Friday, September 24, 2021  | 16 Safar, 1443

کراچی:محکمہ صحت کےافسران کیجانب سے فائزر ویکسین بیچنے کا انکشاف

SAMAA | - Posted: Jul 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 29, 2021 | Last Updated: 2 months ago

Karachi health officials have been selling Pfizer vaccine illegallyکراچی میں فائزر ویکسین کی غیر قانونی فروخت میں ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ہیلتھ افسران اور اسٹاف کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق 25 جولائی کو کرونا وائرس سے متعلق سندھ کے فوکل پرسن ڈاکٹر سہیل رضا کی سربراہی میں کراچی کے علاقے خالد بن ولید روڈ پر ایک گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، جہاں فائزز ویکسین غیر قانونی طور پر فروخت کی جا رہی تھی۔ چھاپے کے دوران ملزم کو بھی گرفتار کیا گیا، جس کی شناخت محمد علی کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ وہ ایک نجی کمپنی سلطان مدد میں کام کرتا ہے، جہاں انہیں یہ کرونا ویکسین ان کے مالک میجر ریٹائرڈ امان اللہ سلطان نے دی تھیں۔ گرفتار ملزم کی نشاندہی پر جب پولیس نے امان اللہ سلطان کو گرفتار کیا تو اس کا کہنا تھا کہ انہیں یہ فائزر ویکسین ضلع ایسٹ  کے محکمہ صحت کے اسٹاف کی جانب سے مہیا کی گئی، جس کا نام محمد ذیشان ہے۔، جس پر پولیس نے اسے بھی گرفتار کیا۔

اپنے بیان میں ذیشان کا کہنا تھا کہ وہ سال 2020 میں بحیثیت نرس کے بھرتی ہوا۔ تاہم گزشتہ سال کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے پر محکمہ صحت سندھ کی جانب سے پیرا میڈیکل اسٹاف کو کانٹریکٹ ملازمین کی بنیاد پر بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی تو وہ بھی اس دوران اس عمل کا حصہ بنا۔

پولیس کو دیئے گئے بیان میں محمد ذیشان نے یہ بھی بتایا کہ اس کا امان اللہ سلطان سے رابطہ انہیں دنوں ہوا جب وہ ضلع ایسٹ کے ڈی ایچ او ڈاکٹر فیصل سے ملنے آئے۔ امان اللہ نے اس موقع پر ذیشان کو یہ کہا کہ ہیلتھ آفس میں فائزر ویکسین کی کھیپ آنے پر انہیں اطلاع دی جائے۔

اس موقع پر ڈاؤ یونی ورسٹی ہیلتھ سائنسز موسمیات اور جیریز انٹرنیشنل پر فائزز ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوا۔ فائزر کی کھیپ ضلع ایسٹ پہنچنے پر ڈی ایچ او کی جانب سے صمد نامی شخص کو بھرتی کیا گیا، جسے ٹاؤن سپروائزر کا عہدہ دیا گیا۔ محمد ذیشان کے مطابق صمد نے اسے فائزر کے آنے کا بتایا اور یہ کہا کہ اگر کسی کو فائزر لگوانی ہے تو وہ اسے بتا دے۔ جس کے بعد فائزر سے متعلق تفصیلات آگے امان اللہ سلطان کو پہنچائی جاتی تھی، جو فائزر کے غیر قانونی ترسیل کے آرڈر دیتا۔

ذیشان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلطان نے غیر قانونی طریقے سے فی فائزر ڈوز 15 ہزار روپے میں بیچی۔ جب کہ اس نے غیر قانونی طریقے سے ذیشان سے 59 ویکسین حاصل کیں اور اس کے بدلے اسے 5 لاکھ 90 ہزار روپے دیئے۔ ان پیسوں میں سے ذیشان نے خود 1 لاکھ 47 ہزار اپنے پاس رکھے جب کہ باقی پیسے اس نے ٹاؤن سپروائزر صمد کو دیئے جو کل رقم 4 لاکھ 45 ہزار 500 بنتی ہے۔

ذیشان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ صمد نے اسے بتایا کہ یہ رقم وہ ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ان تمام لوگوں میں برابر سے تقسیم کرے گا،جو اس تمام تر عمل میں اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اس ریکٹ میں ملوث افراد غیر قانونی طور پر لوگوں کا ریکارڈ نادرا میں بھی اپ ڈیٹ کرتے رہے۔

بیان کے مطابق ڈسٹرکٹ ایسٹ کی ڈی ایچ او طاہرہ بانو کی جانب سے ویکسین لگوانے والے افراد کی ریکارڈ کے اندارج کیلئے الگ آئی ڈیز اور پاسپورٹ مرتب کیے گئے تھے، ان آئی ڈیز میں سے 4 اکاؤنٹ جیریز انٹرنیشنل کو دیئے گئے تھے تاکہ وہاں ویکسین لگوانے والوں کا اندارج نادرا میں کیا جا سکے۔ تاہم ان چار میں سے ایک اکاؤنٹ عثمان نامی شخص کے زیر استعمال تھا، جس کا کام غیر قانونی طور پر ویکسین لگوانے والوں کا نادرا میں ریکارڈ شامل کرنا تھا۔

ذیشان کے مطابق بڑی تعداد میں فائزر حاصل کرنے والوں میں وہ افراد شامل تھے جو خلیجی ممالک یا سعودی عرب کام کے سلسلے میں واپس جانا چاہتے تھے۔ فائزر ویکسین لگوانے کا مقصد یہ تھا کہ سعودی اور خلیجی ممالک کی جانب سے صرف موڈرنا، فائزر، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرازینیکا لگوانے والوں کو ہی ویزا اور داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube