Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

کراچی:لڑکے کے ریپ کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

SAMAA | - Posted: Aug 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 3, 2021 | Last Updated: 2 months ago

فائل فوٹو

کراچی کے علاقے جھنجھار گوٹھ میں متاثرہ نوجوان نے ریپ کی کوشش کرنے والے 55 سالہ ملزم کو چاقو کے وار سے ہلاک کردیا۔

واقعہ گزشتہ ماہ جولائی میں گلشن معمار سے ملحقہ کچی آبادی میں پیش آیا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر امدادی ٹیم موقع پر پہنچی اور لاش کو ضروری کارروائی کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہلاک شخص کے جسم کے مختلف حصوں پر 17 بار وار کیا گیا تھا۔

پوسٹمارٹم کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کردی گئی تھی۔ بظاہر دیکھنے میں یہ ایک عام سی قتل کی واردات لگ رہی تھی، تاہم اس کیس میں اہم موڑ اس وقت سامنے آیا، جب مقتول کا بیٹا باپ کے قتل کی ایف آئی ار درج کرانے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ واقعہ کی تحقیقات شروع ہوئی اور پھر تہہ در تہہ کیس میں سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ سامنے آتا رہا۔

پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت محمد ہاشم کے نام سے کی گئی، جو سپر ہائی وے پر قائم پھل اور سبزی منڈی میں چائے کی فروخت کا کام کرتا تھا۔ مقتول خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ کا رہائشی تھا، جو کراچی میں روزگار کیلئے آیا تھا۔ مقتول شخص نے کام کیلئے بہادر گوٹھ جو اسکیم 33 کی کچی آبادی کا ملحقہ حصہ ہے، رہائش اختیار کی۔

لواحقین کے مطابق ان کے والد کی کسی سے کوئی دشمنی نہ تھا، جس کے بعد قتل کی واردات گھر والوں کیلئے معمہ بنی ہوئی تھی۔ تاہم 2 اگست کو قتل کے چار روز بعد جب مقتول کا بیٹا محمد  اشرف سائٹ سپر ہائی وے پولیس اسٹیشن پہنچا اور مقدمہ درج کرنے کا کہا تو پولیس کو معاملے کی تفتیش کا آغاز کرنا پڑا۔

مقدمے میں مقتول کے بیٹے نے محمد شاہ نامی شخص کو نامزد کیا، جو بیٹے کے خیال میں اس کے والد کا قاتل تھا۔ اپنے ابتدائی بیان میں محمد اشرف نے پولیس کو بتایا کہ میرے والد کی خادم حسین  نامی شخص سے دوستی تھی، جو  جھنجھار گوٹھ میں رہتا تھا۔ خادم حسین کے گھر محمد شاہ کا بھی کافی آنا جانا تھا، جو خود بھی اسی علاقے میں چائے فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔ اس طرح  میرے والد کی محمد شاہ سے بھی دوستی ہوگئی تھی۔

بیٹے نے الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ محمد شاہ اور اس کے ساتھیوں نے ملکر اس کے والد کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر قتل کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ  1090بٹا 21 سیکشن 302 اور 34 کے تحت محمد شاہ اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں پھل اور سبزی منڈی میں چھاپے کے دوران محمد شاہ کو گرفتار کیا۔

سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں سہراب گوٹھ کے ڈیویژنل سپریٹنڈنٹ پولیس سہیل فیض نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے محمد ہاشم کا قتل کیوں کیا تھا۔

واقعہ بیان کرتے ہوئے نوجوان محمد شاہ نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ خادم حسین سے ملنے اس کے گھر گیا تھا۔ جہاں محمد ہاشم اکیلا موجود تھا۔  اس دوران محمد ہاشم نے اسے اکیلا پا کر اسے کے کپڑے اتارنا چاہیئے، جس پر اس نے ریپ کرنے کی کوشش کے دوران ملزم کو روکنے کیلئے ہاتھ پاؤں چلائے۔  اس دوران محمد ہاشم گھر میں رکھی چھری لے آیا، اور اس سے اس کے کپڑے پھاڑنے لگا، جس سے اس کا ٹراؤزر پھٹ گیا۔

محمد شاہ نے اپنے بیان میں  مزید بتایا کہ مزاحمت کے دوران اس نے محمد ہاشم کے ہاتھ سے چاقو چھین لیا اور ملزم پر اس وقت تک وار کرتا رہا جب تک وہ مر نہ گیا۔

محمد شاہ کے بیان کی تصدیق کیلئے پولیس کی جانب سے محمد شاہ کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا، جس پر اس بات کی تصدیق ہوئی کہ محمد شاہ کے پیٹ اور ٹانگوں کے نیچے متعدد زخم موجود ہیں، جب کہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی خراش کے نشانات ہیں۔

ڈی ایس پی کے مطابق نوجوان کی عمر 15 سال ہے، جس کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube