Tuesday, September 21, 2021  | 13 Safar, 1443

نورمقدم کیس: ملزم کتناہی طاقتور ہو بچے گا نہیں، وزیراعظم

SAMAA | - Posted: Aug 1, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 1, 2021 | Last Updated: 2 months ago

سندھ میں لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ بھوکے مرجائیں گے

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ نور مقدم کیس میں چاہئے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، ظلم کیا ہے تو سزا ہوگی، چاہئے وہ امریکی شہری ہی کیوں نہ ہو۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نور مقدم کیس میں بہت ظلم ہوا ہے۔ واقعہ کے دو روز تک کیا ہوتا رہا تمام سی سی ویڈیو موجود ہیں۔ میں پہلے دن سے اس کیس کو خصوصی طور پر دیکھ رہا ہوں، ملزم چاہے کتنا ہی طاقت ور ہو، وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ کوئی امریکی شہری ہی کیوں نہ ہو، جرم کیا ہے تو سزا ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی کیساتھ ہونے والے معاملات کو بھی بغور دیکھا ہے۔ دونوں کیسز کا فیصلہ انصاف کے مطابق ہوگا۔

اتوار یکم اگست کو عوام کے نام پیغام اور ٹیلی فون پر براہ راست گفتگو سے قبل وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن درست فیصلہ ہے، مگر ہمیں دوسری طرف بھی دیکھنا ہوگا۔ کرونا کا ایک ہی علاج ہے ویکسین اور فیس ماسک پہنا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دیگر وائرس کے مقابلے میں بھارتی ویریئنٹ نہایت خطرناک ہے، جو تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دنیا میں بھارتی ویرینٹ کے باعث صورت حال خطرناک ہو رہی ہے۔ ہمیں بہت سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے ہونگے۔ سندھ حکومت سے کہتا ہوں کہ لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگ بھوکے مرجائیں گے۔ اسکولوں کو بھی ویکسین کا عمل مکمل ہونے تک مت کھولیں۔ اسکولوں کے ذریعے بھی کرونا تیزی سے پھیلتا ہے، ہمیں طریقہ تبدیل کرنا ہوگا۔ بجائے یہ کہ ہم سب کچھ بند کریں اور لوگوں کو بھوکا چھوڑ دیں، ہمیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا چاہیئے۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مشکل وقت میں درست فیصلے کیے، جس سے ہم نے لوگوں اور معیشت کو بچایا۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن سب سے بہترین فیصلہ ہے، جہاں کیسز ہیں وہاں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگائیں۔ دنیا میں جب ہر جگہ مساجد بن تھیں تو پاکستان میں مساج کھلی تھیں، ہم اس کیلئے علما کے مشکور ہیں۔

مدینہ کی ریاست پر سوال

 وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست تین اصولوں فلاحی ریاست، قانون کی بالادستی اور خوددارقوم پر قائم تھی اور یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم ان تین اصولوں پر چل رہے ہیں یا نہیں۔ مدینہ کی ریاست کے ابتدائی پانچ سال میں حالات اچھے نہیں تھے لیکن بعد میں بہتری آئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پہلا مقصد فلاحی ریاست ہے جس کے لیے ہماری حکومت نے لوگوں کو ہیلتھ کارڈز فراہم کیے جس سے مفت علاج کروا سکتے ہیں۔ لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنائیں تاکہ مزدور و غریب طبقہ مزدوری کرے اور وہیں کھانا پینا کرکے آرام سے گھر والوں کا پیٹ پالے۔

انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں میں ہم اب تک 22پناہ گناہیں بنا چکے ہیں اور 11مزید بننے والی ہیں جبکہ مزید بڑھائی جائیں گی۔ یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ ایسا تو امیر ممالک میں بھی نہیں ہوتا۔ امریکا جیسے ملک میں بھی کئی افراد گھروں سے باہر سوتے ہیں اور میں نہیں چاہتا ہمارا مزدور سڑکوں پر سوئے۔

عمران خان نے کہا کہ اسکے علاوہ کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام ہے جس کے لیے ابھی ہماری 12 بسیں ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ٹرک ہیں جو اس وقت چار شہروں میں پھرتے ہیں اور بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہمارا ہدف 50 بسوں کا ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اب ہمارا سب سے بڑا پروگرام کامیاب پاکستان ہے جس کے تحت 40فیصد نچلے طبقے کے ہر گھر کو ایک ٹیکٹیکل ایجوکیشن دیا جائے گا، پورے گھر کو ہیلتھ کارڈ ملے گا اور ایک انکو مائیکرو فنانس کے ذریعے قرض دلوا کر گھر بنانے کی سہولت دی جائے گی تاکہ کرائے گھر میں رہنے والا فرد اپنے گھر میں رہ کر وہی کرایہ کی اقساط ادا کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ قرض سود کے بغیر ملے گا تاکہ شہروں میں لوگ اپنا کوئی چھوٹا کاروبار شروع کر سکیں اور دیہات کے اندر کسان اپنی مدد کر سکے گا۔ کامیاب پاکستان پروگرام اسی ماہ شروع ہونے والا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دوسرا مقصد قانون کی بالادستی جس میں غریب اور طاقتور کے لیے الگ طریقہ نہیں ہوگا۔ ہم نے کمزور کو طاقتور سے آزاد کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ تیسرا مقصد خودداری ہے کیونکہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جو اپنے پیروں پر خود کھڑا ہو تاکہ کسی سے بھینگ مانگنی اور قرض لینا نہ پڑے، کسی کی امداد لے کر انکی جنگ میں شریک نہ ہوں۔ جب قوم اپنی عزت خود کرتی ہے تو وہ ایک خوددار قوم بن جاتی ہے اور ہمیں خوددار قوم بننا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ میرے تین مقاصد ہیں اور جب ہماری پانچ سالہ حکومت کی مدت ختم ہوگی تو عوام خود دیکھ لیں گے کہ پانچ سال پہلے کیا حالات تھے اور پانچ سال بعد حالات کیسے ہیں۔

مہنگائی پر کیسے قابو ہایا جائے۔

مہنگائی سے متعلق سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہ اکہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہم کولڈ اسٹوریج بنانے جا رہے ہیں کیونکہ کسان کا سامان جو شہروں میں آ کر فروخت ہوتا ہے اسکے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ تقریباً 800 نئے کولڈ اسٹوریج کے ذریعے کسان کو بھی اچھی قیمت ملے گی اور لوگوں کو بھی سستی چیز ملے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسان کے پاس اگر اسٹوریج ہو جائے گا تو اسے اپنا مال جلدی جلدی فروخت نہیں کرنا پڑے گا۔ کسان کارڈ کے ذریعے ملنے والے قرضے سے کسان کا آسانی ہوگی اور اسکو آڑتی کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔ دنیا میں پاکستان رہنے کے لیے سب سے سستا ملک ہے، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے پیٹرول مہنگا کرنا پڑتا ہے جبکہ جن ممالک میں پیٹرول سستا ہے انہیں درآمد نہیں کرنا پڑتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube