خاندانوں کو بلا کر ان کا مؤقف سنا تھا۔ ذیشان کے والد نے تحریری طور پر یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا بیٹا آئندہ سے رمشا کو زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا رمشا پر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے کی وجہ سے حملہ کیا گیا، جس پر ایس پی نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ذیشان نے حملہ کیو کیا۔ ایس پی بلدیہ نے بتایا کہ پولیس ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے ماررہی ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے تیزاب حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ساتھ ہی ملزم کی گرفتاری بھی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ متاثرہ خاتون کو ہر ممکن طبی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube