Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

خواتین کووراثت سے محروم رکھنے سے متعلق کیس کافیصلہ سنادیاگیا

SAMAA | - Posted: Jul 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 30, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بلوچستان ہائیکورٹ نے خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی خاتون کو منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد سے محروم رکھنے والے شخص کو کم سے کم 5 سال اور زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہوگی، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد کامران خان ملاخیل پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے خواتین کو حق  وراثت اور صوبے میں جاری سیٹلمنٹ کے عمل میں انہیں نظر انداز و محروم رکھنے سے متعلق ایڈووکیٹ محمد ساجد ترین کی جانب سے دائر پٹیشن کا فیصلہ سنادیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ خواتین کو وراثت کے حق سے محرومی جیسے مسائل کو کم کرنے کیلئے پاکستان پینل کوڈ کے کریمنل قانون میں سیکش 498، اے کے ذریعے ترمیم کی گئی ہے، جس کے مطابق  سیکشن 498 اے کسی بھی خاتون کو جائیداد کے حق سے محروم رکھنے سے روکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو کوئی بھی دھوکہ دہی یا غیر قانونی طریقے سے جاں نشینی کے وقت کسی بھی خاتون کو منقولہ و غیرمنقولہ جائیداد سے محروم رکھتا ہے تو اسے یا تو زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا جو کم سے کم بھی 5  سال سے کم نہیں ہوگی یا 10 لاکھ جرمانے یا دونوں کی صورت میں دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سیکشن کی ترمیم میں جو حکمت کار فرما ہے وہ یہ تھی کہ کسی بھی خاتون کو اس کے وراثت کے حق سے محروم نہ کیا جاسکے، خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف کریمنل کارروائی یقیناً ایک اچھا شگون ہے، لیکن مردوں کی بالادستی والے معاشرے میں ایک خاتون کیلئے یہ آسان نہیں ہے کہ وہ پولیس اسٹیشن جاکر اپنے فیملی ممبر مرد کیخلاف کریمنل کیس درج کروائے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو متوفی کی جائیداد کی ورثا میں تقسیم کی ذمہ داری لینی چاہئے اور خلاف ورزی  کرنے والوں کو سزا دلوانی چاہئے جبکہ سماجی آگاہی کیلئے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا اور خاص طور پر علماء و اسکالرز کو آگاہی مہم کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ وہ ناصرف خواتین بلکہ مردوں میں بھی اسلامی احکامات کے مطابق متوفی کی جائیداد کے جائز حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔

بلوچستان ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ مردوں کی اسلامی احکامات سے لاعلمی بھی توجہ طلب ہے کیونکہ اسلامی اصول و احکامات باقاعدگی سے نہیں سکھائے و پڑھائے جاتے لہٰذا حکومت کو آگاہی کیلئے دوسرے ضروری اقدامات کے ساتھ یہ مثبت کوشش بھی کرنی چاہئے کہ وہ اسلامی احکامات خصوصاً جو خواتین کے حقوق سے متعلق ہیں، انہیں اسکولز و کالجز اور یونیورسٹیوں کی سطح پر نصاب میں شامل کرکے نصاب اپ گریڈ کرے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube