Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

اسلام آباد: مدرسہ کے واش روم سے لڑکے کی لاش برآمد

SAMAA | - Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 12, 2021 | Last Updated: 2 months ago

اسلام آباد میں تحریک لبیک پاکستان سے منسلک مدرسہ جامعہ امینہ ضیاء البنات کے واش روم سے 12 سالہ لڑکے کی لاش برآمد ہوئی ہے، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس نے مقدمہ مقتول بچے حبیب تحسین کے چچا محمد نعیم کی مدعیت میں درج کیا، کہوٹہ روڈ پر واقع مدرسہ کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مدرسہ تحریک لبیک پاکستان سے منسلک ہے۔
مقتول بچے کے چچا محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے کہوٹہ سے ہے جبکہ حبیب گزشتہ 10 ماہ سے مدرسہ میں زیر تعلیم تھا، اس کے والد روزگار کے سلسلے میں جاپان میں مقیم ہیں۔
محمد نعیم نے پولیس کو بتایا کہ کا بھتیجا معمول کے مطابق جمعرات کو مدرسہ پڑھنے گیا لیکن گھر واپس نہیں پہنچا۔
پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق محمد نعیم کا کہنا ہے کہ 8 اگست کو صبح 8 بجے مدرسہ کے ایک معلم قاری وقار نے مجھے آگاہ کیا کہ حبیب حسین کے سینے میں تکلیف ہے، میں مدرسہ پہنچا اور حبیب کو معائنے کیلئے قریبی اسپتال لے کر گیا لیکن چونکہ وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا، اس لئے اس نے کچھ ادویات خرید کردیں اور بچے کو 9 بجکر 45 منٹ پر واپس مدرسہ لے گیا اور خود واپس گھر آگیا۔
ایف آئی آر کے مطابق 4 بجے مدرسہ کے معلم قاری وقار نے دوبارہ محمد نعیم سے رابطہ کیا اور ان کو بتایا کہ حبیب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور ان کو مدرسہ پہنچنے کا کہا۔
محمد نعیم کا کہنا ہے کہ راستے میں جب میں نے حبیب کی صحت سے متعلق دریافت کیا تو مدرسہ کے ایک معلم نے مجھے بتایا کہ حبیب حسین نے خودکشی کی ہے۔

بچے کے چچا نے مزید کہا کہ میں نے وہاں سے پولیس اسٹیشن کا رخ کیا اور وہاں سے جب پولیس کے ہمراہ مدرسہ پہنچا تو بچے کی لاش فرش پر رکھی ہوئی تھی، پولیس نے بچے کی لاش کو تحویل میں لیکر پوسٹمارٹم کیلئے پمز متنقل کردیا۔
محمد نعیم کا مزید کہنا ہے کہ جب وہ پولیس کے ہمراہ پہنچے تو وہ لوگ بچے کی لاش واش روم سے مدرسہ کے ایک کمرے میں منتقل کرچکے تھے۔
مدرسہ معلم قاری وقار نے پولیس کو بتایا کہ بچے نے واش روم میں کپڑے سے خودکشی کی ہے لیکن جب پولیس نے واش روم کا معائنہ کیا تو واش روم کی اونچائی 6 فٹ تھی۔
تفتیشی افسر احمد کمال نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ پولیس پوسٹمارٹم اور فارنزک لیب لاہور کی رپورٹ کا انتظار کررہی ہے، جس کے بعد ہی ثبوتوں کی بنیاد پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
احمد کمال کا کہنا ہے کہ مدرسہ کے احاطے میں مجموعی طور پر 6 کیمرے لگے ہیں اور پولیس کے پاس موجود فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بچہ ہاسٹل کے کمرے سے سیاہ اسکارف لے کر واش روم گیا اور واپس نہیں آیا۔
تفتیشی افسر کے مطابق پولیس نے مدرسے میں زیر تعلیم ایک طالب علم محرم سے بھی تفتیش کی ہے جو نا صرف بچے کا قریبی دوست تھا بلکہ سب سے پہلے حبیب حسین کی لاش بھی اس نے دیکھی تھی۔
پولیس کو مقتول بچے محمد حبیب کے بیگ سے 1300 روپے اور 3 جوڑے کپڑے بھی ملے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube