Sunday, October 24, 2021  | 17 Rabiulawal, 1443

بلدیہ دستی بم حملہ:قسمت نے دلہن کو حادثے سے بچا لیا

SAMAA | - Posted: Aug 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہفتہ کی رات ہونے والے دستی بم حملے میں نئی نویلی دلہن سانحے کا شکار ہونے سے بچ گئی۔ حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق، جب کہ 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

واقعہ اس وقت رونما ہوا جب شادی کے بعد دلہن کے اعزاز میں لانڈھی کے علاقے شیرپاؤ کالونی میں خاندان کی خواتین کیلئے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ روایتی اصولوں کے مطابق تقریب میں خواتین ہی مدعو تھیں، جو اپنے والد یا شوہر کے ہمراہ شریک ہونے گئیں تھیں، یہ ہی وجہ ہے کہ حملے میں بڑی تعداد میں خواتین ہی نشانہ بنیں۔

قسمت نے دلہن کا ساتھ دیا اور وہ حملے کے متاثرین میں شامل ہونے سے بچ گئی۔ واقعہ آر سی ڈی ہائی وے پر حب ریور روڈ کے قریب مواچھ گوٹھ کے موڑ پر پیش آیا۔

ہنستے مسکراتے اور کھلتے ہوئے چہرے شادی کے گانوں کو دہراتے تقریب سے واپس آپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ تقریب میں شرکت کیلئے خواتین کو لانے لے جانے کیلئے منی شہزور ٹرک کا بندوبست کیا گیا تھا۔

سفید رنگ کے اس شہزور کا عقبی حصہ 25 مسافروں کے بیٹھنے سے بھر گیا تھا۔ جس میں خواتین کے ہمراہ ان کے بیٹے بھائی بھی سوار تھے۔ منی ٹرک جیسے ہی مواچھ گوٹھ کے موڑ پر پہنچا، یکا یک ہنستے گاتے چہروں کی خوشیاں ماتم میں تبدیل ہوگئیں۔

دہشت گرد اس بھرے ٹرک پر دیسی ساختہ ہینڈ گرینڈ پھینک کر با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

حادثے کے فوراً بعد موصول اطلاعات کے مطابق متاثرین فقیر گوٹھ سے واپس آرہے تھے۔

اے این پی سندھ کے سیکریٹری جنرل یونس بونیری نے سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں بتایا کہ بلدیہ دھماکے میں پارٹی رکن فرمان علی کی بیٹی بھی زخمی ہوئی۔ بونیری کے مطابق فرمان علی جانسن کمپنی میں کام کرتا ہے اور مزدور لیڈر بھی ہے۔ فرمان علی اور اس کی فیملی گزشتہ 40 سال سے عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ ہے۔

بونیری نے مزید بتایا کہ فرمان علی اور اس کے چاروں بھائی شیرپاؤ کالونی قائد آباد میں رہتے ہیں اور اس حادثے میں جاں بحق ہونے والی خواتین اور بچوں کا تعلق ان کے بھائیوں سے ہے۔

واقع کی تفصیل بتاتے ہوئے بونیری نے کہا کہ خاندان کا تعلق سوات سے ہے۔ کچھ روز قبل فرمان علی کے خاندان کی بیٹی کی شادی بلدیہ ٹاؤن میں مقیم لڑکے سے ہوئی۔ لڑکے کا تعلق بھی سوات سے ہے اور آپس میں رشتے دار ہیں۔ فرمان علی کے خاندان میں ایک رسم ہے جس کے مطابق شادی کے کچھ روز بعد لڑکے والے لڑکی والوں کی دعوت کرتے ہیں جس میں لڑکی والوں کے گھر کی خواتین شرکت کرتی ہیں اور واپسی پر لڑکی کو کچھ دنوں کے لیے اپنے ساتھ لے جاتی ہیں اور گزشتہ روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

بونیری کے مطابق فرمان علی کی فیملی نے کھانے کے بعد رخصت لی۔ انہوں نے ایک شہزور ٹرک کرائے پر لیا۔ اس ٹرک کے کیبن میں چٹائی بچھائی اور تمام خواتین اور بچے اس کیبن میں بیٹھ گئے۔

بونیری کے مطابق رسم کے مطابق دلہن کو ان کے ساتھ جانا تھا مگر دلہے کے گھر والوں نے اسے یہ کہہ کر روک لیا کہ رات زیادہ ہوگئی ہے اور دلہن کو دلہا اتوار کو کل کسی وقت بھی دن میں خود چھوڑ جائے گا۔ جس کی وجہ سے دلہن اس ٹرک میں سوار نہیں ہوئی۔ اور حادثے میں محفوظ رہی۔

حملے میں 6 خاندانوں کی خواتین دہشت گردوں کا نشانہ بنیں۔ جب کہ نشانہ بننے والوں میں 9 خواتین شامل ہیں، جو آپس میں رشتے دار ہیں۔ ان سب کا تعلق سوات سے ہے۔

حادثے کا شکار سلیمہ بی بی عمر 50 سال زوجہ شمشیر علی اپنے 3 بیٹوں کے ساتھ اس المناک حادثے کا شکار ہوئیں۔ ان کے بیٹوں میں 13 سالہ سفیان، 11 سالہ حماد اور 6 سالہ فہد شامل ہیں۔ ابتدا میں 6 سالہ فہد کو شدید زخمی حالت میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلد ہیلتھ منتقل کیا گیا تھا، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکا اور دوران علاج چل بسا۔

حملے میں رحیم دل کی 47 سالہ اہلیہ ملکین بھی اپنے 2 بیٹوں 16 سالہ سلمان اور 15 سالہ عثمان کے ساتھ لقمہ اجل بنی۔ حملے کے بعد 16 سالہ سلمان کئی گھنٹے تک موت سے جنگ لڑتا رہا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔

حملے کا شکار ہونے والی دیگر خواتین کی شناخت 45 سالہ شاہین بیگم، 40 سالہ صداقت بی بی اور 25 سالہ نصرت بی بی کے ناموں سے کی گئی ہیں، جن کے گھر کا سربراہ دلدار ہے۔ صداقت بی بی نے زندگی کی آخری سانسیں ڈاکٹر روتھ فاؤ سول اسپتال میں لیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ابتدا میں زخمیوں اور جاں بحق افرد کو ڈاکٹر روتھ فاؤ اسپتال ہی منتقل کیا گیا تھا۔

حملے میں جاں بحق دیگر افراد میں میراج خان کی اہلیہ 40 سالہ شربت بی بی، جب کہ شیر علی کی 25 سالہ بیٹی اقصیٰ بھی شامل ہے۔ اسی حادثے میں شیر علی کے خاندان کی دیگر 3 خواتین 30 سالہ اقرا، 45 سالہ صفیہ بھی زخمی ہوئیں۔

مواچھ گوٹھ کے اس حملے میں اظہار خان کی 34 سالہ اہلیہ سکینہ بی بی تو بچ گئی تاہم ان کا ایک سال کا بیٹا زویان ان سے بچھڑ گیا۔

دستی بم حملے میں زخمی دیگر افراد کی شناخت 35 سالہ رخسانہ زوجہ عبدالرشید، 35 سالہ وزارت زوجہ شاہد اور 25 سالہ سمیرا بنت فرمان کے ناموں سے کی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube