Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

ریڈلسٹ معاملہ:برطانیہ نےسائینٹفک نہیں سیاسی بنیادوں پرفیصلہ کیا،شاہ محمود

SAMAA | - Posted: Aug 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 5, 2021 | Last Updated: 2 months ago

برطانیہ فیصلے پر نظر ثانی کرے

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ریڈ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرنا صرف اور صرف سیاسی اسکور ہے، جس کا سائنسی بنیادوں سے تعلق نہیں، وہ وائرس جو پھیلا ہی بھارت سے اس کے ساتھ نرمی دوغلا پن ہے۔

برطانیہ کی جانب سے بین الاقوامی سفر کیلئے اپنی 'ریڈ لسٹ' میں پاکستان کو رکھنے اور کووڈ 19 کی صورت حال زیادہ سنگین ہونے کے باوجود بھارت کو 'امبر لسٹ' میں ترقی دینے پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو بھی برطانوی اقدام پر تعجب ہے۔

نہوں نے کہا کہ حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس وائرس اور ویریئنٹ نے خود برطانوی نیندیں اڑا دیں اور برطانوی شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، اسی ملک بھارت کو اپ نے چھوٹ دیتے ہوئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست سے ہی نکال دیا۔ بھارت کے ساتھ نرمی سمجھ سے بالا تر ہے۔ برطانیہ نے سائنسی بنیادوں کے بجائے سیاسی بنیادوں پر فیصلہ کیا۔

وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کو رعایت دی گئی ہے، یہ سراسر زیادتی ہے۔ اس فیصلے کو ازسر نو دیکھنا چاہیئے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ نے بھی اس پر احتجاج کیا ہے، جب کہ پاکستانی کمیونٹی بھی اس کے خلاف ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں بین الاقوامی سفر کیلئے 'ٹریفک لائٹ' نظام نافذ ہے جس میں کم خطرناک ممالک کو قرنطینہ کے بغیر سفر کے لیے گرین، درمیانے خطرے والے ممالک کو 'امبر' کا درجہ دیا گیا ہے اور ریڈ لسٹ کے ممالک کے باشندوں کو 10 روز ایک ہوٹل میں قرنطینہ میں گزارنے کی ضرورت ہے۔

اپریل کے اوائل میں پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا گیا تھا جس کے بعد 19 اپریل کو کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ڈیلٹا کے مختلف کیسز کے سامنے آنے کے بعد بھارت کو بھی اس فہرست میں شامل کرلیا گیا تھا۔

جمعرات 5 اگست کو جاری احکامات کی روشنی میں برطانوی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سفری فہرستوں کی اپڈیٹ میں بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھارت کو بھی 8 اگست (اتوار) سے امبر لسٹ میں منتقل کردیا جائے گا۔ بریڈ فورڈ ویسٹ کی ایم پی ناز شاہ نے کہا کہ وہ اس اقدام پر 'حیران' ہیں۔

نئی تبدیلیوں میں واپس آنے والے ویکسینیٹڈ مسافروں کے لیے قرنطینہ کو ختم کر دے گا۔ اس کے علاوہ آسٹریا، جرمنی، سلووینیا، سلوواکیہ، لٹویا، رومانیہ اور ناروے کو انگلینڈ کی گرین لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube