Sunday, November 28, 2021  | 22 Rabiulakhir, 1443

عمران خان سے جہانگیرترین کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا،فیاض چوہان

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago

تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے پاس جو کچھ ہے اس کے پیچھے ان کی جدوجہد ہے لیکن اگر حکومت کا کریڈٹ جہانگیرترین کو دیا جائے گا تو پھر ہمیں جواب بھی دینا پڑے گا۔

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ جہانگیرترین گروپ کے اندر دو تین افراد ہیں جو جہانگیرترین کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتے ہیں تاہم باقی لوگوں کا رویہ مناسب ہے۔
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کے اکثریتی ارکان تحریک انصاف کے بیانیے اور عمران خان کے وژن سے اتفاق کرتے ہیں صرف ایک راجہ ریاض ہیں جو اٹھتے بیٹھتے یہی باتیں کررہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ راجہ ریاض ایم این اے کی نشست سے استعفیٰ دے کر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑلیں تو انہیں اپنی سیاسی حیثیت کا اندازہ ہوجائے۔
رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ عون چوہدری کی سیاسی جدوجہد کو دیکھ کر انہیں موجودہ منصب دینا عمران خان کا ان پر احسان عظیم ہے ہم تو 45 سال سیاسی جدوجہد کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں،
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مجھے پنجاب میں مختلف سیاسی جماعتوں خصوصا مسلم لیگ کی خواتین ترجمانوں اور مریم نواز کے بیانیے کو ناکام بنانے کا ٹاسک پارٹی لیڈرشپ کی طرف سے دیا گیا تھا جسے میں نے بخوبی نبھایا۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مجھے تحریک انصاف میں لانے والے جہانگیرترین صاحب ہیں اور میں اس بات کے حق میں نہیں ہو کہ حکومت کے لیے کوئی مشکل کھڑی ہو لہٰذا جب سے یہ گروپ بنا ہے میری کوشش ہے کہ میں مفاہمت کی بات کروں۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی میں صرف عمران خان کا بیانیہ چلے گا پارٹی کے اندر پارٹی بنانے کی گنجائش نہیں ہے۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جہانگیر ترین کے کندھے پر بندوق رکھ کر عیرضروری مطالبات منوانا چاہتے تھے لیکن عمران خان کو کوئی بلیک میل نہیں کرسکتا۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ ن ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے ویزے میں توسیع کی درخواست کا مسترد ہونا قانونی معاملہ ہے اور ہم اس کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ برطانوی قوانین واضح ہیں اور ہم ان قوانین کے مطابق قانونی کارروائی کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی لندن میں موجودگی سیاسی نہیں طبی بنیادوں پر ہے۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ پارٹی کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ ڈاکٹر کی اجازت تک نوازشریف لندن میں ہی رہیں گے واپس نہیں آئیں گے۔
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں تاہم اختلاف رائے ہر سیاسی جماعت میں ہوتا ہے لیکن بیانیہ صرف نوازشریف کا ہی چلے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube