Wednesday, September 22, 2021  | 14 Safar, 1443

آزادکشمیر انتخابات میں شکست، کیا ن لیگ میں پھوٹ پڑگئی؟

SAMAA | - Posted: Jul 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jul 26, 2021 | Last Updated: 2 months ago

Naeem Ashraf Butt Art Final

آزاد کشمير کے انتخابات ميں شکست نے ن ليگ ميں دراڑيں مزيد گہری کرديں۔ مفاہمتی گروپ کو مزاحمت کرنیوالوں پر تنقيد کا موقع مل گيا۔ شہباز شريف بھی اِسی مزاحمتی بيانيے کی وجہ سے انتخابی مہم ميں شريک نہيں ہوئے تھے۔

آزاد کشمیر انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 45 میں سے 25 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن بھی حاصل کرلی۔ پیپلزپارٹی کو 9 اور مسلم لیگ ن کو صرف 6 نشستوں پر کامیابی ملی۔

آزاد کشمیر انتخابات کے نتائج پر مسلم لیگ ن کے مفاہمتی اور مزاحمتی گروپ ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق اب پارٹی کے اندر سخت مؤقف کی بجائے مفاہمت کے حمايتيوں کو تقويت ملے گی، ایک مرکزی رہنماء کے مطابق مزاحمتی بيانيے کی وجہ سے متوقع شکست کے پيش نظر ہی شہباز شريف انتخابی مہم سے دور رہے۔

نون ليگ کے سيںئر رہنماء کے مطابق آزاد کشمير انتخابات کی تیاری کی گئی اور نہ ہی مناسب منصوبہ بندی، محض اليکشن ڈے سے چند روز قبل جلسوں اور مزاحمتی تقريروں پر اکتفا کيا گيا۔

سینئر رہنماء نے بتايا کہ پارٹی کے اہم عہديدار ہر جگہ مريم نواز کے پيچھے کھڑے نظر آئے ليکن کسي نے حلقوں ميں جاکر اپنا کردار ادا نہ کيا۔

نون لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے پارٹی کے اندر اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لیگی امیدواروں کو منفی ہتھکنڈوں سے ہرایا گیا۔

دوسری طرف ايک اور پارٹی رہنماء نے بتايا کہ آزاد کشمير کی پارٹی ميں 3 گروپس بنے تھے ليکن مرکزی قيادت ميں سے کسی نے انہيں جوڑنے کی کوشش نہ کی۔

لیگی رہنماء کے مطابق چند روز پہلے پارٹی کے اندر يہ بات ہوئی کہ صرف پاکستان تحریک انصاف نہيں بلکہ پيپلز پارٹی کی طرف بھی توجہ ديں اور يہ کہا گيا کہ پی پی 8 سے 9 نشستیں لے سکتی ہے ليکن اس بات کو بھی نظر انداز کرديا گيا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا حال يہ ہے کہ لاہور کی بھی دونوں سيٹيں ہار گئے ہيں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube