Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

پونچھ یونیورسٹی چھوٹا گلہ کیمپس تاحال نامکمل

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 3 months ago

سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ اور کویت فنڈ سے 2011 میں چھوٹا گلہ کیمپس کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوا 90 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود آج بھی یہ کیمپس نہیں بلکہ کوئی بھوت بنگلہ لگتا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ تمام تعمیرات کو ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا موقف ہے کہ آراضی کو مقدمات سے صاف کر کے دیا جائے تاکہ تعمیرات کو از سر نو شروع کیا جا سکے، ایرا سیرا اب موجود نہیں رہے جو تعمیراتی کام کے ذمہ دار تھے۔ وائس چانسلر اور یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی پالیسی وضح نہیں کی کہ اس کیمپس کا مستقبل کیا ہو گا جس کی 570 کنال زمین کے حصول میں جنرل رحیم خان مرحوم کا کلیدی کردار ہے۔ لہذا اس قومی منصوبے کی تکمیل کے لیے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا اور نہ ہی یونیورسٹی کی اس انتظامیہ کی موجودگی میں کوئی امید کی کرن باقی ہے۔
تین ٹھیکیداروں کو کام سے فارغ کیا گیا یا وہ بھاگ چکے لیکن اس چویے بلی کے کھیل کو 10 سال ہوئے لیکن معاملہ حل ہو کے نہیں دیتا۔ سن 2006 میں ‌ہونے والے معاہدے کے مطابق سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کو اس منصوبے کے لیے وسائل مہیا کرنے تھے جو مل بھی گئے، سن 2011 میں 5 ارب روپے تخمینی لاگت سے یونیورسٹی آف اے جے کے چھتر کلاس کیمپس اور لگ بھگ 3 ارب روپے سے چھوٹا گلہ کیمپس کی تعمیراتی کام شروع ہوا۔ مظفرآباد کیمپس 2018 میں‌ مکمل ہو چکا۔
ہم 7 جولائی 2021 کو وہاں پہنچے تو چھوٹا گلہ کیمپس میں بھوتوں کی موجودگی محسوس ہوئی جن کی دھکم پیل سے جسمانی نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ بڑھاپے کی ہڈیاں جڑنے میں نہ معلوم کتنا وقت لگے۔ صاحب اختیار اور یونیورسٹی کے کرتا دھرتا کو کسی نے شاید ان ارواح کا بتا دیا ہو گا تب ہی گزشتہ 12 سال کے دوران یہاں سے گزرنا بھی گوارا نہ کیا ۔ جب کہ 99 کروڑ روپے قومی سرمایا مٹی میں ملا دیا گیا۔ ہم نے بلا وجہ آسیب زدہ ماحول میں ٹانگ اڑائی جو ٹوٹ کے ہی نکلی۔
البتہ ٹانگ اڑانے اور تڑوانے کا یہ فائدہ ہوا کہ محترم بریگیڈیر زرین خان صدر ریاست جو چانسلر بھی ہیں نے منصوبے کے التواء کا نوٹس لے لیا ہے۔ کچھ صاحبان اس پر تلے ہوئے ہیں کہ چھوٹا گلہ کیمپس کے قصے کو اب بند ہونا چاہیے جو سدھن ایجوکیشنل کانفرنس کے واٹس اپ گروپ میں تب سے موضوع بحث بنا ہوا ہے جب سے ڈاکٹر غلام حسین خان نے اپنے اسپتال کے بستر پر پلستر کرتے میری ٹوٹی ٹانگ کی تصویر شیئر کی۔
ان زعماء کا خیال ہے کہ چھوٹا گلہ کیمپس پر مٹی پاو۔ سب اپنے لوگ ہیں جن پر ذمہ داری تھی۔ ممکن ہے کچھ لوگ یونیورسٹی کے وسائل سے فیض یاب ہو رہے ہوں تب ہی خاموش رہنے کی ترغیب دیتے ہوں ورنہ یہ کیسی سول سوسائٹی ہے جو قیادت اور اداروں کی تعلیم کے بارے میں مجرمانہ غفلت پر خاموشی کا مشورہ دیتی ہے۔ صاحب بصیرت لوگ بھی غلطیوں اور کوتاہیوں پر خاموش رہیں گے تو غلطیوں کی نشاندہی اور رہنمائی کون کرے گا۔ کوئی پوچھے بھی تو کہ 12 برس سے یہ قومی منصوبہ لٹکا ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کی ذمہ داری تھی لیکن مسند نشین رہنے والوں میں سے ہی کوئی ہو گا جس سے سوال کرنے سے روکنا خود جرم کے ارتکاب کے برابر ہے۔ چانسلر اور وائس چانسلر بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ یہ انتظامیہ کی ہی ذمہ داری ہے اور یونیورسٹی انتظامیہ کے یہ سربراہ ہیں۔ کوئی جتنی بھی مٹی پائے معاملہ توجہ طلب ہے۔
ماضی کے 12 سال جن میں صدر ریاست کے 5 سال بھی شامل ہیں بھولنے اور آگے بڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس کی ضمانت کون دے گا کہ چانسلر صاحب کے نوٹس کا کچھ نتیجہ نکلے گا یا 7 نومبر 2020 کے اعلان کی طرح یہ اعلان ہی رہے گا۔ صدر ریاست سردار مسعود خان نے اس دن گھائیگہ میں تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پونچھ یونیورسٹی کے چھوٹا گلہ کیمپس کی تعمیر کا کام جلد مکمل کر کے یہاں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے وہ خود ذاتی دلچسپی لے کر اس کیمپس کو جلد مکمل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اُن کا ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مسلسل رابطہ ہے۔ لیکن ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود چھوٹا گلہ کیمپس کا ملبہ جوں کا توں پڑا ہوا ہے۔ان کی بحثیت صدر چانسلر یونیورسٹی 5 سال کی مدت مکمل ہونے میں چند ماہ باقی ہیں۔ خان صاحب قابل اور شاندار بیورو کریٹ منجھے ہوئے سفارت کار ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اٹھانے میں بہتر کارگزاری کی ہے لیکن لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ عوامی مسائل میں ان کی دلچسپی کم رہی ہے۔
مانا کہ صدر کا عہدہ آئینی ہے انتظامی نہیں لیکن یہاں سوال بطور چانسلر کیا جاتا ہے۔جب کہ یونیورسٹی کے امور کی ذمہ داری خالصتا چانسلر ہی کی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور سے تعلق رکھنے والے وائس چانسلر کا انتخاب بھی انہی کا ہے پھر پونچھ یونیورسٹی چھوٹا گلہ کیمپس اس کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ اس مسئلہ میں کسی نہ کسی حد تک کوتاہی ہوئی یونیورسٹی انتظامیہ سے یہ پوچھنا کس کی ذمہ داری ہے کہ ہاہر ایجوکیشن کمیشن کو زمین خالی کر کے کون دے گا اور عدالت میں گئے ٹھیکیدار سے بات چیت کر کے مسئلے کا حل کون نکالے گا۔ ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا وائس چانسلر۔ اگر وائس چانسلر سے کسی مسلے میں کوتاہی ہوتی ہے تو اس سے جواب طلبی کس کی ذمہ داری ہے۔
عوام کو نہیں معلوم کہ اس منصوبے کے اجراء میں کیا مسائل اور کتنی دشواریاں ہیں ۔انہیں تو طویل عرصے سے التواء میں پڑے اس قومی منصوبے کی تکمیل چاہیے۔ یقیناً مسائل ہیں ورنہ یہ صورت حال کیوں پیدا ہوتی اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وائس چانسلر صاحب نے کچھ کوشش بھی کی لیکن پیچیدہ اور الجھے ہوئے مسائل کو حل کرنا اتھارٹی کی ہی ذمہ داری ہے جو اس مقصد کے لئے متعین ہوتی ہے۔ اگر کوشش کے باوجود بھی مسلہ حل نہ ہو تو غفلت یا نالائقی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہو چکا ہوتا تو خوبصورت، صحت افزاء مقام پر پونچھ یونیورسٹی اپنے شاندار مستقبل کا آغاز کر چکی ہوتی۔ لہذا لوگوں کی اس رائے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ جناب چانسلر، وائس چانسلر اور مرضی کے رکھے سنڈیکیٹ ممبران اپنی یہ ذمہ داری پوری کرنے میں کمہ حقہ کامیاب نہیں ہوئے۔
معاشرے کی اجتماعی بے حسی کی اس سے بڑی کیا مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ ڈویژن کی واحد دانش گاہ چھوٹے سے شہر کے کونے کونے میں بکھری پڑی ہے کوئی ڈیپارٹ کسی کونے میں، کوئی کسی سیوریج ملے برساتی نالے کے کنارے کسی پرائیویٹ عمارت میں، کوئی کسی کنٹینر میں اور کوئی بس اسٹاپ کے پاس کسی گھر میں۔ یونیورسٹی نہ ہوئی ٹیوشن سینٹر ہوگیا۔ بارہ سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود 570 کنال اراضی جنگ زدہ ماحول اور کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہے۔ کھلے آسمان تلے پڑا میٹریل ضائع اور خورد برد ہورہا ہے۔ آج تک کسی ذمہ دار فرد نے اس کا نوٹس نہیں لیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران کسی ذمہ دار فرد کو اس کا معائنہ کرتے نہیں دیکھا۔ جیسے یہ لوٹا ہوا مال ہو اور اسے بے رحمی سے خورد برد کیاجارہا ہے۔
دوسری جانب کرائے پر حاصل کی گئی عمارتوں کا کرایہ بچوں سے وصول کیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے پونچھ یونیورسٹی کی فیس پاکستان کی پرائیویٹ یونیورسٹی سے بھی زیادہ اور بچوں اور ان کے ورثاء پر غیر ضروری بوجھ ہے۔ ہم نا شکرے ہیں اللہ تعالی کی نعمتوں کے جو ہمیں مل جائے اسے سنبھال کر استعمال نہیں کر سکتے ۔ یونیورسٹی کسی بھی شہر کے لیے نعمت ،حسن اور چہرہ ہوتی ہیں ۔ پونچھ یونیورسٹی کی بسیں راولاکوٹ کی سڑکوں پر گھومتے راولاکوٹ والوں کی عزت و وقار کو اونچا کرتی ہیں۔ راولاکوٹ کی علمی مرتبہ کو بلند کرتی ہیں ۔ چھ ہزار سے زائد تعلیم یافتہ مستقبل کے لیڈر راولاکوٹ کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی صورت میں ہیں۔ جب یونیورسٹی بند ہوتی ہے راولاکوٹ ویران لگنے لگتا ہے۔ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے کہ 13 سال کے دوران ہم ان بچوں کو کیمپس نہ دے سکے۔ یہاں کے لیڈر اور بیورو کریٹ اپنی یونیورسٹی کا کیمپس تک تعمیر نہیں کر سکے جس کی کل لاگت کے وسائل بھی بین الاقوامی امداد کی صورت میں موجود تھے۔ اس سے زیادہ بے حسی خود غرضی اور اپنی سوسائٹی سے عدم دلچسپی کیا ہو سکتی ہے جو راولاکوٹ کے سیاست دان اور بیوروکریسی میں دیکھنے میں آئی۔
چھوٹا گلہ یونیورسٹی کیمپس کے لیے مختص 3 ارب روپے کا نہ معلوم کیا بنا لیکن تیسرا ٹھیکہ منسوخ ہونے اور اس پر صاحب اقتتدار افراد کی سرد مہری علم دوستی نہیں۔ یہ کیا ہوا، کیوں ہوا، کیسے ہوا نہ کوئی ذمہ دار سامنے آتا ہے نہ ذمہ داری لینے کو کوئی تیار ہے اور نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔
اس وقت پونچھ حلقہ 4 سے جو لوگ بھی قیادت کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں ان سب کا تعلق ٹاؤن سے ہے ان سے کوئی تو سوال کرے کہ کمیونٹی کے لیے اس شہر کے لیے آپ کی کیا خدمات ہیں۔ چھوٹا گلہ کیمپس کے التواء کے حوالے سے آپ نے کبھی کوئی آواز اٹھائی ہو۔ سیوریج لائن 6 انچ کی ڈالی گئی، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کا کوئی نظام نہیں، پانی کا مسئلہ حل نہیں ہو رہا۔ آپ ووٹ کس خدمت کے بدلے مانگ رہے ہیں جو لیڈر اپوزیشن درست نہیں کر سکتا حکومت کیسے اچھی کر سکتا ہے۔ لیکن صد افسوس کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی سننے والا نہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube