Monday, September 20, 2021  | 12 Safar, 1443

قاتل پاگل نہیں،وہ کمپنی کا ڈائریکٹر رہا،والد نور مقدم

SAMAA | - Posted: Jul 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago
Posted: Jul 23, 2021 | Last Updated: 2 months ago

پاگل کو کمپنی کا ڈائریکٹر لگانے پر والدین سے بھی تفتیش ہو

مقتولہ نور مقدم کے والد کا کہنا ہے کہ والدہ اب تک تسلیم نہیں کرسکیں کہ ان کی بچی دنیا میں نہیں رہی، عدالت سے گزارش ہے انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ انصاف ویسا ہی چاہیے جیسا ہمارے نبی کی عدالت اس وقت کرتی۔ پاگل کو کمپنی ڈائریکٹر لگانے پر والدین سے بھی تفتیش کا مطالبہ۔

اسلام آباد میں جمعہ 23 جولائی کو وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے مقتولہ نور مقدم کے والد اور سابق پاکستانی سفارت کار شوکت مقدم سے ان کی رہائش پر ملاقات کی۔ ملاقات میں شہباز گل نے نور مقدم کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ شہباز گل نے مقتولہ کیلئے دعائے مغفرت اور اہل خانہ کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔ شہباز گل کا کہنا تھا کہ اللہ نور مقدم کے والدین کو صبر جمیل عطاء فرمائے، شوکت مقدم نے پاکستان کی بہت خدمت کی ہے۔

مقتولہ کے والد شوکت مقدم

ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کا ریمانڈ بہت کم دیا گیا ہے۔ عدالتوں سے کہوں گا کہ اس کیس کو عام کیس کے طور پر نہ لیں۔ ملزم پاگل آدمی نہیں بلکہ برانڈ کا ڈائریکٹر ہے۔ میری بیٹی معصوم تھی اور جانوروں سے بھی محبت کرتی تھی۔ میں سفیر رہا ہوں، قوم کی خدمت کی ہے، وزیراعظم سے انصاف چاہتا ہوں۔ باپ ہوں انصاف نہ ملے تو چھوڑوں گا نہیں۔ پی ٹی ائی کا نام ہی انصاف کی جماعت ہے، پوری امید ہے کہ قانون سے انصاف ملے گا۔

انہوں نے بتایا کہ والدہ اب تک تسلیم نہیں کرسکیں کہ ان کی بچی دنیا میں نہیں رہی۔ نور کی والدہ کہ رہی تھیں میری بچی بہت معصوم ہے۔ بچی کو زبردستی رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر پولیس کو بروقت اطلاع ملتی تو شاید بچی کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔

شوکت مقدم نے پاکستانی عدالتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انصاف ویسا ہی چاہیے جیسا ہمارے نبی کی عدالت اس وقت کرتی۔

شہباز گل

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ذاتی طور پر اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد سے بریفننگ بھی لی ہے، وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ ٹیسٹ کیس ہے، کسی سے رعایت نہیں کرنی۔ متاثرہ خاندان کو ہر صورت انصاف ملنا چاہیے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہوں گا کہ اس کیس میں ہاتھ بٹائیں۔ حکومت نور کے اہل خانہ کیساتھ کھڑی ہے۔ عدالت سے گزارش ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ پولیس ملزم کو ای سی ایل میں ڈالنے کا بھی سوچ رہی ہے۔ شیری مزاری پولیس کیساتھ رابطے میں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شیخ رشید بھی پولیس کیساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ پولیس بہت سی معلومات کو ابھی سامنے نہیں لا رہی، جب تک پولیس تحقیقات مکمل نہیں کرتی تب تک سامنے نہیں لائے گی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube