Tuesday, January 25, 2022  | 21 Jamadilakhir, 1443

خانیوال: تیزاب گردی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

SAMAA | - Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Jul 14, 2021 | Last Updated: 6 months ago
MANDI BAHAUDDIN, ACID ATTACK,

فائل فوٹو

خانیوال ميں تقريباً ڈيڑھ ماہ قبل تیزاب گردی کا شکار ہونیوالی خاتون اسپتال ميں زندگی کی بازی ہار گئیں۔ اہل خانہ کے مطابق تیزاب ماموں زاد نے پھینکا تھا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کے چند روز بعد چھوڑ دیا تھا۔

خانیوال میں تیزاب گردی کی شکار خاتون کے بھائی نے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل (4 جون کو) بہن پر ماموں زاد نے تیزاب پھینکا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ تک ملتان کے نشتر اسپتال میں موت سے لڑنے والی خاتون بالآخر دم توڑ گئی۔

متوفیہ خاتون کے بھائی نے الزام لگایا ہے کہ خانیوال پولیس نے تیزاب پھینکنے والے ملرم سجاد کو گرفتار کیا اور چند روز بعد ہی چھوڑ دیا تھا۔

پولیس نے خاتون کے بھتیجے فضل کو گرفتار کیا تاہم انسداد دہشت گردی میں مقدمے کی سماعت کے دوران اہل خانہ کی جانب سے پولیس پر الزام لگایا گیا کہ وہ معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے اور فضل کو بے بنیاد گرفتار کیا گیا ہے، جس پر عدالت نے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

خاتون کا ڈسٹرکٹ اسپتال خانیوال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا جس کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی۔

تیزاب سے جھلسنے والی خاتون کے اہل خانہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایف آئی آر

تھانہ صدر خانیوال میں تعذیرات پاکستان کی دفعہ 336 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، خاتون کے بھائی اور درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یاسمین جو 3 بچوں کی ماں ہے، اپنے گھر میں سوئی ہوئی تھی، رات کے اندھیرے میں سجاد ولد محمد صادق نے اپنے دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر خاتون پر تیزاب پھینکا، جنہیں پکڑنے کی کوشش کی گئی تاہم وہ جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے، ملزم سے زمین کا تنازع چل رہا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یاسمین کو شدید زخمی حالت میں پہلے خانیوال اسپتال لے جایا گیا جہاں سے ڈاکٹر کی ہدایت پر اسے ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کردیا گیا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube