Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

کراچی:مغلیہ وانگریزادوار کی جھلک دکھاتی ایک شاہکارعمارت

SAMAA | - Posted: Aug 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ہر زاویہ ایسا جو ورطہ حیرت میں ڈال دے

گنجان عمارتوں کے درمیان گھری شہر کی ایک حسین عمارت کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بلڈنگ مغلیہ اور نو آبادیاتی طرز تعمیر کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔

مغل اور انگریز دور کی یاد تازہ کراتی یہ عمارت سن 1934 میں تعمیر ہوئی تھی جو عمارت کے آرکیٹیکٹ احمد حسین آغا کے فن کی معراج ہے۔ اس میں مغلیہ دور کی جھلک دکھاتے گنبد و مینار بھی موجود ہیں جبکہ نوآبادیاتی دور کی تعمیر کے آئینہ دار ستون اور آرچز بھی اپنی شان دکھاتے ہیں۔

اس عمارت کی تعمیر کے لیے بھارت کے شہر چودھپور سے سرخ پتھر لایا گیا تھا۔ اپنے دامن میں ایسے گوہر نایاب رکھنے والی اس عمارت کے ساتھ حکومت کی بے توجہی کے باعث اس کا حس گہناتا جا رہا ہے۔ مرکزی دروازے پر تاروں کے گچھے موجود ہیں۔ جن محرابوں اور بارڈر لائنز  کو سنگ تراشوں  نے اپنے فن  سے سجایا ہے وہاں ایئرکنڈیشنز کے آؤٹ ڈور یونٹس کی بھرمار ہے۔

ارد گرد بے ترتیب عمارتوں میں گھری ہونے کی وجہ سے اس عمارت کا جوہر سرسری دیکھنے والوں کی نظروں سے  پوشیدہ ہی رہتا ہے لیکن اگر اس کی چھت پر جایا جائے تو  یہ عالیشان تعمیر معماروں کا حسن تخلیق کھول کر سامنے  رکھ دیتی ہے۔

گنبدوں اور میناروں کے درمیان خوبصورت ترتیب کے ساتھ بنے برج ہوں یا چلمن کا کام کرتی سنگی جافریاں ہر چیزپکار پکار کر بتاتی ہے کہ انہیں بنانے والوں کو اپنے کام سے کتنی محبت تھی۔

نوآبادیاتی دور میں کراچی میں سینکڑوں عمارتیں تعمیر کی گئیں لیکن ایوان صنعت و تجارت کی اس عمارت کے مقابلے کے شاہکار شہر میں چند ایک ہی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube