Thursday, September 23, 2021  | 15 Safar, 1443

طالبان حمایت ریلی:انتظامیہ اورصوبائی وزیرداخلہ کا متضاد موقف

SAMAA | - Posted: Jul 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 15, 2021 | Last Updated: 2 months ago

ایک طرف تو کوئٹہ انتظامیہ نے شہر میں افغان طالبان کی حمایت میں ریلی نکالنے پر پولیس کو شرکاء کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے جبکہ دوسری جانب وزیر داخلہ بلوچستان نے اس ریلی کے انعقاد کو شرکاء کا حق قرار دے دیا ہے۔
گزشتہ روز کوئٹہ میں سریاب روڈ سے گوالمنڈی چوک تک افغان طالبان کے حق میں ریلی نکالی گئی تھی جس میں شرکاء نے امارت اسلامی افغانستان کے پرچم بھی اٹھائے ہوئے تھے جس پر کوئٹہ انتظامیہ نے کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخہ بلوچستان ضیاءاللہ لانگو کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاک افغان بارڈر کے پاکستانی علاقوں میں طالبان کے حمایتی موجود ہیں اور جس طرح کشمیریوں یا فلسطینوں کےحق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں اسی طرح لوگوں نے طالبان کے حق میں ریلی نکالی۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ ریلی نکالنا سب کا جہموری حق ہے، یہ کوئی غیرجمہوری عمل نہیں اور نہ ہی ریلی میں کوئی غیرقانونی یا ملک کے خلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر پر رہنے والے پاکستانی افغانستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور انہی لوگوں نے طالبان حکومت کے آنے پر اپنی خوشی کا ظہار کیا۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تو سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی طالبان کے حق میں باتیں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کل خود بھی چمن گئے تھے، افغان سرحد کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ آچکا ہے لیکن انہیں وہاں پاکستانی کرنسی ملنے کی اطلاعات کا علم نہیں۔
ضیاءاللہ لانگو کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ناراض بلوچوں سے بات چیت کے لیے شاہ زین بگٹی کو نمائندہ مقرر کردیا ہے اور ان کی کوئٹہ میں لوگوں سے ملاقاتیں بھی شروع ہوچکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے وہی ملک دشمن قوتیں ہیں جو پچھلے 20 سال سے ہمارے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال کررہی ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube