Thursday, January 27, 2022  | 23 Jamadilakhir, 1443

آزادکشمیر: دوطالبات کو طویل عرصہ جنسی ہراساں کرنےوالا کانسٹیبل گرفتار

SAMAA | - Posted: Aug 9, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 9, 2021 | Last Updated: 6 months ago

آزاد جموں و کشمیر کے ضلع باغ میں ایک پولیس کانسٹیبل 2 طالبات کو جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے پر گرفتار کرلیا گیا۔
باغ پولیس کا کہنا ہے کہ کاسٹبیبل عبدا لقدیر کو اتوار کی شب حراست میں لیا گیا اور اب اسے جسمانی ریمانڈ کے لیے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
پولیس ذرائع نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ کاسنٹیبل عبدالقدیر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ آزاد جموں و کشمیر کی حدود سے فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
کانسٹیبل کو ایف آئی درج ہونے کے باوجود گرفتار نہیں کیا جارہا تھا تاہم جب اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا تو ملزم گرفتار کرلیا گیا۔
قبل ازیں 2 لڑکیوں جو خود کو باغ یونیورسٹی کی طالبات بتاتی ہیں نے 7 اگست کو باغ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کروائی تھی جس میں عبدالقدیر پر جنسی ہراسگی کا الزام لگایا تھا۔
ان طالبات کا کہنا تھا کہ کانسٹیبل عبدالقدیر انہیں گزشتہ 6 ماہ سے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنارہا تھا اور وہ دونوں کو خواہش پوری نہ کیے جانے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتا تھا۔
طالبات کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم انہیں دیگر ہم جماعت لڑکیوں کو جھانسہ دے کر لانے کو بھی کہتا تھا تاکہ وہ ان سے بھی اپنا گھناؤنا مقصد پورا کرسکے۔
اپنی رپورٹ میں طالبات نے بتایا کہ ملزم نے انہیں مطالبات ماننے سے انکار کی صورت میں بدنام کردینے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا تھا۔ ملزم کے قبضے میں ان کے قومی شناختی کارڈز، تعلیمی اسناد اور موبائل فونز بھی تھے اور اس بل بوتے پر بھی وہ انہیں اپنی خواہش کی تکمیل اور دیگر احکامات کی تعمیل کے لیے مجبور کیا کرتا تھا۔
طالبات کے مطابق ملزم انہیں جتاتا تھا کہ وہ محکمہ پولیس میں بہت اثر و رسوخ ہے اور تمام افسران بالا کی اس کو حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے پولیس سے درخواست کی کہ ملزم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بصورت دیگر کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری محکمے پر ہوگی۔
سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے مذکورہ کیس کے انویسٹیگیشن آفیسر محمد اصغر نے بتایا کہ ملزم کا موبائل فون قبضے میں لے کر فورینسک جانچ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے۔
محمد اصغر نے بتایا کہ کانسٹیبل عبدالقدیر نے اپنے کالے کرتوتوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ طالبات نے اپنی درخواست میں خود کو یونیورسٹی کی طالبات بتایا ہے لیکن وہ کالج میں پڑھتی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube