Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

ویڈیو:آزاد کشمیرالیکشن میں پولنگ اسٹیشنز میں تلخی،تکراراورپاتھا پائی

SAMAA | and - Posted: Jul 25, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jul 25, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات

آزاد کشمیر میں  25 جولائی کو الیکشن کے دوران حلقہ ايل اے 15 باغ میں پولنگ اسٹیشن نمبر 86 پی ٹی آئی اور پی پی کے کارکنوں کے درمیان کرسیاں چل گئیں۔ جس کے جو ہاتھ آیا، مخالفین کو دے مارا۔ فری اسٹائل ریسلنگ کے دوران ایک شخص جاں بحق جب کہ متعدد زخمی ہوئے۔ کوٹلی میں ہاتھ پائی کے دوران 2 افراد جاں بحق، جب کہ 10 زخمی ہوگئے

کشیدگی کے بعد کوٹلی میں آرمی پہنچ گئی۔ جب کہ پولنگ کے عمل کو روک دیا گیا۔ دوسری جانب ايل اے نو پولنگ اسٹيشن 18سے پی پی کے 2 پولنگ ايجنٹس لاپتا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں، جس کے بعد پیپلزپارٹی نے تحریری طور پر سیکریٹری الیکشن کمیشن کو آگاہ کردیا۔

وادی جہلم کے علاقہ چٹھیاں میں جماعت اسلامی کے کارکنان نے سيکيورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھگڑا  کیا، اس دوران کارکنوں کے تشدد سے 4 ايف سی اہلکار زخمی ہوگئے۔

کوٹلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کشمیر کے مرکزی رہنما اور امیدوار اسمبلی چوہدری محمد یاسین کی گاڑی پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کا حملہ الزام عائد کیا گیا ہے۔ پی پی کے مطابق ڑھوئی کے مقام پر ہونے والی فائرنگ سے گاڑی چھلنی ہوئی، جب کہ حملے میں چوہدری یسین بال بال بچے۔

چوہدری یاسین نے الیکشن کمیشن اور انتظامیہ سے واقعہ پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ پی پی رہنما چوہدری یاسین کے مسلح محافظوں کو بھی گرفتار کيا جائے گا۔ جب کہ اسلحہ لہرانے والے ہر شخص کو گرفتار کريں گے۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے -10 کے پولنگ اسٹیشن 91، 92، 93، 94، 95 اور 101 میں پی ٹی آئی کارکنان کی فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے 30 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیف پولنگ ایجنٹ ضرار خان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پی ٹی آئی کارکنان 2 دن قبل پی پی پی کارکن ضرار خان کے گھر پر بھی فائرنگ کرچکے ہیں۔

نکیال میں پولنگ اسٹیشن نمبر 100 گرلز مڈل اسکول نخنال میں تحریک انصاف کے کارکنوں پر پیپلز پارٹی کے کارکنان کے حملے اور شدید تصادم کے بعد پولنگ روک دی گئی۔

حویلی کہوٹہ ایل اے 17 میں بھی سياسی کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان احتجاج کے دوران ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے۔ جس کے بعد ناگا ناڑی میں اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے۔

باغ سے موصول اطلاعات کے مطابق حالات بدستور کشيدہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے زخمی کارکن کو ميڈيا سے بات چيت سے روک دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے ميڈيا سے بدتميزی بھی کی، جب کہ معاملہ دبانے کیلئے اہل کاروں کو میڈیا نمائندوں کو ہٹانے کیلئے ہدایات دیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube