Monday, September 27, 2021  | 19 Safar, 1443

آزادکشمیر انتخابات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

SAMAA | - Posted: Jul 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

Senate-Elections

آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات 25 جولائی کو ہونے جا رہے ہیں۔ آزادکشمیر کی سیاست میں وفاق اور آزادکشمیر کی ریاستی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں موجود ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات میں کامیابی کے دعوے کر رہی ہیں۔ لیکن حالات کا جائزہ لیا جائے تو آزادکشمیر کی سیاست میں اگلی حکومت تحریک انصاف کی بنتی نظر آ رہی ہے۔
اس تجزیے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آزادکشمیر میں ہمیشہ وہی جماعت برسر اقتدار آتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو اور دوسری وجہ انتخابات سے قبل الیکٹیبلز جنہیں دوسرے الفاظ میں لوٹے کہا جاتا ہے سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی بھی ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات سن 2016 میں آزادکشمیر بھر سے ایک نشست بھی نہیں لی تھی لیکن اب حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے اس سے واضع ہوتا ہے کہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت کا آزادکشمیر میں کتنا اثرورسوخ ہوتا ہے۔

آزادکشمیر کے انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو کل 53 نشستیں ہیں جن میں سے 45 انتخابی حلقوں میں میں براہ راست انتخابات ہونے ہیں۔ ان میں سے آزادکشمیر کے اندر 33 اور 12 پاکستان میں مقیم مہاجرین کے حلقے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی 8 نشستوں میں 1 نشست علماء مشائخ، ایک اوورسیز نمائندے، ایک ٹیکنو کریٹ اور 5 خواتین کی نشستیں ہوتی ہیں۔

گزشتہ انتخابات میں آزادکشمیر میں مسلم لیگ نواز 31 نشستیں حاصل کر کے برسر اقتدار آئی تا ہم اس مرتبہ مسلم لیگ نواز اقتدار کی دوڑ سے تا حال باہر نظر آ رہی ہے جبکہ گزشتہ انتخابات میں آزادکشمیر سے ایک بھی نشست نہ لینی والی تحریک انصاف اقتدار میں آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مسلم لیگ نواز کے کئی وزرا اور منتخب اراکین اس مرتبہ تبدیلی کے ساتھ کھڑے ہیں ان حالات میں مسلم لیگ نواز 6 سے 10 نشستیں لینے کی پوزیشن میں ہے اورکم و بیش ایسے ہی حالات پاکستان پیپلز پارٹی کے ہیں۔

آزادکشمیر انتخابات میں وفاقی جماعتوں کےرہنما انتخابی مہم کے سلسلے میں آزادکشمیر میں موجود ہیں، مریم نواز جلسے کر رہی ہیں، بلاول بھی انتخابی مہم کے بعد امریکہ روانہ ہو گئے ہیں اور اب وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی آزادکشمیر پہنچیں گے جبکہ وفاقی وزرا پہلے سے آزادکشمیر کے اندر موجود ہیں تاہم آزادکشمیر کے مسائل، مسئلہ کشمیر پر روڈ میپ اور اقتدار میں آنے کے بعد خطہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی کسی بھی جماعت کی جانب سے سامنے نہیں آ سکی ہے بات وہی پرانے روایتی بیانات تک محدود ہے۔ آزادکشمیر کی ریاستی جماعتیں بھی انتخابی عمل کا حصہ ہیں تاہم وفاقی جماعتوں کے خطے کی سیاست میں آنے کے بعد وہ کمزور ہوتی جا رہی ہیں جموں کشمیر پیپلز پارٹی 1 نشست تک جبکہ مسلم کانفرنس تین چار نشستوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

آزادکشمیر میں اقتدار میں آنے کے لیے کسی بھی جماعت کو 23 نشستیں درکار ہیں اگر سیاسی جماعتوں کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت تحریک انصاف 15 سے 20 نشستیں لیتی نظر آتی ہے گو کہ تحریک انصاف کی جانب سے 25 نشستیں لینے کا دعوی کیا جا رہا ہے لیکن حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں جموں کشمیر پیپلز پارٹی ایک نشست پر مضبوط جبکہ مسلم کانفرنس 3 سے 4 نشستیں لینے کی پوزیشن میں ہے یہ دونوں جماعتیں انتخابات کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ ہوں گی اور حکومت کا حصہ ہوں گی۔
تحریک انصاف کو ٹکٹوں کی تقسیم اور سردار تنویر الیاس کی انٹری کے بعد گروپ بندی کا سامنا بھی ہے۔ سردار تنویر الیاس اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری دونوں ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں۔ تا ہم اس وقت تک بیرسٹر سلطان محمود چوہری مضبوط امیدوار ہیں کیونکہ سردار تنویر الیاس اس وقت حلقے کے اندر مشکلات کا شکار ہیں جس کی بنیادی وجہ سردار تنویر الیاس خان اپنے حلقے سے الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے اور حلقہ وسطی باغ سے اس وقت تحریک انصاف کے امیدوار ہیں جہاں تحریک انصاف کے پرانے کارکن اس فیصلے پر ناراض ہیں اور کسی صورت تنویر الیاس کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ تنویر الیاس کے مقابلے میں مسلم کانفرنس کے راجہ محمد یاسین خان حلقہ وسطی باغ میں اس وقت مضبوط ترین امیدوار ہیں اور تحریک انصاف کے سابق امیدوار جنہوں نے 11 ہزار ووٹ لیے تھے وہ بھی راجہ یاسین کی حمایت میں کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ تحریک انصاف اگر انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو پارٹی کے اندر موجود دھڑے اگلا چیلنج ہوں گے۔ بہرحال اب تک کی صورتحال میں تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube