Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

نورمقدم کیس: تھراپی ورکس اور مریض کے بیانات میں تضاد

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

یہ تصویر تھراپی ورکس کیجانب سے شیئر کی گئی تھی،جو اب ہٹا دی گئی ہے

اسلام آباد میں واقع تھراپی ورکس کا کہنا ہے کہ ظاہر جعفر ان کے ہاں بطور تھراپسٹ کام نہیں کرتا تھا، جب کہ اسی ادارے میں تھراپی سیشن لینے والی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ ظاہر جعفر سے تھراپی لے چکی ہیں۔

اسلام آباد میں قائم تھراپی ورکس نامی ادارہ ذہنی مسائل سے دو چار افراد کی مدد کے لیے رہنمائی اور ان افراد کی رہنمائی کرنے والوں کی ٹریننگ کا کام کرتا ہے۔ ورکس تھراپی کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی ملزم ظاہر جعفر کو ایسا کوئی اجازت نامہ نہیں دیا ، جس کے تحت وہ لوگوں کی رہنمائی (کاؤنسلنگ) کرسکے۔

واضح رہے کہ ملزم ظاہر جعفر کو عید الاضحیٰ کے پہلے روز سابق پاکستانی سفارت کار شوکت مقدم کی بیٹی کو قتل کرنے کے جرم میں 21 جولائی بروز بدھ گرفتار کیا گیا تھا۔

مقتولہ نور مقدم کی لاش اسلام آباد کے علاقے سیکٹر ایف سیون 4 کے ایک گھر سے برآمد کی گئی تھی۔ مقدمے کی درج ایف آئی آر کے مطابق نور کو تیز دھار آلے سے ذبح کرکے اس کا سر تن سے جدا کیا گیا تھا۔ ملزم سے جائے وقوعہ پر پڑا آلہٰ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

ملزم ظاہر جعفر اپنا خاندانی کاروبار سنبھالتے تھے، جو احمد جعفر اینڈ کمپنی کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ کپمنی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ خود چیف برانڈ اسٹریٹجسٹ کے عہدے پر فائز تھے، جب کہ وہ اسلام آباد کے اس ادارے تھراپی ورکس میں بحیثیت تھراپیسٹ کام کرتے تھے۔

تھراپی ورکس کا ظاہر جعفر سے متعلق اپنے بیان میں کہنا ہے کہ وہ ان کے اسٹوڈنٹ تھے۔ تھراپی ورکس 7 لیول پر مشتمل ایک کورس کراتا ہے، جس میں لیول 6 اور 7 میں کرنے والے ماسٹرز کے ہم پلہ ہوتے ہیں۔ تاہم لیول 4 میں کامیابی حاصل کرنے والے اسٹوڈنٹس بھی مریضوں کو کاؤنسلنگ کیلئے دیکھ سکتے ہیں۔

ادارے نے یہ بھی بتایا کہ ظاہر جعفر طالب کی حیثیت سے یو کے لیول 3 میں ستمبر 2015 میں داخلہ لیا اور ستمبر 2016 تک اس میں شامل رہے۔ اس کے بعد انہوں نے یو کے لیول 4 میں داخلہ لیا جو اکتوبر 2016 سے جون 2018 تک تھا، تاہم انہوں نے نہ کورس ورک مکمل کیا اور نہ ہی عالمی مضامین مکمل کیے۔ ایسے وہ افراد جو 4 لیول تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوتے یا اسے پاس نہیں کرپاتے ہم ایسے افراد کو کبھی بھی مریضوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔

انسٹا گرام اور فیس بک پر ادارے کی جانب سے جاری پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ہمارے مستند تھراپسٹ میں ظاہر جعفر کا نام شامل نہیں ہے۔ ادارے کے پروگرام ڈائریکٹر اور ٹوئٹر ایسے تمام طالب علموں کی جانچ پڑتال کرتے ہیں، اور اچھی طرح چھان بین کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں تھراپسٹ بننے کی اجازت دی جاتی ہے۔

ادارے کے اس بیان کے باوجود تھراپی ورکس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جو تصویر پوسٹ کی گئی، وہ لیول 5 کے طالب علموں کی تھی۔ جس میں ملزم ظاہر جعفر بھی شامل ہیں، جو ادارے کے پوسٹ کردہ بیان کے برعکس ہے۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ادارے نے اپنے صفحے سے تو یہ تصویر ہٹا دی، تاہم کچھ عقلمند لوگوں نے اس کا اسکرین شاٹ اپنے پاس محفوظ کرلیا۔

ادارے کا نام سامنے آنے پر بہت سے افراد نے تھراپی ورکس سے متعلق اپنے تجربات بھی شیئر کیے ہیں۔ سما ڈیجیٹل سے بات چیت میں ایک خاتون نے بتایا کہ وہ اس ادارے میں اپنے کسی جاننے والے کو سال 2019 میں ظاہر جعفر سے تھراپی کیلئے لے کر گئی تھیں، جس کا ان کے پاس ثبوت بھی ہے۔ وہ تھراپی سیشن کے دوران تمام وقت وہیں بیٹھ کر انتظار کرتی رہیں۔

سما ڈیجیٹل کو انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پاس وہ ایس ایم ایس بھی موجود ہیں، جس کے ذریعے انہوں نے ظاہر جعفر سے تھراپی سیشن کیلئے اپائٹمنٹ لیا تھا۔

ویب سائٹ کے مطابق تھراپی ورکس ایک کاؤنسلنگ کا ادارہ ہے، جو سائیکو تھراپی سینٹرل ایوارڈنگ بوڈی ( سی پی سی اے بی ) اور برٹش ایسو سی ایشن فار کاؤنسلنگ اور سائیکو تھراپی سے منسلک ہے۔

تاہم یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ خود سی پی سی اے بی کی ویب سائٹ پر تھراپی ورکس اسلام آباد کا ادارہ ان کے ذیلی ادارے کے طور پر درج نہیں ہے۔ جب کہ بی اے سی پی نے بھی اس ادارے سے منسلک ہونے کی تردید کی ہے۔

عدالت کے کمرہ 11 میں آج بروز ہفتہ 24 جولائی کو جب ملزم کو پہلی بار پیش کیا گیا تو تین سے چار منٹ ہی گزرے تھے کہ آن ڈیوٹی جج نے دو روز کا جسمانی ریمانڈ دے کر عدالت برخاست کر دی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube