Sunday, December 5, 2021  | 29 Rabiulakhir, 1443

طالب علم سے بدفعلی کیس،ملزم عزیز الرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

SAMAA | - Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 11, 2021 | Last Updated: 4 months ago

مدرسے کے طالب علم سے بدفعلی کرنے والے ملزم عزیزالرحمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کردی گئی ہے۔

گرفتار ملزم عزیز الرحمان کے خلاف کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نزہت جبیں نے بدھ کو کی۔عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 23 اگست تک توسیع کردی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا چالان آئندہ پراسکیوشن برانچ میں جمع کروا دیا جائے گا۔ عدالت نے جلد چالان جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ ملزم کے خلاف تھانہ شمالی چھاؤنی پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔

پیر کو کینٹ کچہری لاہور میں ملزم عزیز الرحمان کے وکلا نے درخواست ضمانت عدالت سے واپس لے لی۔ عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے درخواست ضمانت واپس کردی۔ ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ نزہت جبیں نے ملزم کی درخواست ضمانت کی  سماعت کی تھی۔ ملزم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا،جو ویڈیو وائرل کی گئی وہ ایڈیڈٹ ہے،میرا اس مقدمے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ درخواست گزارنےاستدعا کی تھی کہ عدالت ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔

طالبعلم سےبدفعلی کاالزام،ملزم عزیز جوڈیشل ریمانڈپرجیل منتقل

اس سے قبل لاہورسیشن کورٹ میں عزیز الرحمان نے مبینہ بدفعلی کی ویڈیو کو مسترد کردیا تھا۔ انھوں نے اپنی درخواست میں پنجاب فرانزک ایجنسی اور ایف آئی اے کوفریق بنایا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ تفتیش کے دوران حقائق کو چھپایا گیااور تشدد کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ ویڈیو کو ایڈیٹ کرکے میرے نام کے ساتھ منسوب کیا گیا،اس لئےعدالت ویڈیو کا فرانزک کروانے کا حکم دے۔

پانچ جولائی کوعدالت میں جمع ہونے والی ڈی این اے رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق عزیزالرحمن بے قصور نکلے ۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق طالب علم سے جنسی زیادتی کے کوئی شواہد موجود نہیں اورعزیزالرحمن اور متاثرہ طالب علم کا ڈی این اے مطابقت نہیں رکھتا ۔رپورٹ کے مطابق مدرسےکے طالب علم سے لیے گئےسیمپل میں کچھ بھی نہیں ملا اور متاثرہ طالب علم کا میڈیکل تاخیرسے ہوا ہے۔

جون میں عدالت میں اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا تھا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا تھا کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔

واضح رہے کہ جون میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube