Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

پاکستان مزیدافغان مہاجرین کی میزبانی کا متحمل نہیں ہوسکتا،دفترخارجہ

SAMAA | - Posted: Aug 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 13, 2021 | Last Updated: 2 months ago

دفتر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث پاکستان میں مہاجرین کا سیلاب آئے گا تاہم پاکستان مزید میزبانی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ عراقی وزیر خارجہ نے2 روزہ دورہ پاکستان کیا جس میں محرم کے دنوں میں پاکستانی زائرین کے ویزوں پر بات ہوئی ہے۔ پاکستان نے نجف اور کربلا میں قونصل خانے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغانستان سے متعلق انھوں نے بتایا کہ افغان امن عمل میں پیش رفت پر پاکستان کو تشویش ہے اور پاکستان سے زیادہ کوئی ملک افغان امن کا خواہاں نہیں ہوسکتا ہے۔ پاکستان کا واضح موقف ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا سے سیکیورٹی خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں اسپائلر کا کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے افغان سرزمین اپنےخلاف استعمال ہونے اور را اور این ڈی ایس گٹھ جوڑ پر ڈوزئیر پیش کیا اوراس ڈوزئیر کا عالمی برادری کے ساتھ تبادلہ کیا گیا۔ پاکستان اس ڈوزئیر کو اقوام متحدہ میں بھی پیش کرے گا۔ اس کےعلاوہ 11  اگست کو دوحہ میں ٹرائیکا پلس اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان،امریکہ، چین اور روسی فیڈریشن کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان شریک ہوئے۔اس کےعلاوہ افغانستان پر ایک علاقائی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں افغان حکومت کے وفد کی قیادت عبداللہ عبداللہ کررہے تھے اورافغان طالبان کا وفد بھی دوحہ میں موجود تھا۔

ترجمان دفترخارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ افغانستان کے موجودہ حالات کے باعث پاکستان میں مہاجرین کا سیلاب آئے گا تاہم پاکستان مزید افغان مہاجرین کی میزبانی کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بارہا افغانستان کے عسکری حل نہ ہونے کی بات کی اورافغانستان کے مسئلے کا واحد حل سیاسی ہی ہے اورافغانوں نے ہی اس مسئلے کو حل کرنا ہے۔

کشمیر سے متعلق ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اورکشمیری مہاجرین اور سول سوسائٹی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ .وفد او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ عالمی برادری، او آئی سی اور اقوام متحدہ کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ترجمان دفترخارجہ نے افغان سفیر کی بیٹی کے واقعہ پر بتایا کہ افغان سفیر کی صاحبزادی کا بیان ہماری تحقیقات سے مطابقت  نہیں رکھتا اورتحقیقات مکمل کرنے کے لئےافغان سفیر کی بیٹی کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

 ترجمان دفترخارجہ نے دہشت گرد تنظیم سے متعلق بتایا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی کوافغانستان میں بھارت کے کردار کے بارے میں معلوم ہے اور بھارت کے حوالے سے بارہا آگاہ کیا گیا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے اڈےافغانستان میں موجود ہیں اور ٹی ٹی پی  بھارتی جاسوس ادارے را کی مدد سے  پاکستان میں کاروائیاں کررہی ہے۔ ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان افغان حکومت کو ایکشن لینے کے حوالے سے کہتا رہا ہے اور تحریک طالبان پاکستان ایک کالعدم جماعت ہے۔

پڑوسی ملک سے متعلق انھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ بغیر تحقیقات پاکستان پر الزام تراشی کی اور بھارت اس قسم کے الزامات اور واقعات کو فالس فلیگ آپریشن کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے کبھی واقعہ کے فوری بعد کسی پر الزام نہیں لگایا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ داسو اور جوہر ٹاؤن واقعات کی مکمل تحقیقات کے بعد بھارت کے ملوث ہونے کی بات کی گئی اور پاکستان  کے پاس جوہر ٹاؤن اور داسو دہشت گردی کی مکمل منی ٹریل اور ریکارڈ موجود ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube