Saturday, October 23, 2021  | 16 Rabiulawal, 1443

غیرت کے نام پرقتل کی شرح میں 27فیصداضافہ، سندھ پولیس

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق غیرت کے نام یا کارو کاری میں خواتین و مردوں کے قتل کے واقعات میں گزشتہ سال کی نسبت 27 فیصد اضافہ ہوگیا۔

سندھ پولیس کی جانب سے سالانہ اعداد و شمار میں 2020ء اور 2021ء سالوں کے جنوری سے جون تک 6 ماہ کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2020ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران کارو کاری میں مرنے والے افراد کی تعداد 65 تھی جبکہ 2021ء کے اس عرصے میں یہ اعداد 83 تک پہنچ گئے۔ رپورٹ میں پورے سال کا موازنہ نہیں کیا گیا۔

سندھ میں کاروکاری کے واقعات میں مردوں اور خواتین کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تاہم رجحان سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ ہلاکتیں خواتین کی ہوتی ہیں۔ دو سال کے موازنے میں سامنے آیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس یہ بھی ریکارڈ کرتی ہے کہ مجرم یا مبینہ قاتل کون ہے۔ مقتول کی مائیں، بیٹیاں اور بہنیں کبھی اس جرم کا ارتکاب نہیں کرتیں۔ یہ رجحان بہت زیادہ ہے کہ مرد ایسے قتل کا ارتکاب کرتے ہیں۔

اس رجحان میں معمولی تبدیلی آئی ہے کہ کس قسم کے آدمی نے جرم کیا۔ گزشتہ سال ان جرائم میں ملوث افراد میں زیادہ تر شوہر تھے (35 قتل)، لیکن رواں سال یہ تعداد گھٹ کر 28 ہوگئی۔ پچھلے سال کے پہلے 6 ماہ میں 19 قتل دوسرے رشتہ داروں نے کئے، اس سال اب تک یہ تعداد بڑھ کر 26 وارداتوں تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے قتل کیلئے پسندیدہ ہتھیار پستول یا ریوالور ہوتے ہیں، دوسرے ہتھیار جو ان وارداتوں میں استعمال ہوئے وہ کلاشنکوف، شاٹ گن اور چاقو ہیں۔ ایک کیٹیگری جسے ’دیگر ہتھیار‘ کہا جاتا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ پتھر ہے۔ اس کیٹیگری کی وارداتوں میں تقریباً دو گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

سول سوسائٹی کی جانب سے خواتین کے خلاف جرائم پر کارروائیوں کے مطالبے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، بالخصوص تشدد، عصمت دری اور ایسے کیسز جن میں بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ نور مقدم قتل کیس سرخیوں میں رہا ہے، جس نے سخت کارروائی اور تشدد کیخلاف قوانین کا مطالبہ مزید بڑھا دیا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے پاکستان گھریلو تشدد (روک تھام اور تحفظ) بل 2021 کے چند نکات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلام کے احکامات کیخلاف ہیں۔

سی آئی آئی نے لفظ ’’تشدد‘‘ کی تعریف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے متعلق مواد شریعت کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔

کونسل نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ بل خاندان کے معاملات میں والد یا کسی دوسرے ذمہ دار بزرگ کے نگران کردار کو کمزور کر دے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube