Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

کراچی کے 3اسپتال ایم ٹی آئی ایکٹ کےتحت لاناچاہتے ہیں،ڈاکٹرفیصل

SAMAA | - Posted: Jul 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 17, 2021 | Last Updated: 2 months ago

معاون خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کل سینیٹ سے ایم ٹی آئی ایکٹ پاس ہوگیا اور اب ہم شیخ زید اسپتال لاہور،پمز اسپتال اسلام آباد سمیت کراچی کے 3 بڑے اسپتالوں کو اس فریم ورک میں لانا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 75 فیصد ہیلتھ کیئر ڈیلیوری نجی اسپتالوں کے ذریعے ہوتی ہے اور یہ ہر اس ملک میں ہورہا ہے جہاں سرکاری اسپتال ٹھیک طرح کام نہیں کررہا ۔

انہوں نے کہا ہیلتھ کارڈ کے اجراء کا مقصد بھی یہی ہے کہ جہاں عوام کو سرکاری اسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات میسر نہ ہو وہ اپنا علاج نجی اسپتالوں سے کراو سکیں۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کی دو وجوہات ہیں ایک بیڈگورننس اور دوسرا فنڈ کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے اسپتالوں کو ایک سیکرٹری اسپتال سے دور کسی آفس میں دیکھ رہا ہوتا ہے اور اس کے علاوہ بھی ان کو کام ہوتے ہیں تو یہ کام اس طرح ممکن نہیں ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان مسائل کو حتم کرنے کےلئے ایم ٹی آئی ایکٹ لایا گیا ہے تاکہ اسپتالوں کے اندر ایسی ایک نظام ہوں جو خود سے ان چیزوں کو منیج کرے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس دو ماڈل ہیں یا تو ڈاکٹرز کو اجازت دے کہ وہ اپنی پریکٹس بھی اسی اسپتال کے اندر کرے تاکہ اس کی پوری توجہ اسی ادارے پر رہے یا ڈاکٹرز کو اچھی سیلری دے تاکہ ان کو دوسری جگہ پریکٹس کی ضرورت نہ پڑے۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں جو ڈویلپمنٹ پروگرام میں اضافہ کیا گیا ہے اس کا زیادہ تر حصہ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ  ہوگا۔

انہوں نے کہا ملک میں نیوٹریشن پروگرام شروع کررہے ہیں جس پر 5 سال میں 2 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ پروگرام کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سرکاری اسپتالوں پر توجہ نہیں دیں گے بلکہ یہ دونوں کام ساتھ ساتھ چلیں گے۔

 ملک بھر میں جاری کرونا ویکسی نیشن کے حوالے سے فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ میرے علم میں نہیں کہ پاکستان میں اس سے پہلے کبھی اتنا منطم اور شفاف پروگرام ہوا ہو۔

فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ فائزر ویکسین بیرون ملک جانے والوں کو لگائی جارہی ہے اور اس کے علاقہ ان لوگوں کو لگائی جارہی ہے جن کو میڈیکلی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ویکسین کی ڈبلیو ایچ او نے منظوری دی ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں لیکن یہ نیچرل بات ہے کہ جس ملک میں جو ویکسین لگ رہا ہے وہ چاہتا ہے کہ وہاں آنے والے بھی وہی ویکسین لگائے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube