Tuesday, December 7, 2021  | 2 Jamadilawal, 1443

طالبعلم کےساتھ بدفعلی کیس،ملزم عزیزالرحمان کی عدالت میں درخواستِ ضمانت دائر

SAMAA | - Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 6, 2021 | Last Updated: 4 months ago

مدرسے کے طالب علم کے ساتھ بدفعلی کے کیس کےملزم عزیزالرحمان نے عدالت میں درخواست ضمانت دائر کردی ہے۔

جمعہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ نزہت جبیں نے ملزم کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نے فریقین کے وکلا کو دلائل کے لیے طلب کرلیا ہے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پولیس نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا،جو ویڈیو وائرل کی گئی وہ ایڈیڈٹ ہے،میرا اس مقدمے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ درخواست گزارنےاستدعا کی ہے کہ عدالت ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔

گذشتہ سماعت میں لاہور سیشن کورٹ میں عزیز الرحمان نے مبینہ بدفعلی کی ویڈیو کو مسترد کردیا۔ انھوں نے اپنی درخواست میں پنجاب فرانزک ایجنسی اور ایف آئی اے کوفریق بنایا ۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران حقائق کو چھپایا گیااور تشدد کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا ہے کہ ویڈیو کو ایڈیٹ کرکے میرے نام کے ساتھ منسوب کیا گیا،اس لئےعدالت ویڈیو کا فرانزک کروانے کا حکم دے۔ عدالت نے وکلاء کو 10 اگست کو ابتدائی بحث کے لیے طلب کرلیا ہے۔

پانچ جولائی کوعدالت میں جمع ہونے والی ڈی این اے رپورٹ کی تفصیلات کے مطابق عزیزالرحمن بے قصور نکلے ہیں۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق طالب علم سے جنسی زیادتی کے کوئی شواہد موجود نہیں اورعزیزالرحمن اور متاثرہ طالب علم کا ڈی این اے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مدرسےکے طالب علم سے لیے گئےسیمپل میں کچھ بھی نہیں ملا اور متاثرہ طالب علم کا میڈیکل تاخیرسے ہوا ہے۔

جون میں عدالت میں اپنےاعترافی بیان میں عزیزالرحمان نے بتایا تھا کہ وائرل ہونےوالی ویڈیو ان کی ہے اور وہ ویڈیو متاثرہ لڑکےنےچھپ کربنائی تھی۔ عزيزالرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مدرسے کے لڑکے کو پاس کرنے کا جھانسہ دے کر بدفعلی کی لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد خوف کا شکار ہوگیا تھا۔ بیٹوں نے لڑکے کو کسی سے بات کرنے سے روکا تاہم منع کرنے کے باوجود ویڈیو وائرل کردی۔عزیزالرحمان نے مزید بیان دیا کہ مدرسہ چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور اس لیے ویڈیو بیان جاری کیا تاہم انتظامیہ مدرسہ چھوڑنے کا کہہ چکی تھی اور اس لئے میانوالی میں چھپ کر رہ رہا تھا۔

عزیزالرحمان کيخلاف صابر شاہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ۔آئی جی پنجاب نے اس معاملے کو ٹيسٹ کيس قرار ديتے ہوئے ٹويٹ کيا تھا کہ معاملے کی سائنسی اور جديد تقاضوں کے مطابق تفتيش کی جائے گی اورملزم کوعدالت سے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔

واضح رہے کہ جون میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ درج ایف آئی آر کے مطابق ویڈیو لاہور میں مدرسہ جامعہ منظورالاسلامیہ کے برطرف عہدےدار مفتی عزیز الرحمان اور مدعی طالب علم کی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube