Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

کراچی: ساحل پر پھنسے جہازمیں کیا کچھ خطرناک موجود ہے؟

SAMAA | - Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 24, 2021 | Last Updated: 2 months ago

بحری جہاز ہینگ ٹانگ 18جولائی کوکراچی پہنچا

کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کلفٹن سی ویو پر پھنسے غیر ملکی  مال بردار جہاز میں موجود سامان کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ دے دی ہے کہ اس میں ایسا کوئی مواد نہیں جو شہریوں کی جانوں کیلئے خطرہ بن سکے۔

حکام کے مطابق کراچی کے ساحل پر پھنسے ہینگ ٹانگ نامی بحری جہاز کے حوالے سے کے پی ٹی، نیوی اور میری ٹائم سیکیورٹی کے اعلی افسران ہفتہ کو سر جوڑ کر بیٹھے اور اس بات پر غور کیا کہ اس جہاز میں جو مال لدا ہوا ہے وہ خطرناک ہے یا بے ضرر، اور اس جہاز کو کون اور کیسے نکالے گا؟۔

یاد رہے کہ یہ مال بردار جہاز 2 ہزار 250 ٹن وزنی ہے اور عملے کی تبدیلی کیلئے 18 جولائی کو کراچی کی بندرگاہ آیا اور سمندر میں طغیانی اور تیز ہواؤں کے باعث ساحل کے بالکل نزدیک آجانے کے باعث پھنس کر رہ گیا۔ زمین میں بتدریج دھنسے ہوئے اس دیوہیکل بحری جہاز میں لاکھوں لیٹر ایندھن اور مختلف سامان سے بھرے کنٹینرز موجود ہیں اور اس کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں تیل رسنے کا بھی خدشہ برقرار ہے۔

سامان کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے اپنی رپورٹ دے دی ہے، جس کے مطابق اس مال بردار جہاز پر کوئی خطرناک مواد بشمول کیمیکل یا جراثیم کش ادویات نہیں جو کراچی کے شہریوں کیلئے کوئی مصیبت کھڑی کر سکیں۔

ہینگ ٹانگ پاناما میں رجسٹرڈ ہے اور اس کی مالک کمپنی کا تعلق سنگاپور سے ہے۔ یہ بحری جہاز ہانگ کانگ کراچی آیا تھا اور یہاں سے اسے استنبول جانا تھا، لیکن یہ یہاں سمندر کے کنارے کے بالکل نزدیک پھنس کر رہ گیا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک سے ڈیڑھ میٹر زمین میں دھنس چکا ہے اور اگر یہ زیادہ دیر دھنسا رہا تو ٹوٹ بھی سکتا ہے اور ایسی صورت میں اس میں لدا ہوا تیل پانی میں بہنے کا خدشہ ہے جو آلودگی کا باعث ہوتا ہے۔

جہاز کو نکالنے اور سمندر میں واپس لے جانے کی ذمہ داری ہینگ ٹانگ کی مالک جہاز راں کمپنی کی ہے اور جہاز کو ریسکیو اس کام کی ماہر کمپنی ہی کر سکتی ہے۔ مال بردار جہاز کی مالک کمپنی کے ایجنٹس بحریہ شپنگ لائن کمپنی نے سماء کو بتایا کہ جہاز نکالنے کیلئے اس کا رابطہ سالویج کمپنی ہوگیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس جہاز کو ریسکیو کرنے کے اقدامات انتہائی تیز رفتاری سے بھی کئے گئے تب بھی 10 روز سے پہلے کوئی حوصلہ افزاء پیشرفت نہیں ہوسکتی۔

بحری جہاز اور عملے کی حفاظت پاکستان نیوی کے سپرد کردی گئی ہے۔ جہاز کا عملہ کراچی میں ہی موجود ہے جو دن میں جہاز پر رہتا ہے اور رات کو ہوٹل چلا جاتا ہے۔ جہاز دیکھنے کیلئے عوام خاصی تعداد میں سی ویو جا رہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے بحری جہاز کی نگرانی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ساحل پرپھنسے بحری جہازکے ٹوٹنےکاخدشہ

جہاز کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ماحولیاتی نقصانات سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کرلی گئی ہے، جہاز سے تیل کے رساؤ کی صورت میں سمندر کو ممکنہ ماحولیاتی نقصان سے بچانے کیلئے اقدام کیے جا رہے ہیں۔

بحری جہاز کے اطراف مخصوص باڑ لگائی جا رہی ہے۔ بوم کہلانے والے یہ تیرتے بیرئیرز تیل کو سمندر میں پھیلنے سے روکتے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ اس باڑ کے باعث جہاز ٹوٹنے کی صورت میں اگر تیل بہتا ہے تو بوم اسے سمندر میں پھیلنے سے روک لے گا۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق  ہینگ ٹانگ کو رواں کرنے کیلئے نیشنل میری ٹائم ڈیزاسٹر کنٹنجنسی پلان (آلودگی) فعال کردیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ چیف آف دی نیول اسٹاف پاکستان میری ٹائم ڈیزاسٹر مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے آلودگی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے نیشنل کنٹنجینسی پلان کے پہلے اور دوسرے مرحلے کی فعالی کے احکامات جاری کئے۔

پاک بحریہ کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ ڈپٹی چیف آف دی نیول اسٹاف (آپریشنز) کی سربراہی میں میری ٹائم ڈیزاسٹر رسپانس کمیٹی کے اجلاس کا بھی انعقاد کیا گیا۔ جس میں چیئرمین کے پی ٹی، ڈی جی پورٹس اینڈ شپنگ اور دیگر ملکی میری ٹائم اسٹیک ہولڈرز کے نمائندگان بھی شریک تھے۔

ترجمان کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے جہاز کے اطراف انسداد آلودگی بیرئیر کی تنصیب جاری ہے جبکہ پاک بحریہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube