Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

کراچی:بلدیہ میں گرینڈسےحملہ،جاں بحق افرادکی تعداد13ہوگئی

SAMAA | - Posted: Aug 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھ کے انسداد دہشت گردی ونگ کے سربراہ راجا عمر خطاب کا کہنا ہے کہ ہینڈ گرینڈ حملے کے پیچھے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم ہے۔

سما ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو میں سی ٹی ڈی انچارج عمر خطاب کا کہنا تھا کہ حملے کا طریقہ کار ایک ہی ہے، جو اس سے قبل ہونے والے دھماکوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ طریقہ واردات پچھلے کیے گئے حملوں جیسا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں ہفتہ 14 اگست کی رات دہشت گردوں کی جانب سے اس وقت دستی بم حملہ کیا گیا، جب منی ٹرک میں سوار ایک ہی خاندان کے افراد تقریب میں شرکت سے واپس آ رہے تھے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے، جنہوں نے منی ٹرک میں دستی بم پھینکا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل اسکواڈ ( بی ڈی ایس) موقع پر پہنچ گیا۔ ابتداتی تحقیقات کے مطابق حملہ دستی بم سے کیا گیا، جس میں آر جی ڈی آئی استعمال کیا گیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کے حملوں میں آر جی ڈی آئی استعمال کیا گیا۔

یہ عکس ویڈیو سے لیا گیا ہے

یہ عکس ویڈیو سے لیا گیا ہے

زخمیوں کی شناخت

حملے میں زخمی ہونے والوں کی شناخت سمیرا دختر فرحان عمر 25 سال، وزارت زوجہ شاہد عمر 35 سال، فاحد ولد شمشیر عمر 6 سال، سکینہ زوجہ اظہار عمر 30 سال سلمان ولد رحیم عمر 16 سال رخسانہ عمر 30 سال، صفیہ عمر 45 سال، شیر علی اور 2 نامعلوم افراد شامل ہیں۔

ذاتی دشمنی کا معاملہ؟

ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان کا تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے ہے۔ متاثرہ خاندان شیر پاؤ کالونی قائد آباد سے شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس آ رہا تھا۔

baldia car blast UPD khi 14-08

شبہہ ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ ذاتی دشمنی کے باعث پیش آیا۔ تاہم سی ٹی ڈی انچارج عمر خطاب کے مطابق بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے۔

جہادی تنظیم ملوث نہیں

عمر خطاب کے مطابق میں نے خود جائے وقوعہ کا دورہ کیا ہے اور لوگوں سے بات چیت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چودہ اگست کے موقع پر متعدد افراد موٹر سائیکل پر سوار تھے اور جشن منا رہے تھے۔ خفیہ اطلاعات تھیں کہ 14 اگست کو دہشت گرد بڑے پیمانے پر تخریب کاری کا ارادہ رکھتے تھے، جس کیلئے انہوں نے اس منی ٹرک پر حملہ کیا۔

اس موقع پر سی ٹی ڈی انچارج نے کسی بھی جہادی تنظیم یا ذاتی دشمنی کے خدشے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طریقہ واردات ماضی میں کیے گئے کالعدم علیحدگی پسند تنظیم کے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

منی ٹرک کا ڈرائیور

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے شہزور منی ٹرک کے ڈرائیور کو حراست میں لیکر تفتیش کی گئی ہے۔ 2007 کے منی ٹرک کا ماڈل عامر اقبال کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ منی ٹرک کو پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔

وزیر ٹرانسپورٹ سے گاڑی کے بارے میں رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا پتا لگایا جائے کہ گاڑی صوبہ سندھ کی ہے یا کسی اور صوبے کی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube