Tuesday, October 26, 2021  | 19 Rabiulawal, 1443

کراچی: جلنے والے گھرپرقریبی اسٹیشن سے فائرٹینڈرکیوں نہیں بھیجاگیا؟

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 3 months ago

کراچی کے مشہور و معروف فارنزک ماہر ڈاکٹر فرحت مرزا محمد علی سوسائٹی میں اپنے گھر میں آگ لگنے کے واقعے میں بدھ کی رات جاں بحق ہوگئے۔ اگر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں وقت پر وہاں پہنچ جاتی تو شاید ان کی زندگی بچائی جاسکتی تھی۔ سماء ڈیجیٹل کی جانب سے کی گئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ آگ بجھانے کیلئے قریبی فائر اسٹیشن سے فائر بریگیڈ کی گاڑی نہیں بھیجی گئی کیونکہ وہ بند تھا اور ڈیوٹی پر موجود اس کا اکلوتا شخص ایک ڈرائیور اپنے گھر چلا گیا تھا۔

کراچی کے علاقے شاہراہ فیصل پر واقع محمد علی ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکٹر ڈی کے مکان نمبر 19۔ڈی میں آگ لگنے کے واقعے میں پروفیسر ڈاکٹر فرحت مرزا کے ساتھ ایک ریٹائرڈ جج اور ایک ریٹائرڈ ہائر سیکنڈری ٹیچر بھی جاں بحق ہوئے۔

محکمہ فائر بریگیڈ کے مرکزی آفس کے ریکارڈ سے پوری کہانی سامنے آگئی کہ اس رات کیا ہوا تھا۔ انٹری بک کے مطابق مرکزی آفس کو رات 3 بج کر 38 منٹ پر کال موصول ہوئی، فون کرنے والے نے اپنی شناخت طارق کے نام سے کرائی، انہوں نے بتایا کہ بنگہ نمبر 19۔ڈی میں آگ لگ گئی ہے۔ کال موصول ہونے کے صرف 2 منٹ کے اندر ہی سوک سینٹر فائر اسٹیشن سے فائر ٹینڈر نمبر 19 ڈرائیور عرفان کے ساتھ 3 بج کر 40 منٹ پر روانہ ہوا۔ 16 منٹ بعد 3 بج کر 56 منٹ پر عرفان نے مرکزی دفتر کو فون کرکے ایک اور فائر ٹرک بھیجنے کی درخواست کی۔ جس پر فائر ٹینڈر نمبر کے ایف بی 2102 ڈرائیور شیخ اکرم کے ہمراہ جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردیا گیا۔

مرکزی دفتر کو ڈرائیور عرفان کی جانب سے رات 4 بج کر 22 منٹ پر ایک اور فون موصول ہوا، اس نے بتایا کہ آگ پر قابو پالیا گیا تاہم انہیں باؤزور کی ضرورت ہے۔ ڈرائیور کی درخواست پر ناظم آباد فائر اسٹیشن سے باؤزر نمبر 305 آگ لگنے کے مقام پر روانہ کیا گیا۔

سماء ڈیجیٹل نے جب واقعے کی اطلاع دینے والے طارق سے رابطہ کیا تو ان کا فون ایک خاتون نے اٹھایا، جنہوں نے اپنا تعارف مسز فہد کے نام سے کرایا اور بتایا کہ اصل میں کال انہوں نے ہی کی تھی۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کارساز روڈ پر رہتی ہیں۔ ان کی والدہ بنگلہ نمبر 18۔بی میں رہائش پذیر ہیں، جو آگ لگنے والے بنگلے کے پڑوس میں واقع ہے۔ مسز فہد کے مطابق انہیں والدہ نے رات 3 بج کر 33 منٹ پر پڑوسیوں کے گھر میں آگ لگنے کی اطلاع دی اور خدشہ ظاہر کیا کہ ان کا گھر بھی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر منظور کالونی فائر اسٹیشن کے بجائے سوک سینٹر سے فائر ٹینڈر کیوں روانہ کیا گیا؟، جو نسبتاً قریب واقع تھا۔ در حقیقت منظور کالونی فائر اسٹیشن وقوعے سے آدھے فاصلے (3.2 کلو میٹر) پر واقع ہے جبکہ اس کے برعکس سوک سینٹر کا آگ لگنے کے مقام سے فاصلہ 6.4 کلو میٹر ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افسر نے بتایا کہ منظور کالونی فائر اسٹیشن پر صرف ایک فائر ٹینڈر (نمبر 1102) موجود ہے۔ وہ فعال ہے تاہم اسٹیشن بند ہے، کیونکہ اس میں ڈرائیور ڈیوٹی پر نہیں تھا۔ اس فائر اسٹیشن پر صرف ایک ڈرائیور اشتیاق ہوتا ہے، جو بدھ کی صبح 8 بجے ڈیوٹی پر آیا اور 12 گھنٹے کی شفٹ مکمل کرکے رات 8 بجے گھر چلا گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد فائر اسٹیشن بند ہوگیا تھا۔ ایک افسر نے وضاحت کی کہ ’’اگر آپ کے پاس 10 فائر فائٹرز ہوں لیکن فائر ٹینڈر چلانے کیلئے ڈرائیور نہ ہو تو یہ تمام فائر فائٹرز کسی کام کے نہیں ہیں۔

محکمہ فائر بریگیڈ کی انٹری بک میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ صرف منظور کالونی فائر اسٹیشن ہی نہیں شہر کے دیگر 5 فائر اسٹیشن بھی بدھ کی رات بند تھے جہاں ڈرائیور موجود نہیں تھا۔ ان میں ملیر، بھینس کالونی، بلدیہ، نیو کراچی اور گلستان جوہر فائر اسٹیشنز شامل ہیں۔ شہر قائد میں مجموعی طور پر 22 فائر اسٹیشن ہیں۔

حکام نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ڈرائیورز کو فائر ٹینڈر چلانے چاہئیں تاہم وہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) افسران کی گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ ان میں سے پانچ ڈرائیور ایڈمنسٹریٹر کراچی، میونسپل کمشنر، کے ایم سی کے فائنانس اور ہیومن ریسورس ڈائریکٹر کو دیئے جاچکے ہیں۔ دو فائر بریگیڈ ڈرائیور وزیر بلدیاتی سندھ ناصر حسین شاہ کے پاس ہیں جبکہ ڈرائیور ایوب صوبائی وزیر کے پرسنل اسٹاف آفیسر کی گاڑی چلا رہا ہے۔

اس معلومات کی تصدیق کے ایم سی محکمہ فائر بریگیڈ کے چیف فائر آفیسر (سی ایف او) مبین احمد نے خود کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی مجموعی افرادی وقت کے نصف کے ساتھ کام کررہا ہے، اس کے پاس 96 گاڑیاں اور 77 ڈرائیورز ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’فوری کارروائی کیلئے کے ایم سی کو عملے کی اس کمی پر قابو پانا ہوگا‘‘۔ انہیں ایک فائر ٹینڈر 2 شفٹوں میں چلانے کیلئے 2 ڈرائیورز کی ضرورت ہے۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق 2009ء کے بعد سے فائر بریگیڈ ڈیپاڑٹمنٹ میں کوئی نیا تقرر اور بھرتی نہیں ہوئی ہے جبکہ ان 12 سالوں کے دوران عملے کے کئی افراد ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔

رواں سال جب وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی میں آگ لگنے کے واقعات پر قابو پانے کیلئے درآمد شدہ 52 نئے فائر ٹینڈرز کے ایم سی کے حوالے کئے گئے تو سابق ایڈمنسٹریٹر لئیق احمد اور میونسپل کمشنر نے سیکریٹری سندھ لوکل گورنمنٹ کو خط لکھ کر ان ٹرکوں کو چلانے کیلئے نئے ڈرائیورز بھرتی کرنے کی درخواست کی تھی۔ لئیق احمد کا کہنا تھا کہ اگر نئی بھرتی میں کوئی پریشانی ہے تو کم از کم کے ایم سی افسران کے پاس سے پرانے ڈرائیورز کو واپس کیا جائے۔

جب سماء ڈیجیٹل نے سی ایف او سے پوچھا کہ فائر بریگیڈ کیوں اپنے ڈرائیور کے ایم سی افسران کو دیتا ہے؟، جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہی سسٹم تھا اور یہی گزشتہ کئی سالوں سے چل رہا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube