Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

کراچی ساحل پر پھنسا جہاز نکالتے وقت بھی ٹوٹ سکتاہے

SAMAA | - Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 27, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ہینگ ٹانگ کے کیپٹن پاکستانی ہیں

وزیر اعظم کے بحری امور کے مشیر محمود مولوی، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ اور ڈائریکٹر جنرل پورٹ اینڈ شپنگ نے پیر کو ایک مشترکہ ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کراچی کے ساحل پر پھنسا 3 ہزار ٹن وزنی بحری جہاز 20 روز تک نہیں نکالا جا سکتا جبکہ نکالتے وقت اس کے ٹوٹ جانے کے امکانات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سنگاپور سے جہاز صرف ڈھائی ناٹ کی پاور پر پاکستان پہنچا جبکہ انجن کی پاور کم از کم بارہ ناٹ ہونی چاہیے تھی اور اس کے علاوہ جہاز کا تبدیل ہونے والا عملہ بھی صورتحال کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکا تھا۔

پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ بدھ کی دوپہر جہاز کا سوا سو ٹن بنکر آئل نکالنے کا آپریشن پاکستانی حکام ازخود شروع کردیں گے۔

چیئرمین کے پی ٹی نادر ممتاز وڑائچ کا کہنا تھا کہ 17 جولائی کو جہاز کے کپتان نے کہا تھا کہ ہم روانہ ہوگئے ہیں بعد میں پتہ چلا کہ جہاز روانہ ہی نہیں ہوا اور کپتان نے ہمیں بتایا بھی نہیں تاہم جب ہم نے پوچھا تو کپتان نے کہا کہ موسم خراب تھا میں واپس آگیا۔

تاہم اس موقع پر جب چیئرمین کے پی ٹی سے یہ پوچھا گیا کہ بحری جہاز کے کپتان کی مدد کی کال پر کے پی ٹی کا فوری رسپانس کیا تھا اور جہاز کو برتھنگ کی اجازت کیوں نہیں دی گئی تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکے۔

نادر ممتاز وڑائچ کا کہنا تھا کہ جہاز کا ایک لنگر پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا لیکن کپتان نے ہمیں نہیں بتایا تھا جبکہ کچھ چیزیں تحقیقاتی کمیٹی کے زیربحث ہیں اس لیے میں ان باتوں پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم کے مشیر برائے بحری امور محمود مولوی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ یہ جہاز نکلا بھی تو ہائی ٹائیڈ پر نکلے گا اور یہ 15 اگست سے پہلے نہیں بتایا جاسکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حب تک پانی اوپر نہیں آئے گا اور ٹگ بوٹس اس کے نزدیک نہیں آئیں گے تو اسے سالویج کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔

میڈیا کو بتایا گیا کہ جہاز کا مالک ایرانی ہے جس کو رابطے کا نوٹس دیا جا چکا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور جس کا بھی قصور ہوا اسے سزا ضرور ملے گی۔

اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ جہاز کی لمبائی 100 میٹر اور چوڑائی بیس میٹر ہے اور اس کے دو انجن ہیں۔ اس کے لنگروں کی تعداد چار لنگر تھی۔ جہاز میں 14 رکنی عملہ تھا اور اس کے کیپٹن پاکستانی ہیں جن کا نام عمر ہے۔ جس رات اس جہاز کا لنگر ٹوٹا اسی رات دو اور جہازوں کا بھی لنگر ٹوٹا تھا۔ علاوہ ازیں ایک اور جہاز ساحل کی طرف ڈرفٹ ہورہا تھا لیکن بچ گیا۔

یاد رہے کہ ہینگ ٹانگ نامی یہ مال بردار جہاز پاناما میں رجسٹرڈ ہے اور اس کی مالک کمپنی کا تعلق سنگا پور سے ہے۔ یہ مال بردار جہاز عملے کی تبدیلی کے لیے 18 جولائی کو کراچی کی بندرگاہ آیا اور سمندر میں طغیانی اور تیز ہواؤں کے باعث ساحل کے بالکل نزدیک آجانے کے باعث پھنس کر رہ گیا۔ زمین میں بتدریج دھنسے ہوئے اس دیوہیکل بحری جہاز میں لاکھوں لیٹر ایندھن اور مختلف سامان سے بھرے کنٹینرز موجود ہیں اور اس کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں تیل رسنے کا بھی خدشہ برقرار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سے ڈیڑھ میٹر زمین میں دھنس چکا ہے اور اگر یہ زیادہ دیر دھنسا رہا تو ٹوٹ بھی سکتا ہے اور ایسی صورت میں اس میں لدا ہوا تیل پانی میں بہنے کا خدشہ ہے جو آلودگی کا باعث ہوتا ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube