Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

نوجوان سیاسی ایڈمنسٹریٹر:کیا کراچی میں تبدیلی آئےگی؟

SAMAA | - Posted: Aug 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 7, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سندھ کابینہ کی منظوری سے کراچی میں تعینات ہونے والے نوجوان سیاسی ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ والدین کے وسیع حلقہ احباب کے باعث شہر کی سول سوسائٹی، سیاسی حلقوں اور خاص طور پر میڈیا میں بہت مقبول ہیں۔
پیپلز پارٹی کی اگر یہ سمجھتی ہے کہ مرتضیٰ وہاب کی تعیناتی سے شہریوں کے دل موہ لیے جائیں اور سب پیپلز پارٹی پر فریفتہ ہو جائیں گے تو یہ ممکن نہیں ہوگا لیکن البتہ ان کی تعیناتی سے پیپلز پارٹی کو شہر کے مسائل اور بلدیہ کراچی کی مشکلات کو سمجھنے میں کافی حد تک سہولت اور مدد ملے گی۔
پیپلزپارٹی مرتضیٰ وہاب کے تعلقات سے اپنے اور کراچی کے عوام کے درمیان ملاپ کے لیے پل کا کام بھی لے سکتی ہے لیکن میدان عمل میں کارگزاری، رویوں میں تبدیلی صدق دل کے ساتھ کراچی کے درد کو سمجھ کر مسائل کو حل کرنا لازمی ہو گا۔
یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ کراچی کو کوئی اون نہیں کرتا وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے کہا جاتا ہے ۔ گزشتہ کئی دہائیوں کی حکومتوں کے رویہ سے لگتا ہے کہ کراچی صرف وسائل جمع کرنے کے حوالے سے تو پاکستان اور صوبے کے لیے بہت اہم ہے لیکن اس کے مسائل حل کرنا اہم نہیں۔
وفاقی حکومت یہاں سے وسائل تو جمع کرتی ہے لیکن مسائل کے نام پر سندھ حکومت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ سندھ حکومت کراچی کو سندھ کا جزلاینفک تو کہتی ہے لیکن مسائل کا انبار بلدیہ کی ناکامی سے تعبیر کرتی ہے۔ جب بلدیہ کو کچھ دینے کی بات آتی ہے تو اس کو خود مختار کونسل کا نام دیا جاتا ہے کہ اپنے وسائل خود پیدا کرے۔ اختیارات استعمال کرتے وقت کے ایم سی محکمہ بلدیات کا ذیلی ادارے ہوتا ہے۔ بلدیہ کے ساتھ یہ دوہرے اور تہرے معیارات ختم کرنے ہوں گے۔ آکٹرائے، موٹر وہیکل، پراپرٹی، سمیت تمام لوکل ٹیکسز اور لوکل خدمات بلدیہ سے چھین کر یہ توقع کرنا کہ ادارہ ابھی زندہ ہے تین کروڑ انسانوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ مرتضیٰ وہاب اس کا سربراہ بن کر کوئی انقلاب لائے گا۔ موجودہ نظام اور وسائل میں یہ توقع عبثت ہے۔
اس وقت کے ایم سی کا سب سے پہلا مسئلہ ریٹائرڈ ملازمین کے بقایا جات اور ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ کی ادائیگی ہے۔ کئی اربوں روپے کے شارٹ فال کے باعث ملازمین صدر دفتر کی سڑیوں پر منڈلاتے نظر آتے ہیں۔ کئی سو افراد اسی جدوجہد کے دوران جان سے چلے گئے لیکن انہیں زندگی میں ان کے بقایا جات نہیں مل سکے۔ اس افراتفری کے ماحول میں نوجوان سیاسی ایڈمنسٹریٹر ملک کے سب سے بڑے تجارتی حب کے بنیادی مسائل کے مستقل حل کی تلاش میں میدان عمل میں اتارا گیا ہے جس سے شہریوں کی توقعات وابستہ ہیں تو پھر نظام کو درست اور وسائل مہیا کیے بغیر یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی نتائج برآمد ہوں۔
پیپلز پارٹی ماضی میں بھی سیاسی ایڈمنسٹریٹر کا تجربہ کر چکی جو کامیاب رہا تھا۔ ممکن ہے یہ اسی تجربے کا ایکشن ری پلے ہو۔ لیکن اس سیاسی ایڈمنسٹریٹر کے پیچھے وزیراعظم بے نظیر بھٹو وسائل کے ڈھیر کے ساتھ کھڑی تھیں۔ سن 1994 میں31 ارب روپے کے کراچی ترقیاتی پیکیج کے ساتھ فہیم زمان خان کو ایسے ہی حالات میں ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا تھا جب کہ اس وقت بلدیہ کو صرف آکٹرائے ٹیکس سے ساڑھے چار ارب سالانہ آمدنی ہوتی تھی۔
مرتضیٰ وہاب کی والدہ محترمہ فوزیہ وہاب، آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ جیسے سنجیدہ اور ویژنری سیاسی کارکن فہیم زمان خان کی ایڈوائزری کونسل میں تھے۔ واٹر بورڈ ، کے بی سی اے کو فہیم زمان خان کے ماتحت اور زیڈ ایم سیز کو بلدیہ عظمیٰ میں ضم کر کے حقیقی معنوں میں میٹروپولیٹن کارپوریشن بنایا گیا تھا۔ یعنی کافی حد تک کراچی وافر مالی وسائل کے ساتھ انتظامی طور پر ایک چھتری تلے لایا گیا تھا۔ اس سارے وسائل اور اختیارات کے ساتھ اس ٹیم نے وہ کام کئے جو لوگوں کو آج تک یاد ہیں۔ آج کراچی کی صورت حال سن 1994 سے بہت زیادہ خراب ہے۔ جس شہر کی افرادی گنتی ہی درست نہ ہوئی ہو، اس کے مسائل اور وسائل میں توازن کیسے پیدا ہو گا۔ البتہ مرتضیٰ وہاب 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق کراچی کو میٹروپولیٹن سٹی قرار دلانے، ڈسٹرکٹ فنانس کمیشن بنوانے اور بلدیہ کراچی کی کھوئی ہوئی پہچان بحال کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ شہر میں کچھ کام انجام دینے اور خود اور پارٹی کو سرخ رو کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ مرتضیٰ وہاب کو کراچی میں بکھرا ہوا بلدیاتی نظام ملا ہے۔ یکجا کرنے کے لیے صرف وزیر اعلیٰ کی قربت ہی کافی نہیں بڑے صاحب کی آشیرباد بھی درکار ہو گی۔ بڑے صاحب کے ویژن نے تو سٹی حکومت کے ہاتھی کو موجودہ کے ایم سی کی صورت میں چوہا بنایا۔ چوہے کو دوبارہ ہاتھی بنانے میں کتنے راضی ہوتے ہیں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ اس وقت شہری ادارے نہ صرف بکھرے ہوئے ہیں بلکہ عوامی خدمات انجام دینے والے محکموں میں تعینات اکثر اہل کار سفارشی، سست الوجود نااہل یا کرپٹ ہیں۔
شہر کے ایڈمنسٹریٹر کے طور پر مرتضیٰ وہاب ان سے کیا اور کیسے کام لے سکیں گے یہ بہت جلد معلوم ہو جائے گا۔ البتہ اس کے پاس دو راستے ہیں ایک تو یہ کہ وہ گنگا نہائیں جہاں پہلے سے جنتا نہاتی ہے۔ دوسرے راستے پر چلنے سے کئی مافیا سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ سب سے طاقتور مافیا پارٹی کے اندر ملے گی جو اس دن سے ہی متحرک ہو گئی ہو گی جس دن بطور ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب کا نام میڈیا میں شائع ہوا تھا۔ لیکن مایوسی کفر ہے کے مصداق بغیر انتظار یا سوچ بچار کے مرتضیٰ کو فوری کام شروع کر دینا چاہیے ۔ اس کے پاس وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ لہذا سب سے پہلا کام یہ کرنے کا ہے کہ دیانت دار اور متحرک افراد کی ٹیم تشکیل دے کر ان کو ہدف دے دیا جائے۔ ٹیم بنانا سب سے بڑا کام ہو گا اور اسی سے نتائج برآمد ہوں گے۔
اگر موجودہ افسران پر اطمینان نہ ہو تو سابق تجربہ کار افسران کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس لیے کہ اب وہ ترجمان ہی نہیں کہ اچھی گفتگو سے کام چل جائے۔ بلکہ شہریوں کو امید ہے کہ پیپلزپارٹی نے شہر متحرک نوجوان کے حوالے کیا ہے، نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال جیسے نتائج نہ سہی کم از کم فہم زمان جتنے کام تو ہونا چاہیے۔
ماس ٹرانزٹ، سرکلر ریلوے کی بحالی، اضافی پانی کی فراہمی، سیوریج ٹریٹمنٹ پلان اور کچرے کے پہاڑوں کو اٹھا کر شہر کو صاف کرنا، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھا تجاوزات کا خاتمہ اور ٹریفک انجینیئرنگ جیسے کام انتہائی لازمی اور ضروری ہیں جو مرتضی وہاب کو کرنا ہیں۔ ناکامی کی صورت میں کئی سوال مرتضیٰ وہاب کے جانے کے بعد بھی پیچھا کرتے رہیں گے۔ لہذا مقبول سیاسی فیصلوں کے بغیر اب کراچی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ تاجر اور صنعت کار اپنے سرمائے کے ساتھ کراچی چھوڑ رہے ہیں۔ ان تاجروں کو روکنا، بڑتی ہوئی آبادی اور بے روز گاری، افراتفری، بدامنی کا حل ان ہی بنیادی مسائل کے حل میں ہے جن کا تذکرہ کیا گیا۔ ان مسائل کا حل صوبہ نہیں نہ وفاقی علاقہ قرار دینا ہے۔ ان کا حل بااختیار، خود مختار، خود کار بلدیاتی نظام ہے۔
اگر پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ وہ عوام کے دلوں پر راج کرے اور ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب آئندہ کراچی کا مئیر ہو تو خلوص نیت سے مکمل سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ شہر اس نوجوان کے حوالے کیا جائے۔ میں تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ تبدیلی کا آغاز پہلے دن سے ہی شروع ہو جائے گا۔ نوجوان ایڈمنسٹریٹر تب ہی تبدیلی لا سکتا ہے، جب اس کو پوری طاقت اور آکسیجن مہیا ہو بصورت دیگر پیپلزپارٹی اپنے ایک اچھے سیاسی کارکن کی شہرت ہی خراب کرے گی حاصل کچھ نہیں ہو گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube