Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

اسکول فیس نہ دےسکنےپر 5 طلباء امتحان سےمحروم

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 6 months ago

پشاور کے ایک پرائیوٹ اسکول نے نویں جماعت کے 5 طلباء کو مکمل فیس کی ادائیگی نہ کر پانے پر بورڈ کے سالانہ امتحان میں بیٹھنے سے محروم کردیا۔
ہفتہ 31 جولائی کو پشاور ماڈل اسکول نمبر 5 نے فیس کی عدم ادائیگی پر 5 طلباء کو حیاتیات کا امتحانی پرچہ نہیں دینے دیا اور جب تک دیگر طلباء اس امتحان سے فارغ نہیں ہوگئے مبینہ طور پر ان پانچوں کو ایک کمرے میں علیحدہ رکھا۔
ان پانچوں طلباء میں سے کچھ کے والدین نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ان پر فیس کی باقی ماندہ رقم ادا کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا رہا تھا اور ناکامی کی صورت میں بچوں کو امتحان میں بیٹھنے نہ دیے جانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ایک طالبعلم فاروق عمر کے والد عمر صدیق نے بتایا کہ پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث ان کے کاروبار کو خاصا دھچکا لگا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کی پوری فیس ادا نہیں کرپائے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسکول انتظامیہ نے امتحان کے دوران 10 بچوں کو ایک الگ کمرے میں آئیسولیٹ کردیا گیا تھا اور والدین سے رابطہ کرکے دھمکی دی تھی کہ اگر فیس فوری نہیں آئی تو ان بچوں کو امتحان میں بیٹھنے نہیں دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ممتحن کو آئسولیٹ کیے گئے بچوں کے بارے میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ غیر حاضر ہیں۔
عمر صدیق نے کہا کہ اس دوران آدھے بچے تو کمرے سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ باقی 5 امتحان دینے سے محروم وہیں بیٹھے رہ گئے۔
فاروق عمر کے والد کو اس بات کا خاصا صدمہ تھا کہ ان کے بیٹے کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا جس کے باعث ان کے پاس بجز اس کے کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ اس معاملے کو سوشل میڈیا پر وائرل کردیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی جاری کردہ شکایتی ویڈیو دیکھ کر خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام ترکئی کے پی اے نے ان سے رابطہ کیا اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ رہ جانے والا پرچہ دوبارہ لیا جائے گا اور وہ اپنے بچے سے کہیں کہ اس امتحان کی تیاری رکھے۔
عمر صدیق کا کہنا تھا کہ اسکول فیس کی مد میں انہوں نے 35 ہزار روپے جمع کروائے تھے جبکہ 19 ہزار روپے ابھی ادا کرنے باقی ہیں۔
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اور پرائیوٹ اسکولز سے متعلقہ ادارے نےاس واقعے پر متاثرہ طلباء کے والدین کو اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان طلبا سے حیاتیات کا امتحان لینے کا انتظام کیا جائے گا اور اس حوالے سے اضافی اخراجات اسکول کو برداشت کرنے ہوں گے۔
اسکول کی پرنسپل بیگم منصور نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے طلباء کو امتحان سے روکے جانے کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے ذمہ دار اسکول کے اکاؤنٹنٹ افتخار ہیں جنہیں اس واقعے پر نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرچے کے دوبارہ انعقاد کے اخراجات اسکول برداشت کرے گا۔ تاہم انہوں نے متاثرہ طباء کو کمرے میں قید کیے جانے والی بات سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کا اپنا پچہ اسی امتحان میں بیٹھا تھا لہٰذا وہ طلباء کو کمرے میں بند کرنے کا تو تصور بھی نہیں کرسکتیں۔
بیگم منصور نے بتایا کہ وہ بچے ان کے سامنے بیٹھے تھے اور انہوں نے اس معاملے پر اسکول کے ڈائریکٹر سے بات کرنے کی کوشش بھی کی تھی تاہم وہ رابطے میں نہیں آ سکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ واقعہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آیا جس کے ذمہ دار مذکورہ اکاؤنٹنٹ ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرہ طلباء کو جولائی اور اگست کے مہینوں کی فیس کی ادائیگی سے بھی مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔
اسکول پرنسپل نے کہا کہ پیپر کے دوبارہ انعقاد کے کچھ لوازمات ہوتے ہیں جن میں امتحانی پرچے کی تیاری، اس کی چھپائی اور ایگزامنیشن اسٹاف کی تقرری شامل ہے۔
واضح رہے کہ پشاور ماڈل اسکول کئی اسکولوں، کالجوں اور ایک جامعہ کی چین اور صوبے میں تعلیم کا ایک مستند ادارہ ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube